.jfif)
سلمان خان کا شمار بلاشبہ بالی ووڈ کے محبوب ترین اداکاروں میں ہوتا ہے ،اُن کی وجاہت ، مقناطیسی شخصیت اور دلکشی نے دنیا بھر میں لاکھوں مداحوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے ۔ وہ ایک کامیاب اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ فلم پروڈیوسر، ٹی وی ہوسٹ ، گلوکار اورسماجی کارکن بھی ہیں۔ اپنے منفرد اسٹائل، بہترین اداکاری اور ایکشن فلموں کی وجہ سے بالی وڈ میں ان کا ایک خاص مقام ہے ۔ انہوں نے اپنے کیریر میں بے شمار چھوٹی بڑی فلموں میں کام کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔سلمان خان پورا نام عبدالرشید سلیم سلمان خان ہے ان کی پیدائش 27 دسمبر 1965 کو اندور، مدھیہ پردیش میں معروف فلم کہانی کار سلیم خان اور سلمی خان کے یہاں ہوئی۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور مدھیہ پردیش میں آباد ہوئے ۔ ان کی والدہ مراٹھی ہندو ہیں۔ سلمان خان نے ایک مرتبہ خود بھی کہا ہے کہ وہ آدھے ہندو اور آدھے مسلمان ہیں۔ ان کی سوتیلی والدہ ہیلن ماضی کی ایک معروف بالی ووڈ اداکارہ ہیں، جنہوں نے سلمان خان کے ساتھ کچھ فلموں میں کام بھی کیا۔ ان کے دو بھائی ارباز خان اور سہیل خان اور دو بہنیں الویرا اور ارپتا ہیں۔ الویرا کی شادی اداکار و ہدایتکار اتل اگنی ہوتری سے ہو ئی ہے ۔سلمان خان نے اپنے بھائیوں ارباز اور سہیل کی طرح ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع سینٹ اسٹینسلاس ہائی اسکول سے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کی۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی ارباز کے ساتھ کچھ عرصہ گوالیار کے سندھیا اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بالی وڈ فلم انڈسٹری میں قدم رکھااور اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1988 میں فلم بیوی ہو تو ایسی سے کیا، جبکہ انہیں اصل شناخت 1989 میں ریلیز ہوئی فلم میں نے پیار کیا سے ملی، یہ فلم ہندوستان کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل تھی۔ اس فلم کے لیے سلمان خان کو فلم فیئر کے بہترین ڈیبیو اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی فلم فیئر کے بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئے ۔اس کے بعد انہوں نے ہم آپ کے ہیں کون، کرن ارجن، ہم دل دے چکے صنم، تیرے نام، دبنگ، بجرنگی بھائی جان اور ٹائیگر زندہ ہے جیسی کئی سپر ہٹ فلمیں دیں۔سلمان خان ایکشن اور ڈراما دونوں طرز کی فلموں میں اپنی مضبوط اداکاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ فلم وانٹڈ کے بعد انہوں نے مسلسل کامیاب ایکشن فلمیں دے کر خود کو بالی ووڈ کے صفِ اول کے اداکاروں میں شامل کر لیا۔ ٹیلی وژن پر بھی سلمان خان کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، خاص طور پر ریئلٹی شو بگ باس کی میزبانی کے ذریعے ، جسے وہ کئی سیزنز سے ہوسٹ کرتے آ رہے ہیں۔ سلمان خان نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری میں بھی قسمت آزمائی ۔ انہوں نے کئی بہترین گانے بھی گائے ہیں۔سلمان خان ایک باڈی بلڈر بھی ہیں۔ وہ روزانہ سخت ورزش کرتے ہیں اور فلموں اور اسٹیج شوز میں پرفارم کرنے کے لیے خاصے مشہور ہیں۔ امریکی جریدے پیپل میگزین نے سال 2004 میں انہیں دنیا کا ساتواں اور ہندوستان کا سب سے خوبصورت مرد قرار دیا تھا۔ پندرہ جنوری 2008 کو لندن کے مشہور مادام تساد میوزیم میں سلمان خان کا قدِ آدم مومی مجسمہ نصب کیا گیا۔ اس طرح وہ اس عجائب گھر میں مومی مجسمے کی صورت میں جگہ پانے والے چوتھے ہندوستانی اداکار بن گئے ۔فلم کے علاوہ سلمان خان سماجی خدمت میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ بیئنگ ہیومن فاؤنڈیشن کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں فلاحی کام کرتے ہیں۔ سلمان خان کو ان کے مداح محبت سے بھائی جان اور سَلّو بھائی کہتے ہیں اور وہ آج بھی ہندی سنیما کے سب سے بڑے اور مقبول ستاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔سال 1990 میں سلمان خان کی صرف ایک فلم باغی: اے ریبل فار لو ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ان کے مد مقابل جنوبی ہند کی اداکارہ نغمہ مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سال 1991 سلمان خان کے لیے ایک کامیاب سال رہا، جب انہوں نے مسلسل تین کامیاب فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم ابتدائی کامیابی کے باوجود، 1992 اور 1993 میں ریلیز ہونے والی ان کی تمام فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں۔ ہدایتکار سورج آر برجاتیہ کے ساتھ دوسری بار کام کرتے ہوئے سلمان خان نے 1994 میں رومانوی فلم ہم آپ کے ہیں کون میں اداکارہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک بار پھر اپنی کامیابی کی تاریخ دہرائی۔ یہ فلم اس سال کی سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور نہ صرف بالی ووڈ کی سب سے بڑی تجارتی کامیابیوں میں شامل ہوئی بلکہ اسے ہر طرف سے زبردست پذیرائی بھی ملی۔ سلمان خان کو اپنی شاندار اداکاری پر خوب سراہا گیا اور اس کے نتیجے میں انہیں دوسری مرتبہ فلم فیئر کے بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ اسی سال سلمان خان کی اداکاری پر مبنی تین اور فلمیں بھی ریلیز ہوئیں، لیکن وہ پہلی فلم جیسی کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ تاہم عامر خان کے ساتھ فلم انداز اپنا اپنا میں ان کی اداکاری کو خاصی تعریف ملی۔ سال 1995 میں سلمان خان نے راکیش روشن کی بلاک بسٹر فلم کرن ارجن میں اداکاری کی، جس میں ان کے ساتھ شاہ رخ خان بھی مرکزی کردار میں تھے ۔ یہ فلم سال کی دوسری سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم میں 'کرن' کے کردار نے ایک بار پھر سلمان خان کو فلم فیئر کے بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے نامزد کروا دیا، اگرچہ اس مرتبہ یہ ایوارڈ ان کے ساتھی اداکار شاہ رخ خان کے حصے میں آیا۔سال 1996 کے بعد سلمان خان نے دو کامیاب فلمیں دیں۔ پہلی فلم خاموشی: دی میوزیکل تھی، جو سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایتکاری میں بنی ان کی پہلی فلم تھی، جس میں منیشا کوئرالا، نانا پاٹیکر اور سیما بسواس نے بھی اداکاری کی۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی، تاہم ناقدین نے اس کی ستائش کی۔ انہیں اگلی کامیابی راج کنور کی ایکشن فلم جیت سے ملی، جس میں ان کے ساتھ سنی دیول اور کرشمہ کپور اہم کرداروں میں تھے ۔سال 1997 میں سلمان خان کی دو فلمیں جڑواں اور اوزار ریلیز ہوئیں۔ جڑواں ایک کامیاب مزاحیہ فلم تھی، جس کے ہدایت کار ڈیوڈ دھون تھے اور اس میں سلمان خان نے جڑواں بھائیوں کے دوہرے کردار ادا کئے تھے ۔سال 1998 میں سلمان خان نے پانچ مختلف فلموں میں کام کیا۔ ان کی پہلی ریلیز پیار کیا تو ڈرنا کیا سال کی سب سے بڑی کامیاب فلموں میں شامل رہی، جس میں ان کے ساتھ کاجول مرکزی کردار میں تھیں۔ اس کے بعد ان کی فلم جب پیار کسی سے ہوتا ہے ریلیز ہوئی، جس نے معمولی کامیابی حاصل کی۔ اس فلم میں سلمان خان نے ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا جو ایک بچے کی پرورش کرتا ہے ، جو خود کو اس کا بیٹا قرار دیتا ہے ۔ اس کردار میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا اور ناقدین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔اسی دوران وہ کرن جوہر کی ہدایتکاری میں بنی پہلی فلم کچھ کچھ ہوتا ہے میں شاہ رخ خان اور کاجول کے ساتھ مہمان کردار (امن) میں نظر آئے ۔ اگرچہ ان کا کردار مختصر تھا، لیکن یہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا اور انہیں اس فلم کے لیے دوسری مرتبہ فلم فیئر کے بہترین معاون اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔سال 1999 میں سلمان خان نے تین بڑی ہٹ فلموں میں اداکاری کی، جن میں ہم ساتھ ساتھ ہیں نے ہدایتکار سورج برجاتیہ کے ساتھ ان کے تعلق کو تیسری بار مضبوط کیا۔ اسی برس بیوی نمبر 1 سال کی سب سے بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی، جبکہ ہم دل دے چکے صنم نے ناقدین کو بھی متاثر کیا اور اس فلم نے سلمان خان کو ایک بار پھر فلم فیئر بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے نامزد کروایا۔سال 2000 میں سلمان خان نے چھ فلموں میں کام کیا، تاہم یہ فلمیں مجموعی طور پر ناقدین اور کاروباری اعتبار سے کامیاب ثابت نہ ہو سکیں۔ ان میں سے دو فلمیں ہر دل جو پیار کرے گا اور چوری چوری چپکے چپکے قدرے کامیاب رہیں، جن میں ان کے ساتھ رانی مکھرجی اور پریتی زنٹا شریکِ اداکارہ تھیں۔سال 2001 فلم چوری چوری چپکے چپکے میں سلمان خان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی۔ یہ بالی ووڈ کی پہلی فلم تھی جس میں سروگیسی جیسے حساس موضوع کو پیش کیا گیا۔سال 2002 میں انہوں نے فلم ہم تمہارے ہیں صنم میں کام کیا، جو باکس آفس پر ایوریج ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سلمان خان کی کئی فلمیں باکس آفس پر ناکام رہیں، یہاں تک کہ 2003 میں فلم تیرے نام کے ذریعے انہوں نے زبردست واپسی کی۔ یہ فلم تجارتی طور پر کامیاب رہی اور ناقدین نے ان کی اداکاری کی بھرپور تعریف کی۔ فلم نقاد ترون آدرش کے مطابق، یہ فلم جنوبی ہند کے طرز پر بنی تھی اور سلمان خان نے اس میں ایک جذباتی اور حساس کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ فلم میں ان کے جذباتی مناظر، خصوصاً درد اور چیخ و پکار کے مناظر، بے حد متاثر کن رہے ۔اس کامیابی کے بعد سلمان خان نے مزاحیہ فلموں مجھ سے شادی کروگی (2004) اور نو انٹری (2005) کے ذریعے باکس آفس پر اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھی۔ تاہم 2006 ان کے لیے ایک ناکام سال ثابت ہوا، جب ان کی فلمیں جانِ من اور بابُل باکس آفس پر بری طرح ناکام ہو گئیں۔
سال 2007 کا آغاز انہوں نے فلم سلامِ عشق سے کیا، جو باکس آفس پر کوئی خاص کمال نہ دکھا سکی۔ اس کے بعد ان کی فلم پارٹنر ریلیز ہوئی، جس نے شاندار کاروبار کیا اور انہیں ایک بار پھر بلاک بسٹر اسٹار کے سنگھاسن پربراجمان کردیا۔
اسی سال سلمان خان ہالی ووڈ فلم میری گولڈ: این ایڈونچر ان انڈیا میں امریکی اداکارہ الی لارٹر کے ساتھ نظر آئے ۔ ایک ہندوستانی مرد اور امریکی عورت کی محبت پر مبنی یہ فلم تجارتی اور تنقیدی دونوں لحاظ سے بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ سال 2008 میں سلمان خان نے ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم رکھا اور گیم شو دس کا دم کی میزبانی کی، جو بین الاقوامی شو پاور آف ٹین پر مبنی تھا۔
ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ساجن (1991)، ہم آپ کے ہیں کون (1994)، ہم ساتھ ساتھ ہیں (1999)اور بیوی نمبر 1 (1999)شامل ہیں۔ یہ وہ فلمیں تھیں جنہوں نے ان کے کیریئر کے پانچ مختلف برسوں میں سب سے زیادہ کمائی کی۔
سال2017 میں فلم ٹائیگر زندہ ہے نے کمائی کے لحاظ سے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس طرح سلمان خان نے خود کو ہندی سنیما کے نمایاں اور عظیم اداکاروں میں شامل کر لیا۔ بعد میں آنے والی فلمیں وانٹڈ (2009)، دبنگ (2010)، ریڈی (2011) اور باڈی گارڈ (2011) ہندی فلمی صنعت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شمار ہوئیں۔
کِک (2014) سلمان خان کی پہلی فلم تھی جو 200 کروڑ کلب میں شامل ہوئی۔ یہ ان کی ساتویں فلم تھی جس نے 100 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔ کچھ عرصے سے سلمان فلموں میں کم ہی نظر آئے اور اس دوران کی جو بھی فلمیں ریلیز ہوئیں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔ اس کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی وہ ہندوستان کے صف اول کے اداکاروں میں شامل ہیں اور ان کے فن کا جادو آج بھی برقرار ہے ۔
Comments
Post a Comment