ریپ قصوروار سینگر کی رہائی پر بریک!
دہلی ہائی کورٹ نے بدفعلی کے قصوروار کلدیپ سنگھ سینگر کو نہ صرف ضمانت دی بلکہ ٹرائل کورٹ سے ملی عمر قید کی بنیاد پر معطلی بھی کر دی تھی۔پبلک نمائندے پاسکو ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتے یہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا ۔یہی بڑا عجب نتیجہ تھا بدقسمتی سے اس نتیجہ کا فائدہ سابق ممبر اسمبلی سینگر کو دیا گیا ۔اس فیصلے نے ان لوگوں کو حیران پریشان بھی کیا جو اس سے مطمئن نہیں تھے۔آخر کار سوالوں سے گھرے فیصلے پر روک لگ گئی کیوں کہ ایسے ہر معاملے نہ تو موضوع بحث بن پاتے ہیں نہ ہی لوگ ان کو لے کر سڑکوں پر نہیں اترتے بلکہ وہ محض خبر کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں ۔سینگر پر اس فیصلے کو لے کر وسیع احتجاج ہو رہا تھا اور یہ فیصلہ نکتہ چینی کے دائرے میں آگیا تھا ۔قانون کا مقصد صرف کرائم کی تشریح کرنا نہیں ہوتا بلکہ عوام لوگوں میں بھروسہ کرنا بھی ہوتا ہے کہ انصاف سب کے لئے برابر ہے ۔جب یہ بھروسہ ڈگمگانے لگتا ہے تو سسٹم کے مختلف پہلوؤں میں سے کسی ایک کی بیداری کی بھی امید ہوتی ہے اور راحت دکھانے کے لئے یہ کافی ہوتی ہے ۔
سپریم کورٹ نے پیر کے ر وز سینگر کی عمر قید بھی معطل کر دی اور فیصلے تک اس پر روک لگا دی ۔اسی کے ساتھ یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ ملزم سینگر کی رہائی اب نہیں ہو پائے گی اور وہ جیل میں ہی رہے گا۔بڑی عدالت کا یہ حکم اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ متاثرہ لڑکی نے سینگر کی رہائی پر اپنی اور خاندان کی حفاظت کو لے کر خطرہ کا اندیشہ جتایا تھا ۔واضح ہو کہ لڑکی اور اس کا پریوار کارمیں کچھ وقت پہلے کہیں جانے کے لئے ہائی وے سے گزررہا تھا تب وہاں پیچھے سے آئے نامعلوم ٹرک نے اس کو ٹکر مار دی لیکن بھلا ہو کہ وہ زخمی ہی ہوا اور بتایاجاتا ہے اس حادثے کے پیچھے بھی سینگر کے لوگوں کا ہی ہاتھ رہا تھا ۔ایسے میں متاثر ہ کو سینگر کے باہر آنے سے اپنی اور پریوار کی جان کا خطرہ لاحق تھا ۔یہ معاملہ کتنا سنگین ہے اسے اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ بڑی عدالت کے حکم پر اسے اتر پردیش کی نچلی عدالت سے دہلی منتقل کیا گیا تھا ۔بڑی عدالت نے اپنے حکم میں کہا اس معاملے میں قانون سے جڑے کئی اہم ترین سوال سامنے آئے ہیں جن پر غور کیاجاناچاہیے ۔ضروری ہے حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی ہے اس سے متاثرہ کے حق میں انصاف کی امید جاگی ہے اس معاملے میں سی بی آئی کا رول بھی کافی اہم رہا ۔اس نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی اور اس کی مضبوط دلیلوں نے کلدیپ سینگر کی کسی بھی امکانی رہائی کے راستے فی الحال بند کرا دیے ہیں ۔ایسے میں سوال یہ بھی کھڑا ہوتا ہے کہ اگر فیصلے پر احتجاج کا مرکز اور دہلی کی جگہ دیش کے کسی دوسرے حصے میں ہوتا تو کیا فیصلہ پر روک لگ سکتی تھی اور یوپی میں تو خاص طور پر جہاں اس کے حمایتی دوست یوگی کی سرکار ہے ۔بہرحال جو بھی عدلیہ کویہ پیغام نہیں دینا چاہیے کہ وہ پبلک دباؤ میں فیصلے دیتی ہے جیسا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ریپ کے قصور وار کو ضمانت دے دی تھی لیکن بھلا ہو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی اور سینگر کی رہائی پر پانی پھیر دیا ۔ہم سپریم کورٹ کے دلیرانہ قدم کی تعریف کرتے ہیں اور خیر مقدم کرتے ہیں ۔اس کے فیصلے سے یہی سندیش جائے گا قانون سے کوئی بڑا نہیں ہے اور دیش میں ابھی انصاف زندہ ہے ۔
Comments
Post a Comment