خواب، محنت اور دھماکہ :سکیب الغنی کی ناقابلِ یقین داستان

محمد التجا عثمانی 

رانچی کا جے ایس سی اے گراؤنڈ ایک ایسی تاریخی حقیقت کا گواہ بنا جس کی بازگشت کرکٹ کی دنیا میں برسوں سنائی دے گی۔ موتیہاری کے ایک 26 سالہ نوجوان،سکیب الغنی نے جب میدان میں قدم رکھا، تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ محض ایک میچ کھیلنے نہیں، بلکہ تاریخ کا رخ موڑنے آیا ہے ۔ انڈر-14 سے لے کر وجے ہزارے ٹرافی تک، سکیب نے ہر منزل پر اپنی دھاک بٹھائی، لیکن رانچی کا یہ میدان ان کے عروج کا مستند سند بن گیا۔ سکیب الغنی کا یہ عالمی ریکارڈ محض ایک اننگز نہیں، بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو چھوٹے شہروں میں بڑے خواب دیکھتے ہیں۔  ہندوستانی کرکٹ کے افق پر ایک ایسا ستارہ نمودار ہوا ہے جس کی چمک نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ سکیب الغنی نے اپنے بلے کو شمشیر بنا کر میدانِ جنگ (کرکٹ گراؤنڈ) میں وہ جوہر دکھائے کہ ریکارڈز کے مینار زمین بوس ہو گئے ۔ جب سکیب الغنی نے اروناچل پردیش کے خلاف محض 32 گیندوں پر سنچری داغ کر پورے ہندوستان میں سنسنی پھیلا دی۔ یہ صرف ایک سنچری نہیں تھی، بلکہ ایک اعلانِ جنگ تھا کہ اب چھوٹے شہروں کے کھلاڑی عالمی ریکارڈز پر قابض ہونے کے لیے تیار ہیں۔ 320 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلی گئی یہ اننگز کرکٹ کی کتابوں میں 'سونامی' کے نام سے یاد رکھی جائے گی۔ 40 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 128 رنز۔ 10 چوکے اور 12 فلک بوس چھکے ۔ انہوں نے اپنی ہی ٹیم کے اوپنر وئبھو کا ریکارڈ محض ایک گھنٹے کے اندر توڑ دیا۔ محض 32 گیندوں پر تیز ترین سنچری داغنے والے سکیب الغنی کوئی اتفاقی نام نہیں ہیں، بلکہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے بہار کی کرکٹ ٹیم کا ایک مضبوط ستون رہے ہیں۔ ان کی حالیہ تاریخی کارکردگی ان کی برسوں کی محنت اور مسلسل فارم کا نتیجہ ہے ۔محمد منان غنی کے اس سپوت نے ثابت کر دیا کہ ٹیلنٹ کسی بڑے شہر یا اکیڈمی کا محتاج نہیں ہوتا۔سکیب الغنی نے اپنے پیشہ ورانہ کرکٹ (لسٹ-اے ) کا آغاز 7 اکتوبر 2019 کو وجے ہزارے ٹرافی کے دوران کیا تھا۔ تب سے اب تک وہ مسلسل تین چار سیزن سے بہار کی ٹیم کا لازمی حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے گھریلو کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ،سکیب الغنی کا نام پہلی بار عالمی سطح پر تب گونجا جب انہوں نے رنجی ٹرافی میں میزورم کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا۔ دنیا نے وہ منظر حیرت سے دیکھا جب ایک نووارد کھلاڑی نے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں 341 رنز کی ہمالیہ جیسی اننگز کھیل ڈالی۔ 56 چوکے اور دو چھکے ، یہ اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ اس کھلاڑی کے اعصاب کتنے مضبوط ہیں۔ وہ دنیا کے پہلے بلے باز بنے جنہوں نے ڈیبیو (پہلا میچ) پر ٹرپل سنچری بنائی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سکیب الغنی نے 2019 میں ڈیبیو کے بعد سے خود کو نکھارا ہے ، وہ دن دور نہیں جب وہ ہندوستانی قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دیتے نظر آئیں گے ۔وہ ایک ایسے کپتان کے طور پر بھی ابھرے ہیں جو نہ صرف ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے بلے سے ریکارڈز کا سینہ چاک کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ 2 ستمبر 1999 کو بہار کے ضلع موتہاری میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان آج 26 سال کی عمر میں شہرت کی بلندیوں پر ہے ۔ سکیب کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ جب انڈر 19 میں قدم رکھا، تو سلیکٹرز کو یہ باور کرا دیا کہ ان کے پاس ایک ہیرا موجود ہے ۔ جو ایک بہترین دائیں ہاتھ کا بلے باز ہی نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنی میڈیم فاسٹ بولنگ سے حریفوں کے چھکے چھڑانے کا ہنر بھی جانتا ہے ۔ ہندوستانی کرکٹ کا یہ نیا 'سلطان' اب رکنے والا نہیں ہے ۔ سکیب الغنی کا بلا اب صرف رنز نہیں اگلتا، بلکہ وہ تاریخ لکھ رہا ہے ، ایسی تاریخ جو نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔یہ ریکارڈ خود بولتا ہے ۔ فرسٹ کلاس کرکٹ: 28 میچوں میں 2035 رنز، جن میں 5 سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ لسٹ اے : 33 میچوں میں 867 رنز، اور اب ہندوستان کی تیز ترین سنچری کا تاج ان کے سر پر ہے ۔  لیکن سکیب الغنی کا سفر آسان نہیں تھا۔ ان کے والد محمد منان غنی ایک کسان ہیں اور چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ خاندان نے کئی بار اپنی زمین تک گروی رکھی تاکہ سکیب کی ٹریننگ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔ بڑے بھائی فیصل غنی، جو خود ایک کوچ ہیں، سکیب کے لیے ڈھال بنے رہے ۔سکیب الغنی کی والدہ نے اپنے بیٹے کے خوابوں کی آبیاری کے لیے اپنے سونے کے زیورات تک گروی رکھ دیے تاکہ ان کا بیٹا میدان میں سر اٹھا کر کھیل سکے ۔سکیب بتاتے ہیں کہ جب وہ رنجی ٹرافی کے لیے روانہ ہو رہے تھے ، تو ان کی ماں نے انہیں تین بلے تھمائے اور کہا،"جا بیٹا! میں تجھے تین بلے دے رہی ہوں، مجھے تین سنچریاں لگا کر دکھانا اور انہوں نے ٹرپل سنچری اسکور کردی ۔ان کے بڑے بھائی فیصل غنی جو خود کوچ بہار ٹرافی کھیل چکے اور ایسٹ زون کی کپتانی کر چکے ہیں،سکیب الغنی کے پہلے گرو اور رہنما بنے ۔ فیصل نے اپنے ادھورے خوابوں کی تعبیر اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھوں میں دیکھی اور اسے وہ ابتدائی تربیت دی جس نے آج اسے ایک عالمی ریکارڈ ہولڈر بنا دیا ہے ۔ہندوستان کے سابق وکٹ کیپر بلے باز اور بہار کے انڈر-23 کوچ اجے راترا نے نے بھی سکیب الغنی کو نکھارنے اور آگے بڑھانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ اجے راترا کی عقابی نظروں نے پہلی بار سکیب کو پٹنہ کے تاریخی معین الحق الحق اسٹیڈیم میں کھیلتے ہوئے دیکھا۔ راترا نے ان کی تکنیک اور ہمت کو بھانپتے ہوئے انہیں سی کے نائیڈو ٹرافی کے لیے منتخب کیا۔ اجے راترا کے بقول: سکیب الغنی ایک ایسا ہمہ گیر بلے باز ہے جو ٹاپ-6 میں کسی بھی نمبر پر آ کر میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔سال 2022 ثاقب کی زندگی کا وہ موڑ تھا جس نے انہیں گمنامی کے اندھیروں سے نکال کر عالمی شہرت کے مناروں پر کھڑا کر دیا۔ رنجی ٹرافی میں اپنے ڈیبیو میچ کے دوران انہوں نے جو ٹرپل سنچری اسکور کی، اس نے کرکٹ کی دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن گئے جس نے اپنے پہلے ہی میچ میں تین سو رنز کا جادوئی ہندسہ عبور کیا۔آج جب سکیب الغنی میدان میں چوکے اور چھکوں کی بارش کرتے ہیں، تو اس میں اجے راترا کی جوہر شناسی، فیصل غنی کی محنت اور ایک کسان والد کی دعائیں شامل ہوتی ہیں۔آج جب سکیب نے 12 فلک بوس چھکوں کی مدد سے ریکارڈ ساز اننگز کھیلی، تو درحقیقت وہ اپنی ماں کے ہر ایک زیور کا قرض اتار رہے تھے ۔ خاندان کا فخر، قوم کی شان سکیب الغنی اپنی اس عظیم کامیابی کا سہرا اپنے کسان والد اور اس خاندان کے سر سجاتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی ان کے خوابوں کی لو کو بجھنے نہ دیا۔ آج جب وہ میدان میں کھڑے ہو کر چھکوں کی برسات کرتے ہیں، تو درحقیقت وہ ان تمام نوجوانوں کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں جو وسائل کی کمی کے باوجود اپنی محنت سے مقدر بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سکیب الغنی نے ثابت کر دیا کہ ہنر کسی بڑے شہر یا شاہانہ سہولیات کا محتاج نہیں ہوتا۔ آج کرکٹ کی دنیا کو ایک نیا ہیرو مل چکا ہے ، ایک ایسا کھلاڑی جس نے ثابت کر دیا کہ ریکارڈز بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں، بشرطیکہ سینے میں جنون اور کلائیوں میں فن کا جادو ہو۔موتہاری کے اس 'لال' نے بہار کرکٹ کی ساکھ کو وہ بلندی عطا کی ہے جس کی تمنا ہر کھلاڑی کرتا ہے اور یہ عالمی ریکارڈ محض ایک اننگز نہیں، بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو چھوٹے شہروں میں بڑے خواب دیکھتے ہیں۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟