کرپٹو کرنسی پر کستا شکنجہ!

کرپٹو کرنسی کی کہانی سال 2009 میں بٹ کوائن کے آغاز سے شروع ہوئی جوپراسرار شخص ساتوشی ناکامو تو کے ذریعے بنائی گئی۔پہلی ڈیجیٹل سنٹرلائز کرنسی تھی جو بینک یا سرکار کے بغیر کام کرتی ہے اور لین دین کے لئے ان کرپشن اور بلاک چین تکنیک کا استعمال کرتی ہے ۔یہ شروعات میں تو تقریباً صفر قیمت پر تھی لیکن وقت کے ساتھ 67ہزار امریکی ڈالر یعنی 50 لاکھ روپے سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے جس سے کئی لوگوں کو منافع ہوا اور بہت سے لوگ بٹ کوائن میں سرمایہ لگانے لگے ۔حالانکہ بھارت سمیت کئی ملکوں میں ابھی بھی بٹ کوائن کرنسی کے بارے میں ریگولیشن کی پوزیشن واضح نہیں ہے اور اس میں سرمایہ کاری خطرہ بھری ہے۔جو حکومتیں اس پر 30 فیصد ٹیکس اور 1 فیصد ٹی ڈی ایس لگا چکی ہیں شروعاتی دور میں 2010 میں ایک پیزہ خریدنے کے لئے دس ہزار بٹ کوائن کا استعمال ہوا تب اس کی قیمت صفر ہوا کرتی تھی ۔بھارت میں اسے قانونی کرنسی کا درجہ نہیں ملا ہے لیکن یہ ٹیکس لائق ہے لیکن کرپٹو کرنسی کے لین دین میں گھپلوں کے واقعات سامنے آئے ہیں اس لئے دیش میں کرپٹو کرنسی گھاٹالوں کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے مالی خفیہ یونٹ (ایف آئی کیو نے کرپٹو مارکیٹ میں غیر قانونی ٹرانجیکشن روکنے کے مقصد سے جو نئی گائیڈ لائنس جاری کی گئی ہیں وہ امید جگاتی ہیں کہ اب دیش میں چل رہے کرپٹو ایکسچینج کو ڈیجیٹل سروس پروبائیڈر ماناگیا ہے یعنی ان پر بھی وہی سختی نافذ ہوگی جو بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں پر ہوتی آرہی ہے ۔سرکار کا یہ قدم کرپٹو کرنسی ایکس چنجوں کے لئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی مدد کو روک گائیڈ لائنس کا ہی حصہ ہیں جو ان میں قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ان میں آئی سی او اور ٹوکن لانچ جیسی سہولیات ہیں کیوں کہ ان معاملوں میں جعلسازی ہونے کا خطرہ زیادہ بنا رہتا ہے ۔ایسے کرپٹو ٹولس کا استعمال روکنے کے لئے بھی گائیڈ لائنس جاری کی گئی ہیں جو لین دین کوچھپانے میں مدد کرتی ہیں ۔اس طرح نئے سسٹم میں پین کارڈ یا دوسرے دستاویز اپلوڈ کرکے کرپٹو اکاؤنٹ نہیں کھل سکے گا اس میں یوزر اکاؤنٹ بناتے وقت اب باقاعدہ سیلفی لینی ہوگی جس میں پلک جھپکانے یا سر ہلانے کے لئے کیا جائے گا ۔اس کی تصدیق کرے گا کہ شخص خود وہاں موجود ہے ۔یہ قدم فوٹو یا ڈیپ فیک سے ہونے والی دھوکہ دھڑی روکنے کے لئے اٹھایاگیا ہے۔اب کرپٹو ایکس چینج بھی یہ ریکارڈ رکھیں گے کہ یوزر کس جگہ اکاؤنٹ بنا رہا ہے ۔اس میں یوزر کی لووکیشن ،تاریخ وقت اور آئی پی ایڈریس ہوگا ۔یعنی یوزر کی جیو ٹیگنگ ہوگی ۔اس سے یہ پتہ لگایاجاسکے گا کوئی غلط کام کہاں سے ہورہا ہے ۔اس طرح وہ موبائل نمبر اور ای میل کا او ٹی پی کے ذریعے ویریفکیشن ضروری ہے تاکہ فرضی کھاتوں پر روک لگ سکے ۔

کرپٹو ادلابدلی کو گراہکوں کے پاسپورٹ اور ڈرائیورنگ لائسنس ،آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ جیسے دیگر شناختی دستاویزات جمع کرنے کے بھی احکامات دیے گئے ہیں ۔کرپٹو کرنسی کے ذریعے زیادہ تر سرحد پار سے کاروبار کی اطلاعات ملتی رہی ہیں ۔ہماری مالیاتی خفیہ ایجنسیاں چوکس رہتی ہیں اور وقتاً فوقتاً اس پر نظر رکھتی ہیں اس لئے مرکزی حکومت نے بڑے خطرے والے گراہکوں کو ہر چھ ماہ میں کے وائی سی کرانے کے احکامات بھی دیے ہیں ابھی بھی بینکوں نے اپنے نئے پرانے کھاتے داروں کا کے وائی سی کرانے کی ہدایت دی ہے ۔

اعداد شمار بتاتا ہے کہ سال 2024 میں 22812 کروڑ روپے کے کرپٹو کرنسی گھوٹالے کے ساتھ بھارت دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔اور 2025 میں ایسے کرائم بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اس لئے مالی خفیہ ایجنسیوں کو بینکوں میں دھنہ سیٹھوں اور نمبر 2 کے کاروبار سے ہونے والی کمائی کو کھاتوں میں بڑھتی رقم کے سورس کی جانچ کرتے رہنا چاہیے تاکہ پتہ لگ سکے یہ پیسہ کرپٹو کالی کمائی سے تو نہیں آرہا ہے ۔اس پر شکنجہ کسنے کی سرکار پوری طرح تیاری میں لگ گئی ہے ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟