رومان ، انقلاب اور احساسات کا شاعر: فیض احمد فیض
ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
غالب کی انفرادیت اور ان کا مقام و مرتبہ لوگوں نے ان کی دنیا سے رحلت کے بعد جانا اور اس کا اعتراف بھی کیا لیکن اقبال کے بعد جس شاعر کو جیتے جی لوگوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا ، جن کی مقبولیت کا سکہ آج بھی رائج ہے اور جو رومان اور انقلاب کے سنگم پر بغاوت واحتجاج کی علامت کے طور پرموجود ہے وہ فیض احمد فیض ہیں۔ وہ ایک باکمال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثال نثر نگار بھی تھے اپنے منفرد اسلوب اور خاص لب و لہجہ کے ساتھ آج بھی ان کی شخصیت اور شاعری اردو ادب کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ فیض نے 13 فروری 1911 کو سیا لکوٹ کے ایک معزز گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ والد پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے ۔ علم دوست انسان تھے گھر میں علمی وادبی ماحول تھا جس نے آگے چل کر فیض کے ادبی ذوق کی آبیاری کی۔ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فیض کو بچپن سے ہی دینی ماحول بھی ملا اور اس میں ان کے والد کابڑا ہاتھ تھا ۔ فیض صبح سویرے اپنے والد کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرنے مسجد جایا کرتے تھے اور اس کے بعد مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے درس قرآن لیتے اس کے بعد اسکول کا رخ کرتے ۔زمانہ طالبعلمی کو یاد کرتے ہوئے فیض کا کہنا تھا کہ ''گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ہم نے انتہائی شریفانہ زندگی بسر کی، بچپن میں کھلنڈرے پن یا ایک طرح کے لہو و لعب کی زندگی گزارنے سے ہم محروم رہے ، مثلاً یہ کہ گلی میں کوئی پتنگ اڑا رہا ہے ، کوئی گولیاں کھیل رہا ہے ، کوئی لٹو چلا رہا ہے ، ہم بس کھیل کود کودیکھتے رہتے تھے ، اکیلے بیٹھ کر ۔ اسکول میں بھی ہر کلاس میں مانیٹر بنا دئیے جاتے لہذا شرارت کے بچے کھچے امکانات بھی نہ رہے ۔ '' والد کو خطوط نویسی میں دشواری ہوتی تھی لہذا خط لکھنے کے ساتھ ساتھ اخبار پڑھ کر سنانے کی ذمہ داری بھی فیض کی تھی ۔فیض خود کہتے ہیں کہ ان سب سے اردو اور انگریزی زبان اور ان کی تحریری استعداد میں بہت اضافہ ہوا۔شعر وادب سے لگاؤ میں گھر اور آس پاس کے شعرو سخن کے ماحول کی کارفرمائی کے علاوہ فیض اس کا سہرہ گھر سے متصل ایک کتابوں کی دکان کو دیتے ہیں ۔ جہاں کتابیں کرائے پر ملتی تھیں ۔ دو پیسہ فی کتاب کے کرائے پر ملنے والی ان کتابوں نے بچپن میں ہی فیض کو تمام شعری و نثری اصناف کا شیدا بنا دیا ۔ شوق حد سے بڑھا ، شکایت والد تک پہنچی والد ادب دوست انسان تھے ۔ انہوں نے بغیر کسی خفگی کے مغربی ادب پڑھنے کو کہا اور فیض کے لیے معرفت کا ایک اور دریچہ کھل گیا ۔ اسکولی تعلیم بھی جاری رہی 1921میں اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور میٹرک اور ایف اے مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا۔ شاعری کا آغاز تو پہلے ہی ہو چکا تھا لیکن گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران شعر گوئی کی یہ صلاحیت مزید نکھر کر سامنے آئی۔ کالج کے میگزین 'راوی ' میں جب کلام چھپا تو حوصلے دوچند ہو گئے اور مقبول زمانہ رسائل و جرائد میں شائع ہونے کے ساتھ ان کی شاعری سند ِ قبولیت حاصل کرتی گئی۔ فیض نے جس وقت شاعری کا آغاز کیا اس وقت رومانوی تحریک کا دور دورہ تھا اختر شیرانی، جوش ملیح آبادی ، جگر مرادآبادی اور فراق گورکھپوری کا شہرہ عام تھا ۔ اپنی ابتدائی شاعری میں فیض نے کچھ تو ان کا اثر قبول کیا کچھ عشق میں ناکامی نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا اور فیض نے وارداتِ قلبی کو غزل کے سانچے میں ڈھال کرپیش کر دیا ۔ اسی دوران وہ سجاد ظہیر ، ڈاکٹر رشید جہاں اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ دیگر ادباء کے حلقہ ء اثر میں آئے اور ان کی شاعری کے رومانوی رنگ نے احتجاج و بغاوت کا آہنگ اختیار کر لیا ۔وہ نرم لہجہ جس میں عشق کی سرشاری ، فراق کی تڑپ، چاہت و محبت کا دلآویز اظہار اور بادِ نسیم کی سی نزاکت اور وارفتگی تھی ۔ جب تلخی ٔ ایام سے دوچار ہوتا ہے ، زمانے اور حالات کی تلخیوں کو قریب سے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے ۔وہ شاعر جو اب تک محبوب سے یوں مخاطب تھے ۔ اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات یوں گماں ہوتا ہے ، گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات مالک و مزدور کی آویزش اور ظلم و استحصال ، کوچہ و بازار میں بکتے ہوئے ، خاک میں لتھڑے خون میں نہلائے ہوئے جسموں کو دیکھ کر ان کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے ۔ اوربھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ 'نقش فریادی 'میں رومان کی آنچ تیز ہے اس کے بعد فیض کا انقلابی شعورپختہ ہو جاتا ہے اور' دست صبا 'ان کے اسی انقلابی شعور کا اعلامیہ ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بغاوت اور احتجاج کا دبا دبا سا اظہار 'نقش فریادی' کی نظموں اور غزلوں میں ہی نما یاں ہونے لگا تھا بقول ن۔م ۔راشد: '' نقش فریادی ایک ایسے شاعر کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے جو رومان اور حقیقت کے سنگم پر کھڑا ہے '' ' دست صبا' تک آتے آتے فیض کے ہاں عشق اور انقلاب ایک دوسرے میں یوں ہم آمیز ہو جاتے ہیں کہ ان دونوں کو الگ کر پانا مشکل ہے ۔درحقیقت فیض بیسویں صدی کے ایک ایسے شاعر ہیں جو رومانیت اور انقلاب کے سنگم پر کھڑے ہیں وہ کوئے یار سے نکلتے ہیں تو سوئے دار جاتے ہیں اور دارو رسن اور مقتل گاہ میں بھی محبوب سے غا فل نہیں رہتے ۔ فیض نے غزل کے روایتی رنگ و آہنگ کو انقلابی شعور کے ساتھ ہم آ ہنگ کر کے ایک نیا پیکر عطا کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ محبوب مجازی کے پیکر میں لیلائے وطن سے مخاطب ہیں ۔ ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے سزا خطائے نظر سے پہلے ، عتاب جرم سخن سے پہلے نہ سوال ِ وصل ، نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے اسی طرح نظم' دو عشق 'کے یہ اشعار دیکھیے ۔ تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے کیا کیا نہ دل زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو ڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں بانہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں ۔ چاہا اسی رنگ میں لیلائے وطن کو تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن کو ڈھونڈی ہیں یوں ہی شوق نے آسائش منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں فیض نے زنداں کی صعوبتیں جھیلیں ، غداری کا الزام سہا، جلا وطنی کا درد و کرب برداشت کیا لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ عشقیہ جذبات و احساسات اور سیاسی و سماجی شعور کی ترجمانی کے ضمن میں جو حزن و ملال ، دل گرفتگی اور ایک کسک آمیز کیفییت ان کے کلام میں نظر آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا غم ذاتی نہیں ہے بلکہ اس میں اجتماعی شعور کی دھڑکنیں واضح طور پر سنی اور محسو س کی جا سکتی ہیں ۔ تقسیم کا المیہ، گردش دوراں ، مزدوروں اور محنت کشوں کے دکھ درد ظلم و استحصال ، سیاسی آمریت اور اس کے شکنجے میں جکڑے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ فیض نے انہیں اس کے خلاف صف آراء ہونے کا حوصلہ بخشا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ' امید فردا ' اور' امید صبح ' ان کی شاعری میں بطور استعارہ بار بار آتی ہے
دل نا امید تو نہیں نا کام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے فیض نے جتنی شدت سے اپنے وطن کے دکھ درد کو محسوس کیا اسی شدت سے دنیا کے مجبوروں ، مظلوموں اور مقہوروں بالخصوص اہل فلسطین کے دکھ درد کو بھی پوری انسانیت کے غم سے تعبیر کیا۔ ان کی نظمیں' فلسطینی بچے کی لوری,' ایرانی طلباء کے نام '' اور ' رسم دعا ' اس نوعیت کی کچھ مثالیں ہیں۔ نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ ، دست تہہ سنگ ، سروادی سینا، شام شہریاراں ، میرے دل میرے مسافر، فیض کی شاعری کے مجموعے ہیں جنہیں ' نسخہ ہائے وفا ' کے نام سے یکجا کیا گیا ہے ۔ فیض کے مداحوں کے لیے شیشوں کے مسیحا کا یہ وہ منشور ہے جو رہتی دنیا تک امن و آشتی ، انسان دوستی کے لیے لوگوں کو تحریک دیتا رہے گا اور ظلم و استحصال کے خلاف لہو کو گرماتا رہے گا۔

Comments
Post a Comment