ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
شخص سے شخصیت تک کا سفر آسان نہیں ہوتا ۔دشت سے قلزم خوں تک کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے ۔ایاغ دل میں اشکوں کے جام پینے پڑتے ہیں اور داغ دل سے تبسم کے چراغ روشن کرنے پڑتے ہیں ۔محبت زندگی کی اساس ہے اورقربانی چاہتی ہے ۔صلیب اور دار ورسن سے گزر کر ہی محبت سرخرو ہوتی ہے اوراعتبار پاتی ہے ۔
تخلیق کار اپنے معاشرے کا سب سے حساس فرد ہوتا ہے جو خون دل میں انگلیاں ڈبو کر پرورش لوح وقلم کرتا ہے ۔ سماج میں روا ظلم و استبداد، جبرو استحصال ، بے ایمانی وبدعنوانی کے خلاف ہر دور میں آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں، تحریکیں چلی ہیں اور دنیا بھر میں جو طبقہ ہراول دستے میں شامل رہا وہ یہی ادباء و شعراء تھے ۔ رومان و انقلاب ، بغاوت و احتجاج کے حوالے سے فیض کے بعد جس شاعر کا نام ہر دور میں اور ہر نسل میں یکساں طور پر محبوب رہا ہے اور جنہوں نے اپنی مقبولیت و محبوبیت کا آفتاب اپنی زندگی میں ہی نصف النہار پر دیکھا بلکہ دنیا سے رحلت کے بعد بھی ان کا نام اور کلام سرحدوں سے ماوراء کروڑوں دلوں پر راج کر رہا ہے وہ احمد فراز ہیں۔ اپنی محبوبیت کا انہیں بخوبی اندازہ تھا ۔ اس پر وہ تمام عمر نازاں رہے اور اسے اپنا گراں بہا سرمایہ قرار دیتے رہے اور فراز چاہیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا سید احمد شاہ سے احمد فراز تک کے سفر میں صعوبتیں اٹھائیں، درد و کرب سہے ، زنداں میں تنہائی کا غم جھیلا، جلاوطنی کی اذیت برداشت کی لیکن اپنے اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اپنے نظریات پر کوہ گراں کی مانند ڈٹے رہے ۔ غنیم کی خاشامد نہیں کی ، عدو سے مصاحبت نہیں کی اور آخری دم تک انہیں اس پر ناز رہا۔ میرا قلم توامانت ہے میرے لوگوں کی میرا قلم توعدالت مرے ضمیر کی ہے اسی لیے توجو لکھا تپاک جاں سے لکھا جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے زندگی کی کرشمہ سازیاں بھی عجیب ہوتی ہیں فراز کو پائلٹ بننے کا بہت شوق تھا بلکہ یہ ان کا خواب تھا۔ فرسٹ ائیر میں انہوں نے باضابطہ طور پر اپلائی بھی کردیا ۔ انٹرویو میں سیلکٹ ہوئے میڈیکل فٹنس بھی کوالیفائی کرلیا۔ انہی دنوں ان کے بڑے بھائی نے آرمی جوائن کرلی تھی ۔والدہ سخت مضطرب تھیں کہ ایک بیٹا فوج میں ہے دوسرا ائیرفورس میں جا رہا ہے ۔ لہذا انہوں نے کال لیٹر پھاڑ دیا اور بعد میں فراز کو بتایا۔ فراز کو دکھ تو بہت ہوا لیکن انہوں نے اسے مشیت ایزدی اور ماں کا حکم سمجھ کر سر تسلیم خم کر دیا کہ شاید قدرت نے ان کے لیے کچھ اور طے کر رکھاہے اور واقعی ان کے حصے میں وہ فرازی آئی جو دنیا میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔ احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا انہوں نے 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ کے معزز سادات خاندان میں آنکھیں کھولیں ۔ فراز کے والد سید محمد شاہ برق کوہاٹی کا شمار فارسی کے ممتاز شعراء میں ہوتا تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ بیٹا شاعری کے بجائے عصری علوم میں نام کمائے لیکن گھریلو ماحول اور فطری میلان دونوں موجود تھے لہذا زیادہ دیر تک خود کو شاعری سے دور نہ رکھ سکے ۔ فراز بتاتے ہیں کہ ان کی شاعری کا آغاز نویں یا دسویں جماعت سے ہوگیا تھا ۔ چودہ پندرہ سال کی عمر تھی ۔ ان کی ایک ہم جماعت جن کے ساتھ وہ ہوم ورک کیا کرتے تھے ان کے ساتھ بیت بازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہیں اچھے خاصے شعر یاد تھے لہذا فراز مات کھا جاتے ۔ آخرانہوں نے طے یہ کیا کہ اپنی شعری استعداد پر بھروسہ کرکے اپنے شعر کہے جائیں اوریوں احمد شاہ کوہاٹی کے قلمی نام سے شعری سفر کا آغاز کیا۔ فیض احمد فیض کا دست شفقت اور صحبت نصیب ہوئی تو فراز تخلص اختیار کیا اور یوں اردو شاعری کو ان کے فکرو تخیل سے نئی فرازیاں ملیں۔ تعلیم کے ساتھ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ انہوں نے پشاورکے ایڈورڈکالج سے فارسی اوراردو میں ایم اے کیا۔ دوران تعلیم ہی ریڈیو پاکستان پشاور کے لیے فیچر لکھنا شروع کردیا تھا۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی لیکن وہ فارسی، اردو اور انگریزی میں بھی مہارت رکھتے تھے ۔ فراز نے اپنے کرئیر کی ابتداء ریڈیو پاکستان پشاور سے بحیثیت اسکرپٹ رائٹر کی ۔اسی دوران پشاور یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے پھر پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے پہلے ڈائریکٹر جنرل، چئیرمین اکادمی پاکستان ، لوک ورثہ' اور 'نیشنل بک فاؤنڈیشن ' کے سربراہ کے کلیدی عہدوں پر فائز رہے اس کے ساتھ ساتھ شعر وسخن کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ افق پر دھندلکے ، شفق پر الاؤ، گھٹاؤں میں شعلے ،چمن میں ببول دلوں پر اداسی ، دماغوں میں الجھن، خیالوں میں تلخی نگاہیں ملول اسی ماحول اور حال زار میں 'تنہا تنہا' کی تخلیق ہوئی۔ پہلے مجموعہ ٔ کلام 'تنہا تنہا' کے بعد دوسرا مجموعہ' درد آشوب ' کے نام سے منظر عام پر آیا جسے اتنی مقبولیت ملی کہ بقول فیض '' اہل دل اور محبت کرنے والوں نے اسے محبت کی انجیل کہا '' شاعری ہو یا فنکاری اس کا اہم محرک عشق ہے اور فراز کی غزلوں اور نظموں کا مرکز و محور یہی عشق ہے ۔ ان کا ماننا تھا کہ عشق سمجھا نہیں جاسکتا، کیا جاسکتا ہے اور انہوں نے بھی عشق کیا انسانوں سے اور انسانیت سے ۔ شاعری میں ہیئت اورفارم کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور فراز کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا۔غزل ،نظم ،قطعہ اور رباعی سب پر انہیں یکساں دسترس حاصل تھی۔ تخلیق کے لیے وہ کسی موڈ، موسم ،موقع یا ماحول کے منتظر نہیں رہے ۔ جس چیز نے انہیں جب آمادۂ اظہار کیا انہوں نے احوال دل کہ ڈالا دردمندوں کو کہیں بھی تو قرار آ نہ سکا کوئی صحرا ہو کہ گھررونے کے عادی ہوئے
اے فراز ایسے میں برسات کٹے گی کیوں کر گر یونہی شام و سحر رونے کے عادی ہوئے فراز کی غزل گوئی کی نمایاں خصوصیت ان کی سادہ اورعام فہم زبان ہے کہ ایک عام آدمی بھی ان کی بات بخوبی سمجھ لیتا ہے ۔ سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن میں اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہرکے دیکھتے ہیں فراز کی غزلوں میں عشق و رومان ایک گہرے انسانی تجربے کی صورت میں جلوہ گر ہے انہوں نے اپنے واردات قلبی نہایت سادہ دلی اورسچائی کے ساتھ کاغذ وقلم کے سپرد کیے ہیں۔ زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے فراز محبوب سے شکوہ بھی کرتے ہیں تو اس میں تلخی نہیں بلکہ دلربائی ہے ۔ جذبوں کی پاکیزگی اور شائستگی ہے رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ غزلیں ہوں یا نظمیں فراز نے محبت ،امن ، آزادی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔نظموں میں یہ آواز زیادہ بلند ، احتجاج زیادہ واضح اوربے باکی اپنے عروج پر نظر آتی ہے ۔ محاصرہ ، نوحہ گر چپ ہیں، معبود ، سوال ، یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں، وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے ، اب کس کا جشن مناتے ہو، اے عشق جنون پیشہ، اور ہم اپنے خواب کیوں بیچیں بعض ایسی ہی نظمیں ہیں ۔
فراز رومانوی شاعر سے انقلابی شاعر بنے ۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی اور ملک کے سیاسی ، سماجی اور معاشی حالات نے ان پر گہرا اثرڈالا اور انقلاب ایک تصوراتی محبوب کا پیکر اختیار کرگیا۔ فراز نے عوام کے درد وکرب کو اپنا درد سمجھا لہذا ان کے رومان میں زیادہ تر عوام اور وطن کی محبت پنہاں ہے ۔ جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے شکوہ ٔ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کراچی کے ایک مشاعرے میں فراز نے اپنی کچھ نظمیں پڑھیں۔ مشاعرہ دن کے وقت ہو رہا تھا ۔ تقریب ختم ہوئی تو پولیس آئی اور فراز کو کراچی چھوڑنے کو کہا اور اگلے روز ہی انہیں کراچی سے روانہ کر دیا گیا۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہ بہت بد دل ہوئے اور انہوں نے اپنی نظم 'محاصرہ' ۔لکھی ۔ بعد میں وہ چھ سال تک ملک بدر بھی رہے ۔ فراز تنہائی سے گھبراتے تھے ۔ قید وبند اور جلاوطنی کا زمانہ ان کے لیے خاصا دشوار گزار رہا ۔ اپنے آخری ایام میں کئی عوارض میں مبتلا ہوئے اور جب وہ امریکہ میں تھے تو چوٹ لگنے اور انفیکشن کے سبب خاصے بیمار پڑگئے ان کے صاحبزادے شبلی فرازجانتے تھے کہ ان کے والد اپنے آخری ایام پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں وہ جا کر انہیں اپنے ساتھ واپس لے آئے اور فراز نے اپنی زندگی کے آخری 24 دن اسلام آباد کے ایک اسپتال میں گزارے جہاں والد سے آنکھوں کے اشارے اور مسکراہٹ کے تبادلے سے گفتگو ہوا کرتی تھی۔ 25 اگست 2008 کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ تنہا تنہا، ، درد آشوب، جاناں جاناں ، خواب گل پریشاں ہے ، غزل بہانہ کرو نایافت، نابینا شہر میں آئینہ ، بے آواز گلی کوچوں میں ،پس انداز موسم، شب خون ، یہ سب میری آوازیں ہیں ، میرے خواب ریزہ ریزہ ، اے عشق جفا پیشہ' فراز کا شعری ورثہ ہے ۔ عالمی سطح پر فراز کی شاعری کی پزیرائی کا عالم یہ ہے کہ روسی، فرانسیسی، جرمن اور پنجابی سمیت مختلف زبانوں میں فراز کے کلام کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔ فراز کی رحلت کو عرصہ ہوا لیکن اپنے چاہنے والوں کے لیے وہ آج بھی اپنی شاعری اور کلام کی معنویت و انفرادیت کے ساتھ آس پاس کہیں موجود ہیں ۔
Comments
Post a Comment