مسلم خواتین: ملک وسماج کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ کم نہیں
فہیم احمد
ہندوستان میں جب بھی ملک اور سماج کی تعمیروترقی کی بات ہوتی ہے تو سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں تذکرہ مایوسی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر اس کمیونٹی کی مسلم خواتین کا ذکر ہوتو بات مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے ۔ لیکن خواتین کے تعلق سے غیر جانبدارانہ طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی مایوس کن نہیں، جتنی نظر آتی ہے یا جس کا شور ہے ۔ مسلم خواتین نے گزشتہ برسوں کے دوران ہر شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کا احساس دلایا ہے ۔ ادب وثقافت، معیشت، کارپوریٹ اور سرکاری ملازمت، تحقیق و ترقی، اسپورٹس گویا کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں ہے ۔
اگر ادب کی بات کریں تو 2025 میں ایک کنڑ مصنفہ بانو مشتاق کو"ہارٹ لیمپ" کے لیے بین الاقوامی بکر انعام سے نوازاگیا۔ بانو مشتاق کی پیدائش 3 اپریل 1948 کرناٹک میں ہوئی۔ دیپا بھاستی نے ان کی مختصر کہانیوں کا ترجمہ کیا تھا ،جس پر انھیں یہ انعام ملا۔ انھوں نے چھ مختصر کہانی کے مجموعے ، ایک ناول، ایک مضمون کا مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ شائع کیا ہے ۔ ان کی تصنیفات کا اردو، ہندی، تمل، ملیالم اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔
بانومشتاق کو چھوٹی عمر سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔انھوں نے اپنے احساسات اور تجربات کو روبہ عمل لانے کے لیے تحریروں کا رخ کیا۔ ان کی زیادہ تر تحریر خواتین کے مسائل پر نظر آتی ہے ۔ مجموعے کی کہانیاں ایک صحافی اور وکیل کے طور پر مشتاق کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور ملک کے اس حصے میں ذات پات اور مذہبی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دی گئی ہے ۔
ممتاز ادیبہ اور مترجم ارجمندآرا کے بقول "بے شک وہ کنڑ زبان میں کنڑ علاقے کی کہانیاں بیان کرتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پورے برصغیر پر اور خصوصاً برِ صغیر کے مسلم معاشرے پر ہوتا ہے ۔ یہ کہانیاں ہمیں غورو فکر پر مجبور کریں گی، قدرے حساس اور عقلمند اور نسبتاً بہتر انسان بننے پر مائل کریں گی۔"
بکر انٹرنیشنل ججوں کے سربراہ میکس پورٹر نے کہا کہ اگرچہ کہانیاں حقوق نسواں کی علم بردار ہیں اور ان میں پدرانہ نظام اور مزاحمت کے غیر معمولی بیانات ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ ''روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر خواتین کی زندگیوں کے خوبصورت بیانات ہیں۔''دی گارڈین نے تبصرہ کیا کہ ''لہجہ خاموش سے مزاحیہ تک مختلف ہوتا ہے ، لیکن نقطہ نظر میں استقلال ہے '' اور اس نے اسے ''حیرت انگیز مجموعہ قرار دیا۔ بکر انعام کے علاوہ انھیں کرناٹک ساہتیہ اکیڈمی سمیت دیگر ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ہے ۔
اس کے علاوہ ادیبہ انعم اشفاق احمد نے یواپی ایس سی 2024 کے امتحان میں 142 کا آل انڈیا رینک حاصل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) آفیسر بن کر تاریخ رقم کی۔ انھوں نے یہ کامیابی مالی مشکلات کے باوجود حاصل کی۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی طالبہ ادیبہ اشفاق احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی ) کے نتائج میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے ۔ ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو ریاست میں اس سے پہلے کوئی مسلم طالبہ انجام نہیں دے سکی۔
یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کلاسز اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایوت محل کی اس ہونہار طالبہ نے اپنی محنت اور لگن سے مقصد کو حاصل کر لیا۔ ضلع کے بہت سے طلباء اپنے مقصد کو پورا کرنے اور امتحان کی تیاری کے لیے پونے ، ممبئی اور دہلی جاتے ہیں۔ دوسری جانب جو طلباء غربت کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ آن لائن کورسز مکمل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محترمہ ادیبہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفر نگر ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انھوں نے یہاں پہلی سے ساتویں کلاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ضلع پریشد کے سابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔ادیبہ نے اپنی 11ویں اور 12ویں کی تعلیم ضلع پریشد سابق گورنمنٹ کالج، ایوت محل سے مکمل کی۔ اس کے بعد ادیبہ نے انعامدار سینئر کالج، پونے سے ریاضی میں بی ایس سی کیا۔ بعد ازاں، ادیبہ انعم نے پونے کی ایک اکیڈمی سے یو پی ایس سی فاؤنڈیشن کی کوچنگ لی۔ ان کو چوتھی کوشش میں کامیابی ملی۔ ادیبہ کے والد کی مالی حالت بہت خراب تھی، اس لیے انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا رکشہ تک بیچ دیا۔ ادیبہ انعم کی داستان سن کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور لگن ہوتو کوئی بھی چیز اسے اپنے مقصد کے حصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ سے حال ہی میں ایم ٹیک مکمل کرنے والی طالبہ تمکین فاطمہ کی وزارتِ دفاع، حکومتِ ہند کے تحت ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) میں بطور سائنس داں 'بی' تقرری عمل میں آئی ہے ۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں علمی کارکردگی، گیٹ اسکور اور انٹرویو شامل تھے ۔
محترمہ تمکین فاطمہ نے 2025 میں ایم ٹیک (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) میں فرسٹ رینک حاصل کی۔ انہوں نے 2023 میں بی ٹیک بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیا تھا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) امتحان، کمپیوٹر سائنس میں آل انڈیا رینک 2 کے ساتھ پاس کیا۔
سیاست کی بات کی جائے تو اقراحسن چودھری جون، 2024 سے کیرانہ حلقے کی نمائندگی کرنے والی ہندوستان کی سب سے کم عمر مسلم رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بن گئی ہیں۔ وہ کیرانہ کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا چودھری اختر حسن ، والد منور حسن اور والدہ تبسم حسن، تینوں لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جب کہ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے رکن اسمبلی ہیں۔
اقرا حسن بتاتی ہیں کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، شاید ان کے والد نے انہیں گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ وہ انہیں گھر کے سیاسی ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن جب ان کے والد ایک حادثے میں انتقال کر گئے اور والدہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ان سے قربت کی وجہ سے مجھے بھی سیاسی لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔
ہندوستانی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی اور ہندوستانی فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نمایاں شخصیات تھیں، جنہوں نے مئی، 2025 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور کے بارے میں دنیا کو بریف کیا، جو مسلح افواج میں خواتین کی قیادت کی علامت ہے ۔ کرنل صوفیہ نے جہاں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیکر حکومت اور اعلی افسران کا اعتماد حاصل کیا، وہیں یہ ثابت بھی کیا کہ اگرخواتین کو موقع ملے تو مشکل ترین کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں ۔
ڈاکٹر شبنم شبیر شیخ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی ریسلنگ کوچ ہیں۔ انھیں ہندوستان کی ایسی پہلی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے ، جنہوں نے اسپورٹس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انھوں نے متعدد ریاستی اور قومی تمغے جیتے ، جن میں 2010 میں 'ویمن مہاراشٹر کیسری' خطاب بھی شامل ہے ۔ وہ دوسری لڑکیوں کو کھیلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی، ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے ، جوکچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں اور ملک وسماج کی تعمیروترقی میں تعاون کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین نے اپنی ہمت،لگن اورجوش وجذبہ سے نہ صرف اپنے لیے خاص مقام حاصل کیا بلکہ ملک وملت کانام بھی روشن کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی زندگی ،جدوجہد اور حصولیابیاں لاتعداد مسلم لڑکیوں کے لیے باعث تحریک بنیں گی ۔
Comments
Post a Comment