شام غزل

 شام غزل


نقش یادوں کے مٹاتی ھے تو رو پڑتی ھے

وہ میرے خط جو جلاتی ھے تو رو پڑتی ھے


وہ کئ پہر جو سوتی تھی میرے سینے پر

رات آنکھوں میں بتاتی ھے تو رو پڑتی ھے


لوگ پوچھیں جو کبھی گہری اداسی کا سبب

بات لوگوں سے چھپاتی ھے تو رو پڑتی ھے


یونہی بیٹھے ہوئے یادوں کی کتابوں سے

وقت کی دھول اڑاتی ھے تو رو پڑتی ھے


یاد کرتی ھے مجھے ٹوٹ کر اس لمحے وہ

شام چہرہ جو دکھاتی ھے تو رو پڑتی ھے


وہ بڑے ضبط بڑے حوصلے والی لڑکی

غم کو تحریر بناتی ھے تو رو پڑتی ھے


جو پھول اسے پیار سے بھیجے تھے کبھی

ان کو بالوں میں سجاتی ھے تو رو پڑتی ھے

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟