کوانٹم ٹیکنالوجی: تحیرات کی دنیا میں مستقبل کو محفوظ بنانے کا بیش بہا سرمایہ
ممتاز احمد
کوانٹم ٹیکنالوجی کا مطلب ہے کوانٹم فزکس کے اصولوں جیسے کہ سپرپوزیشن اور انٹینگلمنٹ کو استعمال کرتے ہوئے نئی ٹیکنالوجیوں کا اختراع، جس میں بہت طاقتور کمپیوٹراور انتہائی محفوظ مواصلات شامل ہیں، جو کہ موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ بہتر اورسرعت پذیر ہو سکتے ہیں۔ دراصل کوانٹم بہت چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹرون) کی دنیا کے اصولوں کو کہتے ہیں، جس میں وہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں سائنس، ادویات اور سیکورٹی کے شعبوں میں انقلاب لائے گی۔ ہندوستان نے بھی اس شعبہ میں نمایاں پیش رفت کے لیے چندبرس قبل نیشنل کوانٹم مشن شروع کیا تھا۔ اس کے بنیادی مقاصد میں کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونی کیشن، کوانٹم سینسنگ میٹرولوجی اور کوانٹم میٹریل میں جدید ترین کوانٹم ٹیکنالوجی تیار کرنا اور تحقیق و ترقی، بنیادی ڈھانچے ، اسٹارٹ اپس اور ہنر مند انسانی وسائل پر محیط ایک مضبوط قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر شامل ہے ۔ یہ مشن تکنیکی خود انحصاری، اسٹریٹجک صلاحیت سازی اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں عالمی قیادت کے ہندوستان کے وسیع تروژن کے عین مطابق ہے ۔اس کے تحت سیٹلائٹ کے ذریعے 2000 کلومیٹر تک محفوظ کوانٹم مواصلات قائم کرنے کا ہدف ہے ۔ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے کوانٹم محفوظ سکیورٹی اسکیمیں تیار کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ قومی کوانٹم مشن میں سائنسی ترقی کو اقتصادی ترقی اور اعلی معیار کی ملازمتوں میں تبدیل کرنے کے لیے کئی اقدامات شامل ہیں۔ ان میں رولنگ کالز، انکیوبیشن اور ٹی- ہبس کے ذریعہ بنائی گئی قومی فیبری کیٹیڈ سہولیات تک رسائی کے ذریعے کوانٹم اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کے لیے خصوصی معاونت شامل ہے ، جو اجتماعی طور پر صنعت کی مضبوط شرکت اور ٹیکنالوجی کو تجارتی بنانے کے قابل بناتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہنر مندی کے اہداف کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جاسکتاہے ۔ مثلا تدریسی لیبارٹریز، محققین کی تربیت اور خصوصی پروگرام تاکہ کوانٹم کے لیے تیار افرادی قوت کی تعمیر کی جاسکے ۔ اس مشن کا مقصد صنعتی و تعلیمی تعاون کو فروغ دے کر اور نجی شعبے کی شراکت کی حوصلہ افزائی کر کے روزگار کے نئے مواقع مہیا کرانا اور ابھرتی ہوئی کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنا ہے ۔یہ مواصلات، صحت کی دیکھ بھال، مالیات اور توانائی جیسے کلیدی شعبوں میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ خلائی تحقیق، بینکنگ اور سلامتی میں بھی اس کا استعمال ہوگا۔مزید برآں، یہ مشن ڈیجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا، خود کفیل ہندوستان اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) نیز وکست بھارت @2047جیسے قومی اقدامات اور منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کرے گا۔ این کیو ایم میں ملک کے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ماحولیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت موجودہے ، جس سے یہ عالمی سطح پر مسابقتی بن سکتا ہے ۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تعاون سے نیشنل کوانٹم مشن کے تحت منتخب کیے گئے 8 اسٹارٹ اپس میں سے ایک بنگلورو میں واقع کیو پی آئی اے آئی نے عالمی کوانٹم ڈے کے موقع پر 25 سپر کنڈکٹنگ کیوبیٹس پر مشتمل ہندوستان کے سب سے طاقتور کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک کو لانچ کرنے کا اعلان کیا ۔ لانچ کردہ کوانٹم کمپیوٹر ، کیو پی آئی اے آئی-انڈس ملک کا پہلا فل اسٹیک کوانٹم کمپیوٹنگ سسٹم ہے اور یہ جدید کوانٹم ہارڈ ویئر ، اسکیل ایبل کنٹرول اور ٹرانسفارمیٹو ہائبرڈ کمپیوٹنگ کے لیے بہتر سافٹ ویئر کو یکجا کرتا ہے ۔ یہ جدید کوانٹم پروسیسرز ، آئندہ سلسلے کے کوانٹم-ایچ پی سی سافٹ ویئر پلیٹ فارموں اور اے آئی سے بہتر کوانٹم حل کو مربوط کرتا ہے ۔مرکزی کابینہ نے 19 اپریل 2023 کو اسے منظوری دی تھی۔ یہ مشن 24-2023 سے 31-2023 تک جاری رہے گا ، جس کے لئے 6,003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ مشن کے تحت مالی سال 2024-25 میں چار تھیمیٹک ہبس (ٹی ہبس) قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کو ان کے متعلقہ میزبان اداروں نے سیکشن 8 کمپنیوں کے طور پر شامل کیا ہے اور موثر حکمرانی اور انتظامیہ کے لیے ان کے متعلقہ ہب گورننگ بورڈ (ایچ جی بی) تشکیل دیے ہیں۔ ان چاروں ٹی-ہبس کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے ۔ یہ مراکز اب مکمل طور پر کام کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی،انسانی وسائل کی ترقی، انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ اینڈ انڈسٹری کولیبریشن اور بین الاقوامی تعاون سمیت متعدد سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ قومی کوانٹم مشن کے تحت کوانٹم کمپیوٹنگ چِپس اور کوانٹم سینسرز کی تیاری کو مقامی بنانے کے مقصد سے دو جدید ترین کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی آئی ایس سی بنگلورو میں قائم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں،دو مزید چھوٹے پیمانے کی سہولیات آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی کانپور میں بھی قائم کی گئی ہیں۔ آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی آئی ٹی کانپور میں کوانٹم سینسنگ اور میٹرولوجی کی سہولیات، سماجی اور اسٹریٹجک استعمال کے لیے جدید سینسر پلیٹ فارمز فراہم کر کے کوانٹم سینسنگ میں نمایاں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔آئی آئی ایس سی بنگلورو میں کوانٹم کمپیوٹنگ فیبری کیشن سہولت، سپر کنڈکٹنگ، فوٹونک اور اسپن کیوبِٹس پر مبنی کوانٹم کمپیوٹنگ چِپس کی تیاری کو ممکن بناتی ہے ، جو قابلِ توسیع کوانٹم نظام کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔آئی آئی ٹی دہلی میں کوانٹم مٹیریلز اور آلات کی فیبری کیشن سہولت، مختلف کوانٹم ٹیکنالوجیوں کو وسعت دینے کے لیے مقامی سطح پر کوانٹم مٹیریلز اور آلات کی تیاری کو فروغ دیتی ہے ۔کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات کے قیام پر مجموعی طور پر 720 کروڑ روپے خرچ ہونے کی توقع ہے ۔ آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ایس سی بنگلورو، آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی دہلی میں قائم کی جانے والی کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات کو قومی کوانٹم مشن کے تحت مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے ۔ منصوبے کی منظوری کے بعد ہر ادارے نے خصوصی کلین روم، کرایوجینکنظام اور جدید فیبری کیشن آلات کی خریداری، تنصیب اور آغاز کا عمل شروع کیا، جو ملکی اور بین الاقوامی سپلائرز سے حاصل کیے گئے ہیں۔ موجودہ جائزوں کے مطابق تمام مراکز میں ان سہولیات کی تکمیل کا ہدف تقریباً 2028 تک رکھا گیا ہے ۔ ان سہولیات کا مقصد ملک کے اندر عالمی معیار کی کوانٹم فیبری کیشن اور آلات کی تیاری کی صلاحیت پیدا کرنا ہے ، تاکہ محققین اور اسٹارٹ اپس مقامی طور پر کوانٹم پروسیسرز، سینسرز اور مٹیریلز کے نمونے تیار کر سکیں۔ قومی کوانٹم مشن، صرف ایک مشن نہیں ہے بلکہ یہ ایک جرات مندانہ قدم ہے جس کے ذریعے ہندوستان کا مقصد اختراع کو آگے بڑھانے ، قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور مختلف صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے کوانٹم ٹیکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لانا ہے ، اور اس جدید میدان میں خود کو ایک عالمی رہنما کے طور پر قائم کرنا ہے ۔ نیشنل کوانٹم مشن اس بات کا مظہر ہے کہ ہندستان سائنسی برتری، معاشی مضبوطی اور قومی سلامتی کے لیے پرعزم ہے ، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں کوانٹم ٹیکنالوجی ان صنعتوں اور معاشروں کو ازسرِنو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ مشن کسی تکنیکی پہل سے کہیں بڑھ کر ہے ۔تحیرات کی اس دنیا میں کوانٹم ٹیکنالوجی ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی سمت میں ایک کلیدی قدم ہے ۔اہم سرمایہ کاری، عالمی معیار کے تحقیقی تعاون اور اختراعی مراکز کے ساتھ یہ مشن ہندوستان کو عالمی کوانٹم انقلاب میں سب سے آگے لے جانے کے لیے تیار ہے ۔
عہد حاضر میں ٹیکنالوجی زندگی کے تمام شعبوں میں بڑی تیزی سے شامل ہورہی ہے ۔ زندگی کاکوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اس سے اچھوتارہاہو۔ ٹیکنالوجی کے اس عروج کے پیش نظرہمارے ملک میں بھی اسے نظر انداز نہیں کیا گیا اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی نئی ٹکنالوجی پر خاص توجہ دی گئی تاکہ ہم دیگر ممالک سے پیچھے نہ رہ جائیں۔عہد حاضرمیں یہ بات صد فی صد درست کہی جاسکتی ہے کہ جوملک جدید ٹیکنالوجی میں خودکفیل ہوگا،وہی ہمہ جہت ترقی کرسکتا ہے ۔آج ہم بخوبی اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کا سرتاج کہی جانے والی کوانٹم ٹیکنالوجی عالمی سطح پر بہ سرعت ترقی کر رہی ہے ۔ امریکہ، چین، برطانیہ،یورپییونین، جاپان، کینیڈا، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک اس کا استعمال تحقیق و ترقی،کوانٹم کمپیوٹنگ، کمیونی کیشن اور سینسنگ جیسے شعبوں میں اس کا استعمال کررہے ہیں۔
کوانٹم ٹیکنالوجی کا مطلب ہے کوانٹم فزکس کے اصولوں جیسے کہ سپرپوزیشن اور انٹینگلمنٹ کو استعمال کرتے ہوئے نئی ٹیکنالوجیوں کا اختراع، جس میں بہت طاقتور کمپیوٹراور انتہائی محفوظ مواصلات شامل ہیں، جو کہ موجودہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ بہتر اورسرعت پذیر ہو سکتے ہیں۔ دراصل کوانٹم بہت چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹرون) کی دنیا کے اصولوں کو کہتے ہیں، جس میں وہ بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں سائنس، ادویات اور سیکورٹی کے شعبوں میں انقلاب لائے گی۔ ہندوستان نے بھی اس شعبہ میں نمایاں پیش رفت کے لیے چندبرس قبل نیشنل کوانٹم مشن شروع کیا تھا۔ اس کے بنیادی مقاصد میں کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونی کیشن، کوانٹم سینسنگ میٹرولوجی اور کوانٹم میٹریل میں جدید ترین کوانٹم ٹیکنالوجی تیار کرنا اور تحقیق و ترقی، بنیادی ڈھانچے ، اسٹارٹ اپس اور ہنر مند انسانی وسائل پر محیط ایک مضبوط قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر شامل ہے ۔ یہ مشن تکنیکی خود انحصاری، اسٹریٹجک صلاحیت سازی اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں عالمی قیادت کے ہندوستان کے وسیع تروژن کے عین مطابق ہے ۔اس کے تحت سیٹلائٹ کے ذریعے 2000 کلومیٹر تک محفوظ کوانٹم مواصلات قائم کرنے کا ہدف ہے ۔ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے کوانٹم محفوظ سکیورٹی اسکیمیں تیار کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ قومی کوانٹم مشن میں سائنسی ترقی کو اقتصادی ترقی اور اعلی معیار کی ملازمتوں میں تبدیل کرنے کے لیے کئی اقدامات شامل ہیں۔ ان میں رولنگ کالز، انکیوبیشن اور ٹی- ہبس کے ذریعہ بنائی گئی قومی فیبری کیٹیڈ سہولیات تک رسائی کے ذریعے کوانٹم اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کے لیے خصوصی معاونت شامل ہے ، جو اجتماعی طور پر صنعت کی مضبوط شرکت اور ٹیکنالوجی کو تجارتی بنانے کے قابل بناتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہنر مندی کے اہداف کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جاسکتاہے ۔ مثلا تدریسی لیبارٹریز، محققین کی تربیت اور خصوصی پروگرام تاکہ کوانٹم کے لیے تیار افرادی قوت کی تعمیر کی جاسکے ۔ اس مشن کا مقصد صنعتی و تعلیمی تعاون کو فروغ دے کر اور نجی شعبے کی شراکت کی حوصلہ افزائی کر کے روزگار کے نئے مواقع مہیا کرانا اور ابھرتی ہوئی کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنا ہے ۔یہ مواصلات، صحت کی دیکھ بھال، مالیات اور توانائی جیسے کلیدی شعبوں میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ خلائی تحقیق، بینکنگ اور سلامتی میں بھی اس کا استعمال ہوگا۔مزید برآں، یہ مشن ڈیجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا، خود کفیل ہندوستان اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) نیز وکست بھارت @2047جیسے قومی اقدامات اور منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کرے گا۔ این کیو ایم میں ملک کے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ماحولیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت موجودہے ، جس سے یہ عالمی سطح پر مسابقتی بن سکتا ہے ۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تعاون سے نیشنل کوانٹم مشن کے تحت منتخب کیے گئے 8 اسٹارٹ اپس میں سے ایک بنگلورو میں واقع کیو پی آئی اے آئی نے عالمی کوانٹم ڈے کے موقع پر 25 سپر کنڈکٹنگ کیوبیٹس پر مشتمل ہندوستان کے سب سے طاقتور کوانٹم کمپیوٹرز میں سے ایک کو لانچ کرنے کا اعلان کیا ۔ لانچ کردہ کوانٹم کمپیوٹر ، کیو پی آئی اے آئی-انڈس ملک کا پہلا فل اسٹیک کوانٹم کمپیوٹنگ سسٹم ہے اور یہ جدید کوانٹم ہارڈ ویئر ، اسکیل ایبل کنٹرول اور ٹرانسفارمیٹو ہائبرڈ کمپیوٹنگ کے لیے بہتر سافٹ ویئر کو یکجا کرتا ہے ۔ یہ جدید کوانٹم پروسیسرز ، آئندہ سلسلے کے کوانٹم-ایچ پی سی سافٹ ویئر پلیٹ فارموں اور اے آئی سے بہتر کوانٹم حل کو مربوط کرتا ہے ۔مرکزی کابینہ نے 19 اپریل 2023 کو اسے منظوری دی تھی۔ یہ مشن 24-2023 سے 31-2023 تک جاری رہے گا ، جس کے لئے 6,003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ مشن کے تحت مالی سال 2024-25 میں چار تھیمیٹک ہبس (ٹی ہبس) قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کو ان کے متعلقہ میزبان اداروں نے سیکشن 8 کمپنیوں کے طور پر شامل کیا ہے اور موثر حکمرانی اور انتظامیہ کے لیے ان کے متعلقہ ہب گورننگ بورڈ (ایچ جی بی) تشکیل دیے ہیں۔ ان چاروں ٹی-ہبس کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے ۔ یہ مراکز اب مکمل طور پر کام کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی ترقی،انسانی وسائل کی ترقی، انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ اینڈ انڈسٹری کولیبریشن اور بین الاقوامی تعاون سمیت متعدد سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ قومی کوانٹم مشن کے تحت کوانٹم کمپیوٹنگ چِپس اور کوانٹم سینسرز کی تیاری کو مقامی بنانے کے مقصد سے دو جدید ترین کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی آئی ایس سی بنگلورو میں قائم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں،دو مزید چھوٹے پیمانے کی سہولیات آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی کانپور میں بھی قائم کی گئی ہیں۔ آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی آئی ٹی کانپور میں کوانٹم سینسنگ اور میٹرولوجی کی سہولیات، سماجی اور اسٹریٹجک استعمال کے لیے جدید سینسر پلیٹ فارمز فراہم کر کے کوانٹم سینسنگ میں نمایاں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔آئی آئی ایس سی بنگلورو میں کوانٹم کمپیوٹنگ فیبری کیشن سہولت، سپر کنڈکٹنگ، فوٹونک اور اسپن کیوبِٹس پر مبنی کوانٹم کمپیوٹنگ چِپس کی تیاری کو ممکن بناتی ہے ، جو قابلِ توسیع کوانٹم نظام کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔آئی آئی ٹی دہلی میں کوانٹم مٹیریلز اور آلات کی فیبری کیشن سہولت، مختلف کوانٹم ٹیکنالوجیوں کو وسعت دینے کے لیے مقامی سطح پر کوانٹم مٹیریلز اور آلات کی تیاری کو فروغ دیتی ہے ۔کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات کے قیام پر مجموعی طور پر 720 کروڑ روپے خرچ ہونے کی توقع ہے ۔ آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ایس سی بنگلورو، آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی دہلی میں قائم کی جانے والی کوانٹم فیبری کیشن اور مرکزی سہولیات کو قومی کوانٹم مشن کے تحت مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے ۔ منصوبے کی منظوری کے بعد ہر ادارے نے خصوصی کلین روم، کرایوجینکنظام اور جدید فیبری کیشن آلات کی خریداری، تنصیب اور آغاز کا عمل شروع کیا، جو ملکی اور بین الاقوامی سپلائرز سے حاصل کیے گئے ہیں۔ موجودہ جائزوں کے مطابق تمام مراکز میں ان سہولیات کی تکمیل کا ہدف تقریباً 2028 تک رکھا گیا ہے ۔ ان سہولیات کا مقصد ملک کے اندر عالمی معیار کی کوانٹم فیبری کیشن اور آلات کی تیاری کی صلاحیت پیدا کرنا ہے ، تاکہ محققین اور اسٹارٹ اپس مقامی طور پر کوانٹم پروسیسرز، سینسرز اور مٹیریلز کے نمونے تیار کر سکیں۔ قومی کوانٹم مشن، صرف ایک مشن نہیں ہے بلکہ یہ ایک جرات مندانہ قدم ہے جس کے ذریعے ہندوستان کا مقصد اختراع کو آگے بڑھانے ، قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور مختلف صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے کوانٹم ٹیکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لانا ہے ، اور اس جدید میدان میں خود کو ایک عالمی رہنما کے طور پر قائم کرنا ہے ۔ نیشنل کوانٹم مشن اس بات کا مظہر ہے کہ ہندستان سائنسی برتری، معاشی مضبوطی اور قومی سلامتی کے لیے پرعزم ہے ، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں کوانٹم ٹیکنالوجی ان صنعتوں اور معاشروں کو ازسرِنو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ مشن کسی تکنیکی پہل سے کہیں بڑھ کر ہے ۔تحیرات کی اس دنیا میں کوانٹم ٹیکنالوجی ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی سمت میں ایک کلیدی قدم ہے ۔اہم سرمایہ کاری، عالمی معیار کے تحقیقی تعاون اور اختراعی مراکز کے ساتھ یہ مشن ہندوستان کو عالمی کوانٹم انقلاب میں سب سے آگے لے جانے کے لیے تیار ہے ۔

Comments
Post a Comment