اراولی پہاڑی سلسلہ اور حکومتِ ہند کے فیصلے:مثبت و منفی پہلو
اراولی پہاڑی سلسلہ (Aravalli Range) برصغیر جنوبی ایشیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں شمار ہوتا ہے ۔ ماہرینِ ارضیات کے مطابق اس کی عمر تقریباً پندرہ سو سے ڈھائی ہزار ملین سال کے درمیان ہے ، جو اسے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں شامل کرتی ہے ۔ یہ پہاڑی سلسلہ گجرات کے علاقے پالَن پور کے قریب سے شروع ہو کر راجستھان، ہریانہ اور دہلی کے اطراف سے گزرتا ہوا شمالی ہندوستان تک پھیلا ہوا ہے ۔ اراولی پہاڑیاں محض چٹانوں اور زمین کی ساخت تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے ماحولیاتی توازن، موسمی نظام، حیاتیاتی تنوع، آبی وسائل اور تہذیبی تاریخ میں نہایت اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔حالیہ برسوں میں حکومتِ ہند کی جانب سے اراولی پہاڑی رینج سے متعلق متعدد پالیسی فیصلے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ملک میں ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے ۔ ان فیصلوں میں زمین کے استعمال کے قوانین میں نرمی، بعض علاقوں کو ماحولیاتی تحفظ کے دائرے سے باہر کرنا، کان کنی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو اجازت دینا شامل ہے ۔ حکومت ان اقدامات کو ترقی، شہری ضروریات اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے ، جبکہ ماہرینِ ماحولیات اور سماجی کارکن انہیں قدرتی نظام کے لیے شدید خطرہ سمجھتے ہیں۔اراولی پہاڑی سلسلہ شمال مغربی ہندوستان کے جغرافیائی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ پہاڑیاں راجستھان کے صحرائی علاقوں اور گنگا-جمنادوآبے کے زرخیز میدانوں کے درمیان قدرتی رکاوٹ کا کام کرتی ہیں۔ ان کی موجودگی تھر کے صحرا کو مشرق کی جانب پھیلنے سے روکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر اراولی پہاڑیاں مکمل طور پر ختم ہو جائیں تو دہلی، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے بڑے علاقے صحرائی اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
یہ پہاڑیاں مون سون کے ہوائی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ جنوب مغربی مون سون کی ہوائیں جب اراولی سے ٹکراتی ہیں تو بارش کے عمل میں توازن پیدا ہوتا ہے ۔ اگرچہ یہ پہاڑیاں ہمالیہ کی طرح بلند نہیں، مگر ان کا کردار علاقائی موسمی نظام کے لیے نہایت اہم ہے ۔ اس کے علاوہ اراولی کا قدرتی ڈھانچہ مٹی کے کٹاؤ کو روکتا اور زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتا ہے ۔
اراولی پہاڑی رینج زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے ۔ ان پہاڑیوں میں موجود جنگلات بارش کے پانی کو جذب کر کے زمین کے اندر منتقل کرتے ہیں، جس سے آبی ذخائر ری چارج ہوتے ہیں۔ دہلی، گروگرام، فرید آباد، الور اور جے پور جیسے شہروں میں زیرِ زمین پانی کا بڑا انحصار اراولی کے ماحولیاتی نظام پر ہے ۔
اس کے علاوہ اراولی پہاڑیاں متعدد ندی نالوں کا منبع ہیں، جو مقامی زراعت اور انسانی آبادیوں کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔ جنگلات کا خاتمہ اور پہاڑیوں کی کھدائی ان آبی نظاموں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے ، جس کے نتیجے میں پانی کی قلت اور خشک سالی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اراولی پہاڑی سلسلہ حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہاں خشک اور نیم خشک جنگلات پائے جاتے ہیں جن میں کیکر، دھوک، بیری، نیم اور پیپل جیسے درخت شامل ہیں۔ یہ جنگلات مختلف اقسام کے پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور کئی نایاب اور خطرے سے دوچار اقسام کے جانور بھی اسی خطے میں رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اراولی کے جنگلات دہلی-این سی آر کے لیے قدرتی فلٹر کا کردار ادا کرتے ہیں، جو فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان جنگلات کے خاتمے سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اراولی پہاڑی سلسلہ ہندوستانی تہذیب کی تاریخ میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ قدیم زمانے میں یہ پہاڑیاں انسانی آبادیوں، قلعہ جاتی نظام اور تجارتی راستوں کا مرکز رہی ہیں۔ میواڑ، مارواڑ اور دیگر راجپوت ریاستوں کے عظیم قلعے انہی پہاڑیوں پر قائم تھے ، جو نہ صرف عسکری بلکہ ثقافتی اہمیت بھی رکھتے تھے ۔
قبائلی برادریاں جیسے بھیل، مینا اور گُجر صدیوں سے اراولی کے جنگلات کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارتی آئی ہیں۔ ان کی معیشت، روایات اور سماجی ڈھانچہ انہی قدرتی وسائل پر منحصر رہا ہے ۔ اس لیے اراولی سے متعلق کوئی بھی حکومتی فیصلہ ان برادریوں کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے ۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ہندوستان میں تیز رفتار شہری اور صنعتی ترقی نے قدرتی وسائل پر غیرمعمولی دباؤ ڈالا ہے ۔ دہلی-این سی آر خطہ آبادی کے دباؤ، رہائشی منصوبوں، صنعتی زونز اور انفراسٹرکچر کی توسیع کے باعث خاص طور پر متاثر ہوا ہے ۔ ان حالات میں حکومتِ ہند اور ریاستی حکومتوں نے اراولی پہاڑی رینج سے متعلق متعدد پالیسی فیصلے کیے ۔
ان فیصلوں میں زمین کے استعمال کے قوانین میں تبدیلی، بعض علاقوں کو ''غیر جنگلاتی'' قرار دینا، کان کنی کے ضوابط میں نرمی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو قانونی تحفظ دینا شامل ہے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ترقی، روزگار اور شہری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
حکومتِ ہند کے اراولی سے متعلق فیصلوں کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے اہم پہلو معاشی ترقی ہے ۔ تعمیراتی منصوبوں، سڑکوں، ایکسپریس ویز اور صنعتی سرگرمیوں سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی کو مزدوری، خدمات اور کاروبار کے مواقع ملتے ہیں۔
انفراسٹرکچر کی بہتری بھی ایک اہم فائدہ ہے ۔ بہتر سڑکیں اور شہری سہولیات نہ صرف آمدورفت کو آسان بناتی ہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ حکومت کے مطابق جدید انفراسٹرکچر کے بغیر قومی اور عالمی معیشت میں مقابلہ ممکن نہیں۔
اس کے علاوہ کان کنی اور زمین کی ترقی سے حکومت کو ٹیکس اور رائلٹی کی صورت میں آمدنی حاصل ہوتی ہے ، جسے تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ قانونی ترقیاتی سرگرمیوں سے غیر قانونی تعمیرات پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
اراولی پہاڑی رینج سے متعلق حکومتی فیصلوں کے منفی پہلو نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔ سب سے بڑا نقصان ماحولیاتی توازن کو پہنچتا ہے ۔ کان کنی اور تعمیرات سے پہاڑیوں کی قدرتی ساخت تباہ ہوتی ہے ، جنگلات کا خاتمہ ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
زیرِ زمین پانی کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے ۔ دہلی اور این سی آر پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہیں، اور اراولی کی تباہی اس مسئلے کو سنگین تر بنا سکتی ہے ۔
فضائی آلودگی میں اضافہ ایک اور بڑا مسئلہ ہے ۔ درختوں کی کٹائی اور زمین کی کھدائی سے گرد و غبار بڑھتا ہے ، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے ۔ اس کے علاوہ موسمی نظام میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے ، جو طویل مدتی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بنے گا۔
مقامی اور قبائلی آبادیوں کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ زمین سے بے دخلی، معاشی عدم تحفظ اور ثقافتی شناخت کا نقصان سماجی بے چینی کو جنم دیتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدتی معاشی فوائد کے مقابلے میں یہ نقصانات کہیں زیادہ بڑے اور ناقابلِ تلافی ہیں۔
اراولی پہاڑی رینج کے تحفظ کے حوالے سے ہندوستانی عدلیہ نے متعدد بار سخت مؤقف اختیار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل نے غیر قانونی کان کنی اور تعمیرات کے خلاف فیصلے سنائے اور حکومت کو ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کی ہدایت دی۔
سول سوسائٹی، ماہرینِ ماحولیات، طلبہ اور نوجوان نسل بھی اراولی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ حلقے پائیدار ترقی کے تصور کو فروغ دیتے ہیں، جس میں ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم رکھا جائے ۔
Comments
Post a Comment