سال 2025ء :مسلمانوں کے مصائب کا سلسلہ دراز


فہیم احمد 

 ہندوستان کی مسلم کمیونٹی اور اس کی قیادت کے لیے سال 2025 ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ سال رہا اور یہ چیلنجزکسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ زندگی کے ہرشعبے میں درپیش آئے ۔ پورے سال مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی قیادت ان کے تدارک کے لیے جدوجہد کرتی نظرآئی لیکن کوئی تسلی بخش لائحہ عمل وضع کرنے میں ناکام رہی۔ قیادت کا امتحان تو مشکل حالات میں ہوتا ہے کہ وہ ایسے موقع پر کس طرح کے فیصلے کرتی ہے ۔

قیادت ایک مشترکہ نقطہ نظر یا مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے افراد یا گروپوں کوتحریک دینے ، اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت کانام ہے ، جو سماجی اثر و رسوخ کے ایک ایسے عمل کے طور پر کام کرتی ہے ، جو حوصلہ افزائی، واضح مواصلت، فیصلہ سازی اور تعاون کوفروغ دے کر اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھاتی ہے ، یہ محض کسی خطاب کے حصول یا قائد بننے کا نام نہیں ہے ۔ قائد یا رہنما سمت متعین کرتے ہیں، اعتماد پیدا کرتے ہیں، مسائل کو حل کرتے ہیں، دوسروں کو بااختیار بناتے ہیں اور چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں، عام انتظامی امور سے ہٹ کربالکل الگ طرح کے کام کو انجام دیتے ہیں۔ 

اگران اصولوں پر پرکھا جائے تو شایدہی موجودہ ہندوستان میں کوئی مسلم رہنما،خواہ وہ سیاسی ہویا مذہبی ، پوری طرح کھرااترتا ہو۔ جب کسی قوم کی قیادت ہی انتشار کا شکار ہو تو اس قوم کے افراد کا گھپ اندھیرے میں بھٹکنا تقدیر بن جاتی ہے ۔ یہ بات تلخ لیکن حقیقت پر مبنی ہے کہ آزادی کے بعد مسلم کمیونٹی اپنے مخلص رہنما کو تلاش کررہی ہے ،ایسا رہنما جو اس کے دکھ درد کو سمجھے ،اس کے غموں کومداوا کرے ، اپنے مذہب اور عقیدے پر عمل پیرارہتے ہوئے اسے کامیابی کے حصول کا گُرسکھائے اور ہرقدم پر اس کی رہنمائی کرے ۔ 

صدیوں سے مسلمانوں نے پوری دنیا میں بہت سے نشیب وفراز اور ظلم وستم بھی دیکھے ہیں اور برسوں سے اپنے ملک میں مسلم کش فسادات بھی دیکھے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایسے واقعات ہیں، جن سے روگردانی نہیں کی جاسکتی لیکن ان نامساعد حالات میں مسلمانوں نے پہلے بھی دانشمندی سے کام لیاتھا اور آج بھی حالات عقل ودانشمندی سے کام لینے کے متقاضی ہیں ۔

 ایک طرف تو مسلم آبادی کی تعداد تقریباً 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 14-15 فیصد ہے ، لیکن دوسری طرف سیاسی نمائندگی، سماجی مسائل اور قانونی چیلنجز نے مسلم قیادت کو شدید دباؤ میں رکھا۔ مجموعی طور پر، 2025 ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی مشکل اور آزمائش کا سال ثابت ہوا۔ ایک طرف، مذہبی آزادیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ، پرتشدد واقعات میں اضافہ اور امتیازی قوانین نے کمیونٹی کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا، وہیں دوسری طرف، تعلیم، کاروبار اور بعض سیاسی میدانوں میں کامیابیاں بھی سامنے آئیں۔ جہاں ہندو قوم پرستی کی لہر نے اس کی شناخت کو چیلنج کیا، وہیں کمیونٹی کی داخلی طاقت نے بیک وقت نئی راہیں کھول دیں۔ تعلیم کے میدان میں مسلمان پہلے ہی پسماندہ تھے اور 2025 میں یہ فرق مزید واضح ہوگیا۔ اعلیٰ تعلیم، مسابقتی امتحانات اور روزگار کے مواقع میں شرکت مسلسل چیلنجز کا باعث بنی۔ بہت سے نوجوان بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کو واحد قابل عمل راستہ سمجھنے لگے ۔ 

سال بھر ہندوستانی مسلمان ایک ایسے ماحول میں رہے ، جہاں آئینی حقوق کاغذ پر موجود تھے ، لیکن زمین پر ان کا تحفظ مسلسل جانچ پڑتال میں رہا۔ مذہبی تشخص ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا اور مسلمانوں کی موجودگی خواہ عبادت گاہوں، لباس، نام یا آراء میں ہو، اکثر دفاعی انداز میں دکھائی دیتی ہے ۔ 

یہ سال وقف ترمیمی بل کی منظوری، بہار اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹ کی تقسیم اور نفرت انگیز تقریروں اور تشدد کے واقعات سے بھرا پڑا رہا۔ 

2025 میں مسلمان کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع کرتے نظر نہیں آئے ، پھر بھی اس سال نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کیا کہ ہندوستانی سیاست میں ان کی پوزیشن فیصلہ کن ووٹروں کی بجائے ایک پسماندہ گروہ کی طرح بڑھ رہی ہے ۔ پارلیمنٹ ہو یا ریاستی اسمبلی، مسلمانوں کی نمائندگی عددی اور اثر و رسوخ دونوں لحاظ سے محدود رہی۔ کمیونٹی کے لیے دستیاب انتخاب اکثر دو انتہاؤں تک محدود نظر آتے ہیں یا تو خاموش رہیں یا احتجاج، بعد میں اکثر ایف آئی آر، گرفتاریوں اور عوامی مذمت کی قیمت پر آتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی رہیں، پھر بھی ان کے اصل مسائل یعنی تعلیم، روزگار، سلامتی اور مساوی مواقع پالیسی سازی میں پسماندہ رہے ۔ مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کا رویہ شدید مایوس کن ثابت ہوا۔ انتخابی موسم کے دوران مسلمانوں سے کیے گئے وعدے مہمات کے ختم ہونے کے بعد تیزی سے بھلا دیئے گئے اور کمیونٹی کے بنیادی خدشات کسی بھی بڑی قومی بحث میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ نتیجتاً مسلمانوں نے ایک بار پھر اپنے آپ کو سیاسی ترجیحات کی فہرست میں پست پایا۔ 

اپریل میں، وقف (ترمیمی) ایکٹ کی منظوری نے مسلمانوں کی مذہبی خود مختاری کو ایک اور دھچکا پہنچایا۔ یہ قانون وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور حکومتی مداخلت کی اجازت دیتا ہے ، جسے مسلم تنظیموں نے ان کی جائیدادوں پر قبضے کی سازش قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ اس بل کی منظوری سے مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔ مسلم تنظیموں،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) اور اپوزیشن پارٹیوں نے اسے مسلم حقوق پر حملہ قرار دیااور کئی رہنماؤں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بل مسلم قیادت کو متحد کرنے میں ناکام رہا، بلکہ مزید تقسیم پیدا کر گیا۔اگرچہ اس قانون سازی کا مقصد وقف املاک کے انتظام میں اصلاحات لانا ہے ، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مسلم مذہبی اداروں کی آزادی کو نقصان پہنچتا ہے ۔ جس سے مسلمانوں کو ایک بار پھر احساس ہوا کہ ان کے مذہبی اداروں کے بارے میں فیصلے ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ 

یہاں مختصرا سی اے اے کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ گزشتہ سال 11 مارچ، 2024 کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے نفاذ نے ایک اور اہم دھچکا پہنچایا۔ قانون، جو مسلمانوں کو چھوڑ کر پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کے لیے شہریت کی سہولت فراہم کرتا ہے ، نے کمیونٹی کے اندر خوف پیدا کیا۔ بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جانے لگا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آرسی ) کے ساتھ مل کر سی اے اے ممکنہ طور پر لاکھوں مسلمانوں کو بے وطن بنا سکتا ہے ۔

نومبرمیں بہار اسمبلی انتخابات مسلم قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئے ۔ بہار میں مسلم آبادی تقریباً 18 فیصد ہے ، لیکن اسمبلی میں مسلم ارکان کی تعداد صرف 11 رہی، جو آبادی کے تناسب سے تین گنا کم ہے ۔ یہ آزادی کے بعد سے مسلم سیاسی اثر و رسوخ کی سب سے کم سطح ہے ۔ سیمانچل علاقے میں، جہاں مسلم ووٹرز کی تعداد زیادہ ہے ، ووٹ تقسیم ہو گئے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم ) نے کچھ کامیابی حاصل کی اور 5 سیٹیں جیتیں، لیکن مجموعی طور پر مسلم امیدواروں کی شکست نے کمیونٹی میں مایوسی پیدا کی۔ اسد الدین اویسی کی قیادت میں اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل میں اپنی پوزیشن مضبوط کی، لیکن کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں سے مسلم ٹکٹوں کی کمی نے ووٹ کو منتشر کر دیا۔ پولرائزیشن اور ہندو-مسلم تقسیم کی سیاست نے این ڈی اے کو فائدہ پہنچایا، جہاں مسلم اکثریتی حلقوں میں بھی بی جے پی اتحاد کی جیت ہوئی۔ یہ صورتحال یوپی اور دیگر شمالی ریاستوں میں بھی نظر آئی، جہاں مسلم قیادت کا روایتی ماڈل کمزور پڑ رہا ہے ۔ 

دسمبر میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نے مسلمانوں میں مزید تشویش پیدا کردی۔ کئی ریاستوں میں، انہیں ''غیر قانونی تارکین وطن'' کا لیبل لگا کر ووٹر لسٹوں سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں، جس نے ہندوستان کی جمہوریت کی صحت پر سنگین سوالات اٹھائے ۔ یہ سیاسی پیش رفت مسلمانوں کے لیے نقصان دہ تھی کیوں کہ ان کی شہریت اور مذہبی حقوق دونوں کو نقصان پہنچا۔ 

2025 میں کئی ریاستوں میں بلڈوزر آپریشن جاری رہا۔ اگرچہ عدالتی جانچ پڑتال اور تنقید میں اضافہ ہوا، لیکن مسلمانوں میں یہ تاثر برقرار رہا کہ یہ کارروائیاں اکثر اجتماعی سزا کے مترادف ہوتی ہیں۔ یہ احساس کہ پورے محلے یا خاندان کو کسی فرد کے مبینہ جرائم کے لیے سزا دی جا رہی ہے ، انصاف کے بنیادی اصولوں کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود، کئی ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو "غیر قانونی" ہونے کا بہانہ بنا کر منہدم کر دیا گیا۔ "اجتماعی سزا" کے اس عمل نے عالمی سطح پر تنقید کی، پھر بھی حکومت بے حرکت رہی۔ 

مسلمانوں کے حوالے سے 2025 میں مین اسٹریم میڈیا کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مسلمانوں کے مسائل، ان کے مصائب یا ان کی سماجی و اقتصادی پسماندگی پر سنجیدہ اور متوازن گفتگو بہت کم ہوتی تھی۔ اس کے برعکس جب بھی کسی واقعہ کو مسلمانوں سے جوڑا گیا تو اسے اکثر سنسنی خیز بنادیا گیا۔ اس کی وجہ سے مسلمان تیزی سے متبادل میڈیا پلیٹ فارموں بالخصوص سوشل میڈیا کی طرف متوجہ ہوئے ۔ 

دریں اثناء، بہار میں ایک انتہائی شرمناک اور ذلت آمیز واقعہ نے مسلم خواتین کی عزت اور وقار کو للکارا ہے ۔ 15 دسمبر 2025 کو، پٹنہ، بہار میں ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے عوامی طور پر ایک مسلم ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب کھینچتے ہوئے نظر آئے ۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا۔ مسلم تنظیموں، حزب اختلاف کی جماعتوں، حقوق نسواں کے کارکنوں اور رائے عامہ نے یکساں طور پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلم خواتین کی ذاتی آزادی، مذہبی حقوق اور وقار پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ 

جمعیت علمائے ہند، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، جمعیۃ علماء ہند اور دیگر تنظیموں نے معافی اور کارروائی کا مطالبہ کیا، تاہم نتیش کمار کی جانب سے پچھتاوے پر مبنی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ واقعہ مسلم کمیونٹی کے اندر بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور خواتین کی شناخت پر حملوں کی ایک اور واضح مثال بن گیا۔ 

سال کے اختتام یعنی کرسمس کے موقع پر بھی ملک کے مختلف حصوں میں کچھ نازیبا واقعات پیش آئے اور اپنا تہوار منانے رہے ۔ عیسائیوں کی تقریب میں مبینہ طورپر کچھ شرپسندوں نے خلل ڈالا اور انھیں ہراساں کیاگیا۔ گرچہ یہ واقعہ عیسائیوں کے خلاف پیش آیا لیکن اس سے ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیداہونا لازمی ہے ۔

مختصر یہ کہ 2025 ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اہم نقصان کا سال تھا۔ جانیں ضائع ہوئیں، مذہبی آزادی پر حملے تیز ہو گئے ، سماجی تحفظ کمزور ہو گیا، سیاسی غفلت برقرار رہی اور معاشی پسماندگی مزید گہری ہو گئی، جس سے کمیونٹی تیزی سے نازک اور غیر یقینی صورتحال میں پڑ گئی۔ سال نہ صرف روزمرہ کی زندگی میں مشکلات بلکہ جذباتی اور فکری چیلنجوں سے بھی گزرا۔ مسلمانوں نے اپنے ، اپنے حقوق اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کی، لیکن اس کے نتائج اکثر محدود اور نامکمل تھے ۔ 

سال 2025ء کے اختتام پر مسلم قیادت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے ۔ صف بندی ، قانونی چیلنجز اور ووٹ کی تقسیم نے کمیونٹی کو کمزور کیا، لیکن تعلیم، معیشت اور نوجوانوں کی شمولیت سے امید کی جا سکتی ہے ۔ مسلم لیڈرز کو متحد ہو کر سیکولر ازم، ترقی اور حقوق کی جدوجہد پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر ان چیلنجز کا سامنا نہ کیا گیا تو سیاسی حاشیہ نشینی مزید بڑھ سکتی ہے ۔ نئے سال میں امید ہے کہ مسلم قیادت نئی حکمت عملی سے ابھرے گی اور ہندوستان کی تکثیریت پسندی کو مضبوط کرے گی۔ 

مجموعی طورپر دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر اپنی آواز کو مؤثر اور بامعنی طور پر پہنچانا ہوگا۔ آئینی حقوق کاغذ پر موجود ہیں، ان کے تحفظ کے لیے مسلسل کوشش، افہام و تفہیم اور اجتماعی تنظیم کی ضرورت ہے ۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو پسماندگی، امتیازی سلوک اور عدم تحفظ مزید پھیل سکتا ہے ۔ تاہم، اگر کمیونٹی تعلیم، قانونی آگاہی، معاشی خود انحصاری، اور منظم سیاسی شرکت میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرے تو یہ اپنی عددی طاقت کو حقیقی اثر و رسوخ میں بدل سکتی ہے لیکن اس کے لیے فعال قیادت کا ہونا ضروری ہے ، جو ملت کے تئیں مخلص ہو اور جس کے اندرخدمت کا بے لوث اور اٹوٹ جذبہ ہو۔ 

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟