صحافت کے لئے 2025مشکل ترین سال رہا

 عابد انور 

صحافت کا پیشہ دنیا کے خطرناک ترین پیشوں میں سے ایک ہے ، اس میں ہر وقت کچھ نہ کچھ ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے ۔ اگر صھافی عام دنوں میں بھی اگر کسی سے کوئی واجب سوال پوچھ لیتے ہیں تو وہ آپ کا جانی دشمن بن سکتا ہے ۔ کوئی دیکھ لینے کی دھمکی دیتا ہے تو کوئی اٹھالینے کی بات کرتا ہے ، تو خاندان کے افراد کے ساتھ برا کرنے کا شوشہ چھوڑ تاہے ۔ صحافت کا پیشہ صرف میدان جنگ میں ہی خطرناک اور جان لیوا ثابت نہیں ہوتا بلکہ فسادات کے دوران، بھگدڑ کے وقت، لڑائی کے وقت، دو لوگوں کی دشمنی کے وقت، لیڈروں کی ریلی میں، زلزلے کے دوران، سیلاب کی رپورٹنگ کرتے وقت، آتشزدگی کے معاملے میں بھی رپورٹنگ کرتے ہوئے جان جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے ۔ اس کے باوجود صحافی خطروں سے کھیلتے ہوئے لوگوں تک تمام معلومات جلد از جلد پہنچانا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ 

سال 2025 اپنی تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہو گیا،سال گزشتہ صحافیوں پر بھاری گزرا اور دنیا بھر میں 128 صحافی تشدد کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا بیٹھے ۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنسلٹس (آئی ایف جے )نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی مارے گے ۔ ان میں سے نصف سے زائد کا تعلق مشرق وسطیٰ سے تھا۔آئی ایف جے کے جنرل سیکریٹری نے ان اعداد وشمار کو صحافیوں کے لیے عالمی سطح پر ریڈ الرٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ ہونے کی صورت میں صحافیوں کے قاتلوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے ۔آئی ایف جے کے مطابق اسی مدت کے دوران 533 صحافیوں کو قید میں بھی ڈالا گیا ہے اور یہ تعداد گزشتہ پانچ برس کے دوران دو گنا سے بھی زائد ہے ۔سب سے زیادہ اموات غزہ میں ہو ئیں۔ جہاں حماس اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ایک سال میں 56 پیشہ ور صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو، ہندستان اور دوسرے ممالک میں بھی صحافیوں کو مارنے کے واقعات سامنے آئے ۔جب کہ سب سے زیادہ چین میں صحافیوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، جہاں 143 صحافی قید میں ہیں۔آئی ایف جے کی جانب سے مارے جانے والے صحافیوں کی گنتی رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان کے گنتی کے طریقہ کار میں فرق ہے ۔ سال 2025 میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں نو ایسے صحافی بھی شامل ہیں جن کی موت مختلف حادثات کی وجہ سے واقع ہوئی۔ 

ًًغزہ میں صرف صحافیوں کی زندگی ہی اجیرن نہیں ہوئی بلکہ اس کا خطرناک اثر ان کے خاندان پر بھی پڑا۔ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین میں ہونے والے مظالم سے دنیا کو آشکارا کرنے والے صحافیوں کے خاندان کو نشان زد طریقے سے نشانہ بنایا۔ فلسطینی صحافیوں کی سنڈیکیٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل نے فلسطینی صحافیوں کے کم از کم 706 خاندان کے افراد کو قتل کیا ہے ۔سنڈیکیٹ کی فریڈمز کمیٹی کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز منظم طریقے سے صحافیوں کے خاندانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس کا مقصد فلسطینی رپورٹنگ کو خاموش کرنا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی بجائے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صہیونی ریاست صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں بلکہ مسلسل تیسرے سال دنیا بھر میں صحافیوں کا بھی سب سے بڑا قاتل قرار دیا گیا ہے ۔ اسرائیل کے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور دنیا اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے بھی بخوبی واقف ہے ۔تاہم اسرائیل مسلسل تیسرے سال میں دنیا بھر میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل قرار پایا ہے ۔ 

 اس حوالے سے عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے چشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے ۔آر ایس ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2025 میں بھی دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں میں سے تقریباً نصف کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل ہے ۔سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس 2025 میں اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 67 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے ۔ ان میں سے 29 فلسطینی صحافیوں کو غزہ میں شہید کیا گیا۔خان یونس میں 25 اگست کو ہونے والا اسرائیلی فوج کا ڈبل ٹریپ حملہ صحافیوں کے خلاف بدترین حملہ تھا، جس میں 5 صحافی مارے گئے تھے ۔7اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 220 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے ۔ 

ہندوستان میں بھی صحافیوں کے لئے رخصت پذیر سال اچھا نہیں رہا اور صحافیوں کے قتل، گرفتاری اور دھمکیوں کا سال ثابت ہوا۔فری اسپیچ کلیکٹو (ایف ایس سی) کی رپورٹ کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کے 14875 معاملات سامنے آئے ۔ جن میں نو صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ سال2025کی شروعات ہی میں صحافی مکیش چندراکر کا قتل ہوا۔ ناقص سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں رپورٹ شائع کرنے پر انہیں قتل کرکے سیپٹک ٹینک میں ڈال دیا گیا تھا۔ آٹھ صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر سمیت 117شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ سینسر شپ کے 11385واقعات سامنے آئے ۔ ہندوستانی حکومت نے اظہار آزادی پر قدغن لگاتے ہوئے آٹھ ہزار سے زائد ایکس اکاؤنٹ کو بند کرنے کا حکم دیا۔ 

ہندوستان میں مجموعی طور پر صًحافیوں کی گرفتاری کے 117 واقعات، 40 حملے ، سینسر شپ کے 11385،ہراسانی کے 3070، قتل کے 9، دھمکی کے 17 اور لافیئر کے 208واقعات شامل ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں اظہارِ رائے کی آزادی میں 10 فیصد کمی اور صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، اس کے ساتھ خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراسانی کا بھی سامنا ہے ۔ورلڈ ٹرینڈز اِن فریڈم آف ایکسپریشن اینڈ میڈیا ڈیولپمنٹ رپورٹ 2022-2025 کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی میں 10 فیصد کمی آئی، جو کئی دہائیوں میں بدترین کمی ہے ۔رپورٹ کے مطابق صحافیوں میں سیلف سنسر شپ کے رجحان میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ 3 برس میں 186 صحافی ہلاک ہوئے ، صرف 2025 میں 93 صحافی مارے گئے ، جن میں زیادہ تر کی اموات جنگی علاقوں میں ہوئیں۔اس کے علاوہ خواتین صحافیوں پر بھی آن لائن حملے 75 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ 

غیر سرکاری تنظیم دی ویژن فاؤنڈیشن اور ملک کے صحافیوں کی اہم تنظیم نیشنل یونین آف جرنلسٹس (انڈیا) نے صحافیوں کی سلامتی اور میڈیا گروپوں کے لئے سیکورٹی انتظامات پر ایک مطالعہ اور سروے کیاہے جس سے صحافیوں پر حملوں کے علاوہ زیادتی کے واقعات پر غور کیا جاسکے اور وقت رہتے اس مسئلے کا موثر حل تلاش کیا جاسکے ۔سروے میں تقریباً 823صحافیوں نے حصہ لیا جس میں 21فیصد خواتین شامل ہیں۔سروے میں 266میڈیا اہلکار پرنٹ میڈیا 'اخبارات' میگزین '263 آن لائن میڈیا اور 98ٹی وی سے وابستہ تھے ۔ ملک میں 2019کے دوران چار صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔ اس سے پہلے 2018میں ملک میں پانچ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے یا کام کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ سروے میں شامل میڈیا اہلکاروں کا تجزیہ تھا کہ سیاسی حالات اور خیالات میں اختلاف کی وجہ سے صحافیوں کو ذہنی' جسمانی اور جذباتی زیادتی کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں سال2008 سے 2018 کا وقت سب سے خراب رہا۔ 

صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حملوں کا شکار ہونا پڑا۔سروے میں شامل ہونے والے تقریباً74فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے میڈیا ادارہ میں خبروں کی اشاعت کے لئے سب سے زیادہ اہم معیار اس کی صداقت ہے ۔ 13 فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ ادارہ کی ترجیح خصوصی خبروں کی اشاعت ہے ۔ تقریباً 33فیصد صحافیوں کا ماننا ہے کہ اکیسویں صدی میں صحافت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اظہار رائے کی آزادی پر بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ جب کہ تقریباً 21فیصد صحافیوں کا ماننا ہے کہ فرضی اور پیڈ نیوز آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج بنیں گے ۔تقریباً 18فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ نیوز ویب سائٹ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ سے مین اسٹریم کے اخبار اور میڈیا سے توقعات بڑھ رہے ہیں۔ لوگوں کا خبروں پر بھروسہ کم ہوا ہے ۔ یہ صحافت کی معتبریت پر بحران کا دور ہے ۔کسی طرح کی دھمکی یا زیادتی کا شکار تقریباً 44 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملے میں انہوں نے اس کی شکایت اپنے میڈیا ادارے کے افسران سے کی جب کہ صرف 12 فیصد صحافیوں نے اس طرح کی دھمکی کی اطلاع پولیس یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کودی۔ سروے میں شامل تقریباً 61 فیصد صحافیوں کو کبھی نہ کبھی حملے یا دھمکی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ 76فیصد صحافیوں کے میڈیا اداروں میں سلامتی سے متعلق نظم نہیں ہے ۔یا انہیں اس طرح کی سلامتی پر عمل یا پروٹوکول کے سلسلے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ 

صحافت ایک باوقار اہر اہم پیشہ ہے ۔ اس لئے پولٹزر نے اسے دوشیزہ کی آبرو سے تشبیہ دی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ صحافیوں کو اس پیشے کا اسی طرح تقدس کا خیال رکھنا چاہئے جس طرح ایک دوشیزہ اپنی آبرو کی حفاظت کرتی ہے ۔ایسے صحافیوں ہمیشہ صنعت کاروں، حکومتوں، مافیا اور دیگر غیر سماجی عناصر کے نشانے پر رہتے ہیں۔ صحافی ایسے لوگوں کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ لوگ اسے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال سیکڑوں صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کے سلسلے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دوسری طرف ایسے ہزاروں صحافی بھی ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنے مقدس پیشہ کو چند سکوں کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے والے صحافیوں کو لاکھوں سلام۔ 

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟