جمہوریت کے 78 برس اور بھارت !
آج پورا دیش اپنا 78واں یوم جمہوریت منا رہا ہے ۔اس بارے میں اہم پروگرام نئی دہلی کے انڈیا گیٹ پر کرتویہ پتھ پر جمہوریت پریڈ نکالی جائے گی جس کی سلامی صدر جمہوریہ ہند محترمہ مرمو لیں گی ۔اس میں تینوں افواج دیش کی آن بان شان اور طاقت کا مظاہر ہ کرتی ہیں جس میں دنیا کو بھارت کے دفاعی میدان اور وکاس سیکٹر میں ہوئی ترقی کا مظاہرہ دیکھتی ہے ۔یوم جمہوریت پریڈ کو راشٹر پتی سلامی دیتے آئے ہیں یہ سلسلہ 26 جنوری 1950 سے چلا آرہا ہے ۔یہ دیش واسیوں کو سمرپت ہے ۔ہر سال کی طرح اس سال یعنی آج یوم جمہوریہ پر قومی بیداری کے دروازے پر موجود ہے ۔یہ دن ہر ایک حب الوطن کے لئے فطری طور پر باعث فخر اور خود اعتمادی و احترام کی علامت ہے ۔کیوں کہ 26 جنوری کو ہی انگریزوں سے نجا ت ملنے کے بعد بھارت میں نئے آئین کا نفاذ ہوا تھا جس میں ہر شہری کو صاف ستھری ہوا میں سانس لینے ،مذہبی آزادی ، اظہار رائے کی آزادی اور سرکار کے جائز اور ناجائز فیصلوں پر محاسبہ اور اختلاف ظاہر کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں لیکن آج دیش میں یہ آزادی درپردہ طور پر ایک طرح سے سلب ہوتی نظر آرہی ہے ۔ کیوں کہ آئین میں ملے حق کے مطابق عام آدمی کو سرکار کے عوام مخالف فیصلوں پر آواز اٹھانے کا حق ہے ۔لیکن 78 برسوں میں اس آزادی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔کیوں کہ ہمارا حکمراں لیڈر شپ ان کے حقوق پر طرح طرح کی بندشیں لگا کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔تازہ مثال جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم عمر خالد کو جیل میں ڈالاہوا ہے ۔تین سال بعد اس ماہ عدالت سے ان کو رہائی کی امید تھی لیکن عدالت نے ان کو ضمانت نہیں دی اس کو لے کر سرکردہ شخصیات نے اپنی رائے رکھتے ہوئے ان میں کپل سبل نے کہا کہ ضمانت ملنی چاہیے تھی ۔اظہار رائے کا ہر شخص کو حق ہے بہرحال 26 جنوری یوم جمہوریت کی شکل میں منانے کی روایت شرو ع ہوئی اس کا بنیادی مقصد تھا ہر ایک شہری کو آئین کے وقار کی حفاظت او رقومی مفاد کے تئیں وفادار ی اور دیش سیوا شامل ہے ۔کے تئیں اپنی ذمہ داری کو نہ صرف دہرائیں بلکہ انہیں اپنے برتاؤ میں بھی اپنائیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہم اس قابل فخر موقع پر آئینی اقدار کے تئیں عہد کرنے کے بجائے محض کھاناپوری کرنے کے لئے قومی پرچم لہرانے ،پریڈ کرنے یا لچھے دار تقریروں کے بعد جیسے فراض اور ذمہ داریوں سے بری الزما ں ہو جاتے ہیں ۔یوم جمہوریہ اگر محض ایک تقریب بن کر رہ جائے اور آئینی بیداری طاق پر رکھ دی جائے تو جمہوریت کی روح کے ساتھ ناانصافی ہی کہا جائے گا ۔صحیح معنی میں جمہوریت کے بنیادی جذبہ کو ہم نے آج تک سمجھا نہیں ۔جمہوریت کا مطلب ہے حکمرانی مشینری میں سبھی طبقوں کی ساجھیداری ہونی چاہیے ۔جو 78 برسوں کے بعد بھی عملی شکل نہیں لے پائی ۔دیش پر ایک گروپ اور ایک آئیڈیالوجی کے لوگوں تک محدود ہے ۔جو لوگوں میں اس کاپرچار کررہی ہے ۔قومی مفادات پر ایم پیز اور ممبران اسمبلی کی دلچسپی بھی مسلسل کم ہوتی جارہی ہے ۔پارلیمنٹ کے ہر اجلاس میں ہنگامہ ، شور شرابہ کرنے اور پارلیمنٹ کا وقت ضائع کرنے کی ایک روایت بن چکی ہے۔لیکن وہ اپنا فرض بھول جاتے ہیں کہ وہ جہاں سے جن لوگوں نے ان کو چن کر سنسد کے اس مندر میں چن کر بھیجا ہے وہ اس میں عوام کی پریشانیوں کو اٹھا کر سرکار سے ان کے مسائل کو حل کروائیں ۔وہ یہ تو ذمہ داری نبھا ہی نہیں رہے ہیں بلکہ سنسد میں اگر کوئی اہم بل یا قانون بننے کی بات آتی ہے تو بہت سے ایم پی اجلاس سے ہی غائب رہتے ہیں اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے مفاد عامہ کے بل لٹکے رہتے ہیں اور سرکار ایسے میں اپنے من مانے اور عوام کش بلوں کو پاس کرا دیتی ہے ۔یہ تصویر ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کے ذریعے پیش کی جارہی ہے ۔اس لئے یوم جمہوریہ منانے کا صحیح فائدہ تبھی ہوگا جب ہر لیڈر اور عوام آئین کی روح کو اچھی طرح سے سمجھے اور اپنے برتاؤ میں سنجیدگی لائے ۔ہم یوم جمہوریہ کے اس مقدس موقع پر دیش کی ایکتا اور سلامتی کے عزم کے ساتھ سبھی دیش واسیوں کوہم اپنی طرف سے یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتے ہیں ۔
a

Comments
Post a Comment