افسانہ!غالب کی بازگشت

نازنین گھاسی

لکھنؤ کی شام محض ایک وقت نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے۔ وہ وقت جب سورج گومتی کے پانیوں میں اپنی آخری سرخی ڈبو کر رخصت ہونے کی تیاری کرتا ہے اور شہر کے گنبدوں اور میناروں پر شفق کی چادر بچھ جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب پرانے لکھنؤ کی گلیوں میں تاریخ کے سائے طویل ہونے لگتے ہیں اور در و دیوار سے گزشتہ صدیوں کی داستانیں سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں۔

انیسہ اپنے قدیم مکان کی بالکونی میں بیٹھی تھی، جس کی لکڑی کے کام پر وقت کی گرد نے ایک عجیب سی مقناطیسی کشش اور وقار پیدا کر دیا تھا۔ یہ گھر محض اینٹ پتھر کا ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ وجود تھا جس نے خاندان کی کئی نسلوں کو جنم لیتے اور رخصت ہوتے دیکھا تھا۔ انیسہ کے ہاتھ میں "دیوانِ غالب" کا وہ قدیم نسخہ تھا جس کے صفحات اب زرد پڑ چکے تھے، لیکن ان سے اٹھنے والی پرانی کاغذ کی خوشبو انیسہ کے لیے کسی مہنگے عطر سے زیادہ عزیز تھی۔ یہ وہی نسخہ تھا جو اس نے اپنے دادا، میر صاحب سے وراثت میں پایا تھا۔ میر صاحب کہا کرتے تھے، "بیٹی، جب دنیا تمہاری سمجھ سے باہر ہو جائے، تو غالب کی پناہ لے لینا، وہ تمہیں تمہارے اپنے آپ سے ملوا دے گا۔"

فضا میں بریانی کی اشتہا انگیز خوشبو، جو کہیں قریبی باورچی خانے سے اٹھ رہی تھی، اور صندل کی دھونی کا ایک ایسا امتزاج رقص کر رہا تھا جو صرف اور صرف لکھنؤ کا خاصہ ہو سکتا ہے۔ انیسہ نے اپنی مخملی اور ٹھہری ہوئی آواز میں غالب کا ایک لازوال شعر گنگنایا:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے

آواز کی لہریں بالکونی کی جالیوں سے چھن کر سامنے والے صحن میں کسی خوشبو کی طرح پھیل گئیں۔ اس کی آواز میں وہ درد اور گہرائی تھی جو صرف وہی شخص پیدا کر سکتا ہے جس نے زندگی کو کتابوں سے زیادہ مشاہدوں سے پڑھا ہو۔

ٹھیک اسی لمحے، سامنے والے گھر کی منڈیر پر عبداللہ چاچا نمودار ہوئے۔ وہ ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر تھے، جن کی پوری زندگی اردو ادب کی تدریس اور تہذیب کی پاسداری میں گزری تھی۔ ان کی آنکھوں میں وہ مخصوص چمک تھی جو صرف ان لوگوں کے پاس باقی رہ جاتی ہے جنہوں نے ایک روشن ماضی دیکھا ہو۔ انیسہ کی آواز سن کر عبداللہ کے لبوں پر ایک معنی خیز اور شفقت بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے گردن ہلا کر داد دی اور کہا، "بہت خوب انیسہ بیٹی! غالب کا کلام اور لکھنؤ کی یہ ڈھلتی شام، ایسا لگتا ہے جیسے وقت کے قدم تھم گئے ہوں۔ تم نے تو مرزا نوشہ کو اس بالکونی میں زندہ کر دیا۔"

انیسہ نے شرماتے ہوئے کتاب بند کی اور آداب عرض کیا۔ "عبداللہ چاچا، آپ تو جانتے ہیں، جب کبھی شہر کی شورش اور دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو غالب کے سوا کوئی دوسرا سہارا نظر نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے مرزا نے ڈیڑھ سو سال پہلے میرے آج کے دکھ لکھ دیے تھے۔"

عبداللہ چاچا نے آہ بھری اور دیوار کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔ ان دنوں شہر کی ہواؤں میں کچھ عجیب سی گھٹن تھی۔ وہ لکھنؤ جو اپنی نفاست، "پہلے آپ" کی روایت اور مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھا، اب بدلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ سیاسی نعروں، اشتعال انگیز تقریروں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی گرد نے شہر کے ماتھے پر پسینہ لا دیا تھا۔ اخبارات میں نفرت کی خبریں جلی حروف میں شائع ہو رہی تھیں اور محلوں کے درمیان ایسی غیر مرئی دیواریں کھڑی کی جا رہی تھیں جو شاید اینٹوں کی دیواروں سے زیادہ خطرناک تھیں۔

عبداللہ نے دھیمی آواز میں کہا، "بیٹی، یہ جو باہر شور ہے، یہ صرف سیاست کا نہیں، یہ ایک تہذیب کے مٹنے کا ماتم ہے۔ ہم نے وہ لکھنؤ دیکھا ہے جہاں محرم کی مجلسوں میں پنڈت جی سوز خوانی کرتے تھے اور دیوالی کے چراغوں کی روشنی سے مسلمانوں کے آنگن بھی روشن ہو جاتے تھے۔ لیکن اب... اب تو لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے سے بھی ڈرتے ہیں۔"

انیسہ نے دکھ سے عبداللہ کی طرف دیکھا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے بچپن میں وہ عبداللہ چاچا کے گھر جا کر عیدی مانگتی تھی اور ہولی پر عبداللہ کی بیٹی سارہ اس کے گھر آ کر رنگوں سے کھیلتی تھی۔ اس نے کہا، "چاچا، کیا ہم واقعی اتنے بدل گئے ہیں؟ کیا ہماری صدیوں کی محبت اتنی کمزور تھی کہ چند نعروں نے اسے ہلا کر رکھ دیا؟"

عبداللہ نے ایک گہری سانس لی۔ "نہیں بیٹی، محبت کمزور نہیں ہوتی، بس خوف طاقتور ہو جاتا ہے۔ غالب نے شاید اسی لیے کہا تھا کہ 'بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔ ہم نے مل کر جینا تو سیکھ لیا تھا، مگر شاید اس جینے کی حفاظت کرنا بھول گئے۔"

شام اب سیاہی مائل ہو رہی تھی۔ دور مسجد سے اذان کی مدھر آواز بلند ہوئی، اور تقریباً اسی وقت قریبی مندر کے گھنٹوں کی آواز بھی فضا میں گونجنے لگی۔ یہ آوازیں ایک دوسرے میں اس طرح ضم ہو رہی تھیں جیسے قدرت خود اس شہر کو اس کا اصل سبق یاد دلا رہی ہو۔ انیسہ کو محسوس ہوا کہ یہ آوازیں ہی اس شہر کی اصل پہچان ہیں۔

اس نے دوبارہ کتاب کھولی اور ایک ورق پلٹا۔ "چاچا، آپ کو وہ قصہ یاد ہے جو دادی سنایا کرتی تھیں؟ کہ جب 1857 کے ہنگاموں کے بعد شہر اجڑ رہا تھا، تب بھی یہاں کے شعراء نے اپنی غزلوں میں امن کا پیغام نہیں چھوڑا تھا۔ غالب خود دلی میں بیٹھ کر لکھنؤ کے حالات پر تڑپتے تھے۔

عبداللہ چاچا مسکرائے۔ "ہاں بیٹی، غالب کو لکھنؤ سے ایک خاص رغبت تھی۔ وہ یہاں آئے بھی تھے اور یہاں کی صحبتوں سے لطف اندوز بھی ہوئے تھے۔ لکھنؤ کی بنیاد اینٹوں پر نہیں بلکہ اخلاق اور شاعری پر رکھی گئی ہے۔ یہ شہر ایک مذاق ہے، ایک رمز ہے، ایک گفتگو ہے۔ جب تک ہمارے درمیان یہ مکالمہ، یہ شاعری اور یہ غالب زندہ ہے، کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔

اسی دوران گلی کے موڑ پر کچھ نوجوانوں کا ایک ٹولہ گزرا۔ ان کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے اور وہ بلند آواز میں کچھ ایسے نعرے لگا رہے تھے جو اس گلی کی خاموشی کو چیر رہے تھے۔ فضا میں ایک لمحے کے لیے تناؤ کی ایک لہر دوڑی۔ انیسہ نے بالکونی کی منڈیر کو سختی سے پکڑ لیا۔ اس کی آنکھوں میں خوف کی ایک لکیر ابھری۔ لیکن جب اس نے عبداللہ چاچا کی طرف دیکھا، تو وہاں خوف نہیں بلکہ ایک عجیب سا پختہ یقین اور ٹھہراؤ تھا۔

عبداللہ نے ان نوجوانوں کو گزرتے ہوئے دیکھا اور پھر انیسہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا، "گھبراؤ نہیں بیٹی۔ یہ جو نعرے ہیں، یہ عارضی ہیں۔ یہ موسم کی اس گرد کی طرح ہیں جو تھوڑی دیر کے لیے سورج کو چھپا لیتی ہے، مگر سورج ختم نہیں ہوتا۔ ہمارا سورج ہماری تہذیب ہے، ہماری زبان ہے، اور ہمارا ادب ہے۔"

انیسہ کا حوصلہ بڑھا، اس نے دوبارہ دیوانِ غالب کی طرف دیکھا اور ایک ایسا شعر پڑھا جو اس وقت کی صورتحال پر کسی مرہم کی طرح لگا:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

عبداللہ چاچا نے بے اختیار "سبحان اللہ" کہا۔ ان کے چہرے پر اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ "یہی تو بات ہے! جب تک ہم انسان کے دکھ کو انسان کی آنکھ سے نہیں دیکھیں گے، تب تک ہم صرف گوشت پوست کا ڈھیر ہیں۔ غالب ہمیں انسان بننا سکھاتا ہے۔"

رات اب پوری طرح اپنے پر پھیلا چکی تھی۔ گلی کی قدیم لالٹینیں (جو اب بجلی کے بلبوں میں بدل چکی تھیں) مدھم روشنی بکھیر رہی تھیں۔ انیسہ اور عبداللہ چاچا کی گفتگو اب پرانے لکھنؤ کے قصوں کی طرف مڑ گئی تھی۔ وہ باتیں کر رہے تھے اس زمانے کی جب آموں کے سیزن میں پورا شہر ایک دسترخوان بن جاتا تھا، جب پتنگ بازی کے مقابلوں میں ہار جیت سے زیادہ "پیچ" لڑانے کا فن اہم ہوتا تھا، اور جب کسی کے گھر میں غمی ہوتی تھی تو پورے محلے کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے تھے۔

انیسہ کو محسوس ہوا کہ یہ نوستالجیا صرف ماضی کی یاد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مزاحمت

 ہے۔ نفرت کے خلاف محبت کی مزاحمت۔ وہ سمجھ گئی کہ غالب کے اشعار صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک ایسی ڈھال ہیں جو انہیں باہر کی بے رحم اور بدلتی ہوئی دنیا سے بچائے ہوئے ہیں۔ یہ اشعار انہیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور ان کا اصل ورثہ کیا ہے۔

عبداللہ چاچا نے رخصت ہوتے ہوئے ایک آخری بات کہی جو انیسہ کے دل میں نقش ہو گئی۔ "بیٹی، یاد رکھنا، تہذیبیں زبانوں سے مرتی ہیں اور ادب سے زندہ ہوتی ہیں۔ جب تک تمہاری زبان پر یہ لفظ باقی ہیں، تمہارے آباؤ اجداد کی روحیں تم سے کلام کرتی رہیں گی۔ ہمارے اسلاف نے یہاں کی مٹی میں اپنی محبتیں دفن کی ہیں، اور جب تک ان کی بازگشت ہمارے کلام میں باقی ہے، ہم کبھی تنہا نہیں ہوں گے۔"

انیسہ نے مسکرا کر سر جھکایا اور انہیں خدا حافظ کہا۔ وہ کمرے کے اندر آئی تو اسے اپنا گھر پہلے سے زیادہ روشن اور پرامن محسوس ہوا۔ اس نے دیوانِ غالب کو اپنے سینے سے لگایا۔ اسے یقین تھا کہ کل کی صبح پھر اسی امن اور آشتی کے ساتھ طلوع ہوگی۔ باہر چاہے کتنا ہی شور کیوں نہ ہو، اس کے گھر کے اندر اور اس کے دل کے نہاں خانوں میں غالب کی بازگشت گونج رہی تھی، جو اسے بتا رہی تھی کہ محبت کبھی شکست نہیں کھاتی۔

لکھنؤ کی وہ رات اب خاموش تھی، لیکن اس خاموشی میں ایک موسیقی تھی—ایک ایسی موسیقی جو صدیوں پرانی تھی اور جس کی تانیں "غالب" کے کسی شعر پر جا کر ٹوٹتی تھیں۔ انیسہ بستر پر لیٹی تو اس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا: "شہر بدل سکتے ہیں، دیواریں کھڑی ہو سکتی ہیں، لیکن وہ روح جو شاعری کی صورت میں اس مٹی میں رچی بسی ہے، اسے کوئی سیاست مٹا نہیں سکتی۔"


انیسہ جب بچپن میں اپنے دادا میر صاحب کے پاس بیٹھتی تھی، تو اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی لائبریری میں نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تاریخ کے سامنے بیٹھی ہے۔ میر صاحب کا کمرہ کتابوں سے اٹا ہوا تھا، جہاں کی خوشبو میں تمباکو، پرانے کاغذ اور گلاب کے عطر کا ایک عجیب امتزاج تھا۔

میر صاحب اکثر کہا کرتے تھے، "انیسہ، لکھنؤ کا مطلب صرف چکن کے کرتے یا کباب نہیں ہیں۔ لکھنؤ کا مطلب ہے 'لحاظ'۔" وہ بتایا کرتے تھے کہ کیسے غالب جب لکھنؤ آئے تھے تو یہاں کی علمی مجلسوں میں ان کا کس طرح استقبال کیا گیا تھا۔ اگرچہ غالب دلی کے عاشق تھے، لیکن لکھنؤ کی نفاست نے ان کے مزاج پر بھی اثر ڈالا تھا۔

انیسہ کو یاد آیا کہ ایک بار اس نے دادا سے پوچھا تھا، "دادا جان، غالب اتنے مشکل کیوں ہیں؟" تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا تھا، "بیٹی، زندگی بھی تو مشکل ہے نا؟ غالب نے زندگی کی گتھیوں کو لفظوں کے دھاگے سے سلجھایا ہے۔ تم اسے جتنا پڑھو گی، اتنے ہی نئے معنی پاؤ گی۔" آج، جب وہ خود جوان تھی اور دنیا کی تلخیوں کا سامنا کر رہی تھی، اسے دادا کی کہی ہوئی ایک ایک بات یاد آ رہی تھی۔

عبداللہ چاچا، جو برسوں ایک مقامی اسکول میں اردو کے استاد رہے تھے، اب ایک خاموش مشاہدہ کار بن چکے تھے۔ وہ روزانہ شام کو اپنی منڈیر پر بیٹھ کر گلی میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتے تھے۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ کیسے پرانے مکانات گرائے جا رہے تھے اور ان کی جگہ بے ڈھنگی اونچی عمارتیں کھڑی ہو رہی تھیں۔

ان کے نزدیک یہ صرف مکانات نہیں گر رہے تھے، بلکہ ایک طرزِ زندگی ختم ہو رہا تھا۔ وہ اکثر انیسہ سے کہتے، "اب لوگوں کے پاس بات کرنے کا وقت نہیں رہا۔ سب کے ہاتھوں میں وہ چھوٹی سی جادوئی مشین (موبائل فون) آ گئی ہے جس نے فاصلے تو کم کر دیے، مگر دلوں کو دور کر دیا۔"

عبداللہ چاچا کو دکھ اس بات کا تھا کہ نئی نسل غالب، میر اور انیس کے ناموں سے تو واقف تھی، مگر ان کے کلام کی روح سے ناواقف ہوتی جا رہی تھی۔ اسی لیے جب وہ انیسہ کو غالب پڑھتے ہوئے سنتے، تو انہیں ایک امید کی کرن نظر آتی۔ انہیں لگتا کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ ابھی کوئی تو ہے جو اس شمع کو جلائے ہوئے ہے۔

کہانی کے اس موڑ پر ایک دن ایسا آیا جب پورے شہر میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ افواہوں کا بازار گرم تھا کہ شہر کے دوسرے حصے میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ گلی کے دکانداروں نے جلدی جلدی شٹر گرا دیے اور ایک عجیب سی پراسرار خاموشی چھا گئی۔

انیسہ کے گھر میں بھی سب پریشان تھے۔ اس کی والدہ بار بار کھڑکی سے باہر جھانکتی تھیں اور دروازے کے کنڈے چیک کر رہی تھیں۔ انیسہ بالکونی میں جانے سے ڈر رہی تھی، لیکن پھر اسے عبداللہ چاچا کا خیال آیا۔ وہ اکیلے رہتے تھے، ان کا بیٹا دوسرے شہر میں نوکری کرتا تھا۔

انیسہ نے ہمت کی اور بالکونی کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ عبداللہ چاچا ہمیشہ کی طرح وہیں بیٹھے تھے، مگر آج ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں تھی۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے نیچے سنسان گلی کو دیکھ رہے تھے۔

انیسہ نے پکارا، "چاچا! آپ اندر چلے جائیے، باہر حالات ٹھیک نہیں ہیں۔"

عبداللہ چاچا نے سر اٹھایا اور ایک درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "بیٹی، یہ خوف کی دیواریں ہمیں کب تک قید رکھیں گی؟ آج غالب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

جب تک زندگی ہے، یہ غم اور یہ خوف تو رہیں گے۔ لیکن ہمیں ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔"

اسی شام، عبداللہ چاچا نے ایک عجیب کام کیا۔ انہوں نے اپنے گھر کا بڑا سا گراموفون باہر نکالا اور اس پر بیگم اختر کی آواز میں غالب کی غزل لگا دی۔ "دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے..."

آواز جب گلی میں گونجی، تو خوف کے سائے کچھ کم ہونے لگے۔ پڑوسیوں نے اپنی کھڑکیوں سے جھانکا۔ وہ موسیقی جو اس شہر کی روح میں بسی تھی، اس نے لوگوں کے دلوں سے خوف کو نکال کر ایک دوسرے کے لیے ہمدردی پیدا کر دی پنڈت رام پرشاد نے اپنی کھڑکی سے آواز لگائی، "عبداللہ بھائی، آج غالب کی یہ غزل سن کر کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔"

یہ وہ لمحہ تھا جب غالب کی بازگشت نے نفرت کی لہر کو روک دیا۔ اس رات اس گلی میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، کوئی پتھر نہیں چلا۔ صرف غالب کے الفاظ تھے اور بیگم اختر کی آواز، جس نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

اگلے چند دنوں میں حالات معمول پر آنے لگے۔ لیکن اس شام کے واقعے نے انیسہ کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ دیے۔ اس نے سمجھ لیا کہ فن اور ادب میں وہ طاقت ہے جو تلواروں اور توپوں میں نہیں ہوتی۔

وہ اپنی ڈائری میں لکھنے لگی، "غالب صرف ایک شاعر نہیں، وہ ایک پل ہے جو ماضی کو حال سے اور انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ لکھنؤ کی شامیں اب بھی ڈھلتی ہیں، مگر اب ان میں ایک نیا عزم ہے۔ یہ عزم اپنی تہذیب کو بچانے کا ہے، اپنی محبت کو محفوظ رکھنے کا ہے۔"

کہانی کے اختتام پر، انیسہ اور عبداللہ چاچا ایک بار پھر اپنی اپنی جگہوں پر موجود تھے۔ موسم بدل چکا تھا، اب ہوا میں گلاب کی خوشبو زیادہ نمایاں تھی۔ انیسہ نے کتاب کھولی اور بلند آواز میں پڑھا:

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

عبداللہ چاچا نے تالی بجائی اور کہا، "جیتے رہو بیٹی! تم نے غالب کی بازگشت کو مرنے نہیں دیا۔ جب تک تم جیسی نسلیں یہ اشعار گنگناتی رہیں گی، لکھنؤ زندہ رہے گا، غالب زندہ رہے گا، اور سب سے بڑھ کر انسانیت زندہ رہے گی۔"

لکھنؤ کی شام اب رات کے آغوش میں جا رہی تھی، مگر آج کی رات اندھیری نہیں تھی۔ ہر گھر سے نکلنے والی محبت کی روشنی نے گلی کو منور کر دیا تھا۔ غالب کی بازگشت اب صرف ایک آواز نہیں تھی، وہ ایک زندگی بن چکی تھی۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مادی ترقی اور سیاسی تبدیلیوں کے درمیان ہمیں اپنی ثقافتی جڑوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ غالب کا کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے تضادات کو کیسے قبول کیا جائے اور کیسے مشکل حالات میں بھی اپنی انفرادیت اور انسانیت کو برقرار رکھا جائے۔ لکھنؤ جیسے شہروں میں، جہاں ہر دیوار ایک کہانی سناتی ہے، وہاں غالب کی بازگشت دراصل ہماری اپنی ضمیر کی آواز ہے۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟