ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے سال 2025 تاریخی اور ناقابلِ فراموش سال ثابت ہوا
ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم آج دنیا کی مضبوط اور باوقار ٹیموں میں شمار کی جاتی ہے ۔ اس ٹیم نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کی بلکہ لاکھوں لڑکیوں کے لیے کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کی راہیں بھی ہموار کیں۔ کھیلوں کی تاریخ میں کچھ سال ایسے ہوتے ہیں جو صرف گزرتے نہیں بلکہ انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ سال 2025 ہندوستانی کی خواتین کرکٹ کے لیے ایک ایسا ہی سنگِ میل ثابت ہوا۔ یہ وہ سال ہے جب ہندوستان کی بیٹیوں نے اپنے بلے کی گونج سے دنیا کو حیران کر دیا اور ایک ایسی تاریخ رقم کی جس پر آنے والی نسلیں فخر محسوس کریں گی۔ ہندوستان کی خاتون کرکٹ ٹیم نے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ کو 52 رن سے شکست دے کر عالمی کپ جیت کر تاریخ رقم کردی تھی۔
ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے طویل عرصے تک مردوں کی کرکٹ کے سائے میں سفر کیا۔ کئی بار فائنل کی دہلیز تک پہنچ کر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن سال 2025 کا سورج ایک نئی امید لے کر طلوع ہوا۔ اس سال ہندوستانی کھلاڑیوں نے صرف میچ نہیں جیتے بلکہ ان تمام دقیانوسی تصورات کو بھی شکست دی جو خواتین کو کھیلوں میں محدود سمجھتے تھے ۔ جب ٹیم نے ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائی، تو وہ صرف ایک کپ نہیں تھا بلکہ لاکھوں لڑکیوں کی محنت اور قربانیوں کا ثمر تھا۔
ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی تاریخ جدوجہد سے بھرپور رہی ہے ۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب خواتین کرکٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، اس وقت بھی چند پرعزم کھلاڑیوں نے ملک کی نمائندگی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ بی سی سی آئی کی سرپرستی، بہتر سہولیات اور میڈیا کوریج نے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ایک دور وہ تھا جب ہندوستانی خواتین کرکٹرز کو اپنی شناخت کے لیے لڑنا پڑتا تھا۔ متھالی راج اور ڈیانا ایڈولجی جیسی عظیم کھلاڑیوں نے وہ دن بھی دیکھے جب انہیں اپنی جیب سے پیسے لگا کر ٹورنامنٹ کھیلنے جانا پڑتا تھا۔ متھالی راج اکثر یاد کرتی ہیں کہ کیسے وہ ٹرین کے جنرل ڈبوں میں فرش پر بیٹھ کر سفر کرتی تھیں تاکہ میچ کے مقام تک پہنچ سکیں۔ تب نہ میڈیا کی کوریج تھی اور نہ ہی کوئی اسپانسر، بس ایک ضد تھی کہ "ہندوستان کا پرچم بلند کرنا ہے "۔
ہندوستانی ٹیم کی مشہور اسپنر پونم یادو کی کہانی دل کو چھو لینے والی ہے ۔ پونم کے والد فوج میں تھے اور شروع میں وہ بیٹی کے کرکٹ کھیلنے کے حق میں نہیں تھے ، کیونکہ معاشرے میں اسے "لڑکوں کا کھیل" سمجھا جاتا تھا۔ ایک وقت آیا جب پونم کو ایک بہترین 'پروفیشنل بلّہ کی ضرورت تھی، لیکن اس وقت گھر کے مالی حالات ایسے نہ تھے کہ اتنا مہنگا بلا خریدا جا سکے ۔ تب پونم کی والدہ، منی دیوی نے ممتا کی ایک عظیم مثال قائم کی۔ انہوں نے کسی کو بتائے بغیر اپنی سونے کی بالیاں بیچ دیں تاکہ اپنی بیٹی کے لیے کرکٹ کا بلا خرید سکیں۔ جب پونم کو معلوم ہوا کہ جس بلے سے وہ کھیل رہی ہیں، وہ ان کی ماں کے زیورات کی قیمت ہے ، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اس دن پونم نے عہد کیا کہ وہ اس قربانی کا قرض اتاریں گی۔ آج پونم نہ صرف ایک کامیاب کرکٹر ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی ماں کو ان کے پسندیدہ زیورات بھی واپس دلوائے ۔
شیفالی کا تعلق ہریانہ کے شہر روہتک سے ہے ۔ جب انہوں نے کرکٹ شروع کی تو وہاں لڑکیوں کے لیے اکیڈمیز نہیں تھیں۔ ان کے والد نے ان کا جذبہ دیکھ کر ان کے بال چھوٹے کروا دیے تاکہ وہ لڑکا بن کر تربیت حاصل کر سکیں۔ شفالی نے محض 15 سال کی عمر میں بین الاقوامی ڈیبیو کیا اور سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بین الاقوامی نصف سنچری بنانے والی سب سے کم عمر ہندوستانی کھلاڑی بن گئیں۔ حال ہی میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں صرف 194 گیندوں پر ڈبل سنچری بنا کر تاریخ رقم کر دی، وہ ویمن ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے تیز ڈبل سنچری بنانے والی کھلاڑی ہیں۔
جمائمہ کا تعلق ممبئی سے ہے ۔ وہ نہ صرف ایک بہترین کرکٹر ہیں بلکہ وہ قومی سطح کی ہاکی کھلاڑی بھی رہ چکی ہیں۔ وہ موسیقی کا بھی شوق رکھتی ہیں اور اکثر گٹار بجاتے ہوئے ویڈیوز شیئر کرتی ہیں۔ کرکٹ کا آغاز انہوں نے ساڑھے 12 سال کی عمر میں انڈر 19 سے کھیل کر شروع کیا تھا ۔ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈبل سنچری ( ناٹ آوٹ202) بنا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔وہ مڈل آرڈر میں ٹیم کو سنبھالنے کی ماہر ہیں۔ مشکل حالات میں ان کی پرسکون بلے بازی ٹیم کے لیے بہت اہم ہوتی ہے ۔جمائمہ کی زندگی کا سب سے جذباتی اور تکلیف دہ موڑ وہ تھا جب انہیں 2022 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ ایک ایسے کھلاڑی کے لیے جس نے اپنی پوری زندگی کرکٹ کے نام کر دی ہو، ورلڈ کپ کی ٹیم میں جگہ نہ ملنا کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ وہ وقت ان کے لیے اتنا مشکل تھا کہ انہوں نے کرکٹ چھوڑنے کا سوچ لیا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھ کر روتی تھیں، لیکن ان کے والد (جو ان کے پہلے کوچ بھی ہیں) نے ان کا ہاتھ تھاما۔ اس تنہائی اور درد کے دور میں انہوں نے ہمت نہیں ہاری، بلکہ اپنے بلے سے خاموشی سے جواب دینے کی ٹھان لی۔جب جمائمہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی، تو ان کی آنکھوں میں وہ تڑپ صاف نظر آتی تھی جو انہوں نے ٹیم سے باہر رہ کر محسوس کی تھی۔ برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں جب انہوں نے شاندار کارکردگی دکھا کر ہندوستان کو جیت کی طرف دھکیلا، تو ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو بتا رہے تھے کہ یہ رنز صرف اسکور کارڈ کے لیے نہیں، بلکہ خود کو دوبارہ ثابت کرنے کے لیے تھے ۔
2025 کے ورلڈ کپ میں وکٹ کیپر بلے باز ریچا گھوش ایک ایسے "فنشر" کے طور پر ابھریں جیسے مردوں کی ٹیم میں ایم ایس دھونی تھے ۔ فائنل کے آخری اوورز میں ان کے لگاتار تین چھکوں نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، جس کی وجہ سے انہیں "لیڈی دھونی" کا خطاب بھی دیا گیا۔
ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ 2025 میں فتح محض ایک ٹرافی کی جیت نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے کئی ایسے دلچسپ اور جذباتی پہلو تھے جنہوں نے شائقین کے دل جیت لیے ۔
2017 کے ورلڈ کپ فائنل میں ہندوستان کی ٹیم انگلینڈ سے صرف 9 رنز سے ہار گئی تھی۔ اس وقت کی کئی کھلاڑی (جیسے ہرمن پریت کور اور اسمرتی مندھانا) اس درد کا حصہ تھیں۔ 2025 کی فتح نے ان کھلاڑیوں کے آٹھ سال پرانے زخموں پر مرہم رکھا اور ان کا ادھورا خواب پورا کیا۔ خواتین کرکٹ کی تاریخ میں 2017 کا ورلڈ کپ فائنل (لارڈز کا میدان) ہمیشہ ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پورا ہندوستان اپنی بیٹیوں کے لیے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا۔ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف وہ شکست بہت تلخ تھی، جیت محض 9 رنز کے فاصلے پر رہ گئی۔اس دن میدان میں موجود کھلاڑیوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں نے پورے ملک کو رُلا دیا تھا۔ وہ شکست نہیں تھی، بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ ان آنسوؤں نے ثابت کر دیا تھا کہ ان بیٹیوں کو اب "کمزور" نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس فائنل کے بعد ہندوستان میں خواتین کرکٹ کو دیکھنے کا نظریہ بدل گیا اور ہر گھر میں یہ بات ہونے لگی کہ "ہماری بیٹیاں بھی لارڈز کے میدان میں دھاڑ سکتی ہیں"۔
بی سی سی آئی نے ورلڈ کپ کی فتح کے بعد ٹیم کے لیے 51 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا، جو خواتین کرکٹ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے ۔ اس سال خواتین کرکٹرز کی مقبولیت اور ان کے معاوضوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اب خواتین کرکٹ بھی مردوں کے برابر اہمیت اختیار کر چکی ہے ۔
سال 2025 میں کئی نوجوان ہندوستانی کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔
بے خوف بلے بازی، جارحانہ گیندبازی اور خود اعتمادی نے یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستان کے پاس مستقبل کے لیے نہ صرف صلاحیت موجود ہے بلکہ اسے نکھارنے کا مضبوط نظام بھی قائم ہو چکا ہے ۔
Comments
Post a Comment