Skip to main content

منموہن سنگھ کی یاد میں: وہ شخص جس نے ہندوستانی معیشت کو سنبھالا

جینت رائے چودھری

آج سے ایک سال قبل، باکسنگ ڈے کے موقع پر ہندوستان کے 13ویں وزیر اعظم منموہن سنگھ کا انتقال ہوا۔ وہ اپنے پیچھے ایک عظیم وراثت چھوڑ گئے -ایسی وراثت جس نے انہیں مداح بھی دیے اور ناقدین بھی۔
اپنی وفات سے دس برس قبل 2014 میں جب منموہن سنگھ ایک زبردست انتخابی شکست کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تو انہوں نے قدرے تلخی کے ساتھ کہا تھا: ''تاریخ مجھے (زیادہ) مہربانی سے پرکھے گی۔''
واقعی، ایسا ہی ہوگا۔
جب 1991 میں منموہن سنگھ ہندوستان کے وزیر خزانہ بنے تو ملک دیوالیہ ہونے کے بالکل قریب تھا۔ سوویت یونین کے انہدام سے ہندوستان ایک بڑے تجارتی شراکت دار سے محروم ہو چکا تھا، جبکہ خلیجی جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔
ملک کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر محض ایک ارب ڈالر سے کچھ زیادہ تھے ، جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے ۔ موڈیز نے ہندوستان کی خود مختار درجہ بندی کو ''جنک اسٹیٹس'' تک گرا دیا تھا اور افراطِ زر تقریباً 14 فیصد تک پہنچ چکا تھا، جس نے ملک کے بڑے متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا۔
قومی بحران کے اس نازک لمحے پر ماہرِ معاشیات سے مرکزی بینک کے گورنر بننے والے منموہن سنگھ نے فیصلہ کن اقدامات کیے ۔ ان کے ابتدائی فیصلوں میں سے ایک روپے کی قدر میں دو مرحلوں میں تقریباً 20 فیصد کمی تھی، جس سے برآمدات کو فروغ ملا اور ملک کو وہ قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوا جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔
1991 سے 1996 تک وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی کابینہ میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے منموہن سنگھ ہندوستان کی معاشی اصلاحات اور لبرلائزیشن کے معمار بن کر ابھرے ۔ انہوں نے ہندوستان میں ''پیروسٹروئیکا'' کے مترادف اصلاحات متعارف کرائیں اور اس بیوروکریٹک ''لائسنس-پرمٹ راج'' کو ختم کیا جس نے طویل عرصے تک ترقی کا گلا گھونٹ رکھا تھا۔
نتائج غیر معمولی تھے ۔ جمود کا شکار ہندوستانی معیشت فینکس کی طرح بلند ہوئی اور ایسی بلندیوں کو چھوا جو اس سے قبل ناقابلِ تصور تھیں۔ ہندوستان کی جی ڈی پی شرحِ نمو، جو اس سے پہلے اوسطاً صرف 3.5 فیصد تھی، تیزی سے بڑھ کر 7 فیصد سے تجاوز کر گئی اور بعض اوقات 8.5 فیصد سے بھی آگے نکل گئی۔
ان اصلاحات کے گہرے سماجی اثرات مرتب ہوئے ۔ آٹوموبائل صنعت نے زبردست ترقی کی، عالمی اور ملکی کمپنیوں نے ملک بھر میں کارخانے قائم کیے ۔ متوسط طبقے کے لیے گاڑیاں قابلِ استطاعت ہو گئیں، جبکہ دو پہیہ گاڑیاں کم آمدنی والے گھرانوں تک پہنچ گئیں۔ وہ خاندان جو کبھی کھچا کھچ بھرے عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے تھے ، اب ماروتی، ڈیؤو یا ٹاٹا جیسی گاڑیوں کے مالک بننے لگے -جو بدلتے ہوئے ہندوستان کی علامت تھیں۔
آمدنی میں اضافے سے خوراک میں بہتری آئی، پروٹین کا استعمال بڑھا، جبکہ الیکٹرانک آلات-جو کبھی مہنگے ہونے کے باعث تعیش سمجھے جاتے تھے -مسابقت کے باعث سستے ہو کر گھریلو ضروریات میں شامل ہو گئے ۔
شاید سب سے اہم بات یہ تھی کہ منموہن سنگھ نے ہندوستان کو دنیا کے لیے کھول دیا۔ عالمی سرمایہ کار بڑی آبادی والے اس ملک میں ایک نئی ترقی کی کہانی دیکھ کر ہندوستان کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اسی دوران ہندوستانی کمپنیاں بیرونِ ملک پھیلیں، ہندوستانی مصنوعات، صلاحیت اور مہارت کو دنیا کے سامنے خاص طور پر تربیت یافتہ آئی ٹی ماہرین اور کم لاگت پر تیار کی جانے والی اشیائے ضروریہ کے ذریعے پیش کیا۔
یوں ہندوستان ایک بار پھر عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا، ایک سخت کنٹرول والی، ہچکولے کھاتی معیشت سے نکل کر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے دور میں داخل ہوا۔
تاہم، منموہن سنگھ کو محض ایک ''معاشی ماہر سے وزیر اعظم بننے والا شخص'' قرار دینا صدی کی سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔
انہوں نے خود کو ایک ماہر سیاست دان اور عالمی سطح پر معزز مدبر ثابت کیا۔ 2004 میں، جب کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزارتِ عظمیٰ قبول کرنے سے انکار کیا، تو منموہن سنگھ نے یہ منصب سنبھالا۔ انہوں نے پارٹی معاملات سونیا گاندھی کے سپرد کیے اور خود حکمرانی پر توجہ مرکوز رکھی، جبکہ پرنب مکھرجی نے اپنے وسیع تجربے کے ساتھ حکومت کے روزمرہ امور کی نگرانی کی۔
ان کی ایک بڑی کامیابی ہندوستان کو عالمی جوہری نظام میں شامل کرنا تھی۔ 1974 میں جوہری طاقت بننے کے باوجود ہندوستان عالمی سطح پر الگ تھلگ تھا۔
امریکہ کے ساتھ منموہن سنگھ کے مذاکرات تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے پر منتج ہوئے ، جس کے ذریعے ہندوستان ایک خصوصی عالمی کلب کا حصہ بنا۔ اس معاہدے کی بائیں بازو کے اتحادیوں نے شدید مخالفت کی اور بالآخر انہوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی۔
امریکہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ہندوستان عالمی جوہری کلب میں شامل ہوا، حالانکہ بائیں بازو کے اتحادیوں کی سخت مخالفت کے باعث منموہن سنگھ کو سی پی آئی (ایم) کے بجائے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو اتحادی بنانا پڑا۔
2008 کے ممبئی حملوں کے بعد منموہن سنگھ نے سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان کی قیادت اور اس کے حمایتیوں کو عالمی سطح پر تنہا کیا، اور ایک علاقائی مسئلے کو بین الاقوامی مسئلہ بنا دیا-وہ بھی بغیر کسی فوجی کارروائی کے ۔
تاہم، ان کی دوسری مدتِ حکومت میں بدعنوانی کے اسکینڈلز، جن میں کابینہ کے وزرا شامل تھے ، عوامی اعتماد کو مجروح کر گئے ۔ ساتھ ہی، جارح اپوزیشن کی جانب سے مسلسل پارلیمانی رکاوٹوں کے باعث پالیسی مفلوج ہو گئی اور معیشت کی رفتار نسبتاً سست پڑ گئی۔
سینئر بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی نے انہیں ہندوستان کا ''کمزور ترین وزیر اعظم'' قرار دیا۔ منموہن سنگھ نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ قومی مفاد میں فیصلے کیے ۔
جہاں منموہن سنگھ کو واقعی مشکل پیش آئی، وہ اپنی شبیہ سازی کا فن تھا۔ وہ اپنی کامیابیوں کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں ناکام رہے ، اور ان کی بہت سی پالیسیوں کی قدر و قیمت کا احساس برسوں بعد ہوا۔
اس کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ، بہت سے لوگ انہیں ان دیرپا مثبت تبدیلیوں کے لیے یاد رکھیں گے جو انہوں نے خاموشی سے ہندوستان کی معیشت اور معاشرے میں متعارف کرائیں۔ تاریخ غالباً انہیں کہیں زیادہ مثبت انداز میں یاد کرے گی-ایک ایسے رہنما کے طور پر جس نے ملک کو بیوروکریٹک جکڑ بندیوں اور معاشی جمود سے نجات دلائی اور نئے مواقع کے لیے دروازہ کھولا۔

Displaying NR 4008 Special Train Notice URDU 8x17.pdf.

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟