عام آدمی کے سفر کی لائف لائن اب انڈین ریلوے ایک بار پھر مسافر کرائے میں اضافہ کرنے جارہا ہے ۔پچھلے چھ ماہ میں یہ دوسری بار ہوگا جب ریلوے نے اپنی ٹرینوں کا کرایہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔نئے کرائے بروز جمعہ یعنی 26 دسمبر 2025 سے ہی دیش میں نافذ ہو جائیں گے۔اس فیصلے کا اثر لمبی دوری کا سفر کرنے والے مسافروں پر پڑنے والا ہے ۔ریلوے کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق 215 کلو میٹر سے زیادہ دوری کے سفر پر ایک پیسہ فی کلو میٹر وہیں میل اور دیگر ایکسپریس ٹرینوں کی نان اے سی کٹیگری میں مسافروں کو دو پیسے فی کلو میٹر کے حساب سے کرایہ دینا ہوگا ۔مثال کے طور پر 500 کلو میٹر کے نان اے سی سفر پر مسافروں کو تقریباً 10 روپے فاضل دینے ہوں گے۔در اصل ریلوے کا کہناہے اس نے نئے کرائے انسٹرکچر سے رواں مالی سال میں 600 کروڑ روپے مزید آمدنی کا نشانہ طے کیا ہے ۔ریلوے کے مطابق پچھلے کچھ برسوں میں خرچ تیزی سے بڑھا ہے اور انسانی وسائل پر ہونے والاخرچ بڑھ کرایک لاکھ پندرہ ہزار کروڑ تک پہنچ گیا ہے ۔جبکہ ریلوے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پر بھی خرچ تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے بڑھ گیا ہے ۔اس لئے 2024-2025 میں ریلوے سسٹم کو چلانے اور ٹرینوں کی دیکھ بھال پر لاگت ایک لاکھ پندرہ ہزار کروڑ روپے بڑھ گئی ہے ۔ساتھ ہی ریلوے کرائے بڑھانے کے ساتھ ٹرین مسافروں کو تھوڑی راحت بھی دی ہے ۔یعنی میٹرو ٹرین سروسز اور ماہانہ سیزن ٹکٹ (ایم ایس ٹی ) کے چارج میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیاہے ۔ہما را انڈین ریلوے اور محکمہ اس کو چلانے والی بھارت سرکار آئے دن کوائلٹی کے لحاظ سے اسے بین الاقوامی اسٹنڈرڈ کا بنانے کے لئے قدم اٹھانے کے دعوے کرتی رہتی ہے ۔لیکن معاملہ ڈھاک کے تین پات عجب یہ ہے کہ آج مسافروں کے لئے ٹرین سے سفر جہاںایک مشکل ہوتاجارہا ہے وہیں سرکار جب چاہے کرائے بڑھانے سے نہیں چوکتی ۔انڈین ریلوے دیش بھر کی ایک غریب آمد ورفت کا ذریعہ ہے اس سے لوگ چاہے مزدور ہو یا کسان ہو یا کم عزرت والے پیشہ آور ہوں وہ اپنے کام پر جانے کے لئے ہر روز لاکھوں کی تعداد میں سفر کا سہارا لیتے ہیں اگر کرایہ بڑھ گیا تو ان کے لئے آمدنی اٹھنی اور خرچہ پانچ روپیہ کے مصداق مثال ہوگی ۔انڈین ریلوے نے اب کرایہ بڑھانے کا اعلان تو کر دیا ہے جو ایک پیسے اور دو پیسہ کی شکل میں اضافہ کی تجویز رکھی ہے وہ دیکھنے میں ضرور چھوٹی لگتی ہے لیکن اضافہ سے صرف اگلے تین ماہ میں سرکار کو درکار رقم آسانی سے مل جائے گی ۔
اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اپنی ا ٓمدنی بڑھانے کے لئے حکومت ہر وقت چوکس رہتی ہے اور موقع دیکھتے ہی چور دروازے سے کرایہ بڑھانے کا اعلان کردیتی ہے مر ہمارے دیش کے لوگ مجبور ہیں جانا تو ہے ہی ۔لیکن اس بات کا حکومت کو دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ کرایہ اتنا بڑھائے جو عام آدمی کو بھاری نہ پڑے ۔اور مسافروں کے لئے پریشان کن نہ ہو ۔یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے ٹرین میں ایک مسافر کے لئے کئی مرتبہ ٹریجڈی کا سامنا کرنا پڑا ۔گھر سے جب نکلتا ہے تو اس کے گھر والے دعا کرتے ہیں کہ اس کا سفر صحیح سلامت رہے ۔ایک سے دوسرے شہر یا اپنے گھر جانے والے لوگ ٹرین سے سفر کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔اس لئے مسافروں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ریزرو ٹکٹ ملنا بھی آسان نہیں رہ گیا ہے ۔مہینوں پہلے لمبے سفر کے لئے ریزرویشن کرانا مشکل ہوتا ہے ۔آج کا عالم یہ ہے اگر کسی شخص کو ہفتے یا 10/15 دن میں ریزرو ٹکٹ مل جائے تو یہ ایک بڑا معجزہ ہی ہوگا ۔کیوں کہ بہت زیادہ سہولت والی مہنگی ٹرینوں کے برعکس جنرل ڈبوں میں سفر کرنا ایک تصور ہی ہو گیا ہے ۔وہ ضرور ت پڑنے پر نہیں جاسکتا ۔آج ٹرینوں میں لوگوں کے لئے سامان کے لئے وزن کی حد مقرر کر دی ہے اگر اس سے زیادہ وزن ہوگاتو اسے فاضل لگیج فیس دینی ہوگی ۔بھیڑ کے چلتے ٹرین میں چوری اور لوٹ مار کے واقعات آئے دن سننے کو ملتے رہتے ہیں ۔کبھی ریلوے نے ٹرینوںمیں مسافروں کی سیکورٹی کا دھیان نہیں رکھا ۔یہ مسئلہ ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ساتھ ہی ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے واقعات عام ہو گئے ہیں اس کی وجہ برسوں پرانی لائنوں کی خرابی یا سگنل کی خرابی بتایا جاتا ہے ۔ایسے میں ٹرینوں میں سفر کرنا آج کے دور میں غریب آدمی کے لئے باعث تشویش بنتا جارہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ الگ الگ مد کے نام سے ریلوے پیسہ بڑھانے کے لئے نہیں چوکتا ۔اب پہلے کرایہ بڑھانے کے بارے میں سرکار سوچا کرتی تھی اب کچھ نہیں وہ اپنی ضرورت اور سہولت کے حساب سے جب چاہے کرایہ بڑھا دیتی ہے ۔ریلوے مسافروں سے کسی نہ کسی مد کے نام پر پیسہ وصولی عام بات ہے ۔اس لئے سہولت اچھی ملےتو مسافر فاضل کرایہ جھیل سکتا ہے اس لئے سرکار کو چاہیے کہ وہ مسافروں سے بٹورے جارہے پیسے کو ٹرینوں میں ضرور سہولیات فراہمی پر بھی توجہ دینی چاہیے جو آج نہیں ہے ۔امید ہے کہ سرکار اس طرف دھیان دے گی۔
Comments
Post a Comment