10 منٹ میں سامان ڈیلیوری کی قید ہٹی!
ہمارے دیش میں ورکنگ کلاس طبقہ خاص کر ینگ بلڈ لڑکے لڑکیوں میں گھر میں من پسند کھانا یا ذائقہ دار چیزیں یا آئس کریم کھانے کے لئے آن لائن منگانے کا ٹرینڈ تیزی سے بڑھتاجارہا ہے کسی کمپنی یا مال سے خریدے سامان کو گراہک کو دس منٹ کے اندر گگ ورکروں کو پہنچانے کی ٹائم لمٹ ہے ۔ان کمپنیوں سے خریدنے والوں کے ذریعے اپنا مطلوبہ سامان 10 منٹ میں درکار پتہ پر پہنچانے کا وعدہ طے ہے اس لئے گگ ورکرس کو سامان مطلوبہ گراہک تک طے ٹائم میں پہنچاناضرور ی ہوتا ہے چاہے وہ ٹریفک جام یا منگائے جانے والے ایڈریس کی تلاش میں اس کا وقت کیوں نہ لگے ۔اگر ٹائم نکل جائے گا تو مطلوبہ گراہک سامان واپس بھی کر دیتا ہے ۔اس صورت میں گگ ورکرس کو دوکاندار کو واپسی کی پینلٹی یعنی کرایہ خرچ واپس بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس کو لے کر نوجوان گگ ورکرس میں طے ٹائم میں پہنچنے کی جلدی کی ٹنشن بنی رہتی ہے اور سیکورٹی تشویشات بھی پیدا ہوتی ہیں ۔حال ہی میں سرکاری مداخلت کے بعد کمپنیوں نے اس شرط کو ہٹا دیا ہے ۔واضح ہو کہ کوئک کامرس کمپنیوں جیسے بلکٹ ،زومیٹو ،سوئیگی نے دس منٹ ڈیلیوری کو ایک مارکیٹنگ حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا۔اس سے گگ ورکس پر ہر موسم او ر ٹریفک کی صورت میں تیزی سے گاڑی چلانے کا زبردست دباؤ بنا رہتاہے ۔بہت سے گگ ورکس تو ذہنی دباؤ کے چلتے حادثوں کے شکار بھی ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کو خطرہ بنا رہتا ہے ۔اب مرکزی حکومت کی مداخلت کے بعد آن لائن آرڈرس سے دس منٹ میں ڈیلیوری کا جو قاعدہ وشرط تھی وہ ہٹا لی گئ ہے ۔جو گگ ورکرس کے حق میں اچھا قدم ہے۔ڈیلیوری بوائس کے علاوہ انسانی حقوق رضاکاروں اور کچھ انجمنوں نے بھی کوئک ڈیلیوری قاعدے کو ہٹانے کا خیر مقد م کیا ہے۔دراصل مرکزی وزیر محنت منسکھ منڈاویہ نے مال ڈیلیور کرنے والی کمپنیوں زومیٹو ،سوئیگی وغیرہ کے حکام سے بات کی تھی۔سرکار کا صاف کہنا تھا تیز رفتار ڈیلیوری کے دباؤ میں ڈیلیوری بوائے کی جان خطرے میں نہیں پڑنی چاہیے ۔دراصل دیش میں کوئک کامرس یعنی بے حد تیزی سے ڈیلیوری کا چلن گزشتہ کئی برسوں میں جس تیزی سے بڑھا ہے اس میں بلنکٹ ،زومیٹو ،سوئیگی ،انسٹا مارٹ جیسو ں نے دس منٹ کی ڈیلوری کو اپنی پہچان بنا دیا اور ہر نوجوان لڑکے ،لڑکیاں ان سے جلدی سامان منگانے کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن اس ٹرینڈ نے ڈیلوری بوائز کی زندگی کو مشکل بنا دی تھی اس کے خلاف گِگ ورکس نے 31 دسمبر 2025 کو ہڑتال کی تھی اور سرکار سے درخواست کی تھی کہ ان کی حفاظت کو لے کر قدم اٹھانے چاہیں ۔یہ اسی کا نتیجہ ہے سرکار کی سختی اور ڈیلیوری بوائز کی حفاظت کو دیکھتے ہوئے کمپنیوں نے اپنی برانڈنگ سے 10 منٹ بالاٹیگ ہٹانا شروع کر دیا ہے اس کے باوجود یہ مان لینا ابھی جلد بازی ہوگی کہ ڈیلیوری بوائز کو رفتار سے ڈیلیوری کرنے کی نجات مل پائے گی۔دس منٹ میں مال پہنچنے کا دعویٰ بھلے نہ کریں لیکن گراہکوں تک جلدی سامان پہنچانے کا کام پہلے کی طرح رہے گا۔چونکہ مال فراہم کرنے والی کمپنیوں کی ساکھ تو جلدی ڈیلیوری پر منحصر ہے ۔یہ رپورٹ آنے لگی ہے کہ دس منٹ کی دوڑ پر بریک لگ سکتا ہے ۔زومیٹو ،سوئیگی جیسوں کے منافع میں کمی آنے کا اندازہ ہے اس لئے سرکار نے پہلے ہی دس منٹ میں مال پہنچانے کا جو قانون تھا وہ ہٹا دیا ہو مگر ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ قاعدے میں ہوئی تبدیلی کا کتنا بنیادی اثر ہوا ہے ۔اس معاملے میں کنزیومرس کا رویہ بھی دیکھنے والاہوگا۔مال کو دیری سے ملنے پر وہ کیا سوچتے ہیں ۔اکثر دیکھا گیا سامان تاخیر سے ملنے پر اس کو لینے سے انکار کر دیا جاتا ہے اور ڈیلیوری بوائز سے گراہک بدسلوکی تک کرتے ہیں ۔دوسری طرف سامان واپس آنے پر کمپنی مالک ان کو پریشان کرتا ہے اور جو آنے جانے پر خرچ ہوتا ہے اس کو اس کی تنخواہ سے بھی کاٹنے پر اتار و ہوتا ہے ایسے میں کنزیومرس کو سمجھنا ہوگا کہ ڈیلیوری بوائز مشین نہیں ہیں بلکہ وہ بھی ایک انسا ن ہے اسلئے اگر سامان اس کو دس منٹ کے بعد تھوڑا دیری سے ملے تو اسے قبول کریں ۔آپ کے سامان نہ لینے سے گگ ورکرس کی نوکری پر تلوار لٹک جاتی ہے۔اب جب سرکار نے دس منٹ میں ڈیلیوری کی طے حد ہٹانے کے لئے قانون طے کر دیا ہے اب دیکھنا ہوگا کمپنیاں اس پر کتنا عمل کرتی ہیں؟
Comments
Post a Comment