نئے سال 2026 میں خوشحالی اور سلامتی کی تمنّا!

آج یکم جنوری 2026 نئے سال کاآغاز ہو گیا ہے ۔دیش اور دہلی میں چٹھی ہونے کی وجہ سے ہر طرف لوگ نئے سال کی خوشیاں منا رہے ہیں ۔دہلی کے کناٹ پلیس علاقہ میں لوگوں نے جمع ہو کر میوزک اور شراب کا آنند لے کر خوب مستی کی اور ٹلّی ہو گئے ۔اس میں ان کی حرکتوں کے لئے پولیس نے 200 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا او ر 800 لوگوں کے غیر اجازت کار زون میں انٹری کے لئے چالان کاٹے ۔خیر جب کوئی جشن ہوتا ہے تو سارے قانون طاق پر ہوتے ہیں اور ہماری دہلی پولیس بھی تھوڑ اسا لچیلا پن اپناتی ہے اور خوب مزے لیتی ہے ۔بہرحال اس کا کام ہے لاء اینڈآرڈر بنائے رکھنا اس لئے اسے الرٹ رہنا ہوتا ہے ۔دہلی کے تمام 5اسٹار ہوٹلوں میں رات بھر رقص اور سنگیت کے پروگرام اور جام چھلکے ۔صبح ہوتے ہوتے سناٹا چھا گیا ۔کناٹ پلیس کے علاقہ میں بھیڑ کو دیکھتے ہوئے این ڈی ایم سی نے کچھ ممنوع علاقوں میں انٹری پر چالان کے طور پر پیسے بٹورے اور اس کی خوب کمائی ہوئی۔اور جیسے ہی رات 12.01منٹ پر نئے سال کا آغاز ہوا تو آسمان میں غبارے اور الیکٹرانک آتش بازی چھوڑی گئی۔ہر طرف نیا سال نیا سال بہرحال ایک مثال یاد آرہی ہے ۔ہم ہر سال نیا سال مناتے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیےنیا سال نیا سال پوچھیں گے آخر میں کیا حال ہے ۔مراد یہ ہے کہ مہنگائی کم ہونے کے دعوے تو سرکار کرتی ہے لیکن معاملہ برعکس ہوتا ہے ایسے ہی آج نئے سال کا پہلا دن ہے ۔سرکار نے کاروں کے دام اور ایل پی جی رسوئی گیس کے دام اضافہ کا تحفہ دے دیا ہے ۔جس سے گھرستنوں کی تمناؤں پر اوس پڑ گئی۔امید یہ تھی کہ سرکار گیس کے دام گھٹائے گی تاکہ ان کا چولہا چار گھنٹے کے بجائے پانچ گھنٹے چلے ۔خیر آج ہمارے دیش کو بہت سی چنوتیوں کا سامنا ہے ہم نے ان سے لڑنے کا پھر عزم کیا ہے ۔اور نئے سال میں دیش کو 2026 میں دنیا کا ایک طاقتور دیش بنانے کے خواب کی تعبیر پر عمل کے لئے سرکار تیزی سے کام کرے گی ۔لیکن ہم لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے یہ کام حب الوطن شہریوں کے ذریعے ہی ملکی مفاد کو بالاتر رکھ کر اپنے عزم کے بغیر پورا نہیں کیا جاسکتا ۔ابھی خبر آئی ہے کہ ہماری فوجوں نے پاکستان کی ناپاک سازش کو ناکام اس وقت کر دیا جب ڈرون کے ذریعے بارڈر کی طرف دھماکوسامان گرانے کی کوشش کی گئی ۔بہرحال اچھا ہوا ہماری فورس چوکس رہی ۔ہم پچھلے سال میں ہوئے واقعات جن میں کبھی خوشی کبھی غم ملا ہے اس نئے سال میں یہی تمنا لے کر آگے کے پلان اور ادھورے کاموں کو پورا کریں گے اور اس میں لوگوں کی دعاؤں اور پرارتھناؤں کی ضرورت ہوگی جو کسی نہ کسی پریشانی کو ٹالنے میں کارگر ہوتی ہیں ۔اپنی اور اپنوں کی جھولیوں میں خوشی سے بھرنے کا عزم لے کر اس کے لئے طے حکمت عملی کے مطابق آگے کی زندگی کے لئے کام کریں ۔نیا سال 2026 میں یہ موقع ہم سب لوگوں کو سکھ امن اور دھن دولت او ر بہتر صحت اور خوشحال زندگی کے راستے پر کامیابی کی تمناؤں کے ساتھ پازیٹو توانائی کا عزم کا احساس دلاتا ہے ۔دیش کے تمام ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیسائی سبھی فرقوں کے نیا سال منانے کے رسم و رواج بھلے ہی الگ ہوں لیکن اس کا بنیادی جذبہ پر غور کریں تو زیادہ تر لوگ زندگی کو ایک خوشحال اور بہتر فلاح کے لئے کام کرنے کی شروعات کا ایک بہترین موقع مانتے ہیں ۔آج ملک میں دھرم کے نام پر کچھ طاقتیں قوم کو بانٹنے کی کوشش میں لگی ہیں۔جبکہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی مفادکی خاطر اس کو اس ذہنیت کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔چناؤ میں اس طرح کے ٹرینڈ سے سوائے جمہوریت کے لئے ایک خطرہ ہیں جبکہ دوقوموں میں نظریاتی تلخی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب ہماری قوم بنٹی ہوگی تب ہم ملک دشمن طاقتوں سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں اور اسی کا فائدہ ہمارے دشمن دیش اٹھاتے ہیں اس لئے جو امن پسند بھارت کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں ۔اس لئے ان کے ارادوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرکے ہی ناکام بنایاجاسکتا ہے ۔اس لئے اب وقت آگیا ہے ہم نئے سال کی شروعات دیش کی حفاظت اور اتحاد کے عزم کے ساتھ کریں ۔اس نئے سال 2026 میں ہم تمام دیش واسیوں کو چاہیے چاہے وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ ملک میں بھائی چارے کے ساتھ دیش کی تعمیر نوکے لئے دن رات محنت سے کام کریں گے تو دنیا میں بھارت کی ترقی کا پرچم لہرائے گا ۔سال 2026 میں ہم دیش میں ایک ایسا شاندار مثبت ماحول بنائیں گے جس میں ہر طرف خوشحالی اور پیار و محنت کی بیار بہے۔تبھی ہم اس نظریہ کو لے کر ایک وکست دیش بنا کر جلد سے جلد ورلڈ لیڈر کے طور پر ابھر سکتے ہیں ۔اسی عزم کو لے کر ہم امید کرتے ہیں کہ نئے سال تمام دیش واسیوں کے لئے اچھا ثابت ہوگا ۔مہنگائی میں کمی آئے گی اور ترقی کے پروجیکٹ مکمل ہوں گے اسی دعا کے ساتھ نیا سال ہر شہری کی امیدوں پر کھرا اترے ۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟