سوشل میڈیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی
عفیف احسن
موجودہ دور میں سوشل میڈیا جہاں معلومات کا تیز ترین ذریعہ ہے، وہیں یہ اسلام مخالف پروپیگنڈے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سب سے خطرناک ہتھیار بھی بن چکا ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والے خطرات اور ان کے تدارک کے حوالے سے اہم نکات سے روبرو ہونا اشد ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر اسلام مخالف عناصر یہان تک کہ جہادی عناثر بھی اکثر قرآن کی جنگ سے متعلق آیات یا احادیث کو ان کے سیاق و سباق سے قطع نظر اور معلومات کو تاریخی پس منظر سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں تاکہ اسلام کو ایک "متشدد" مذہب کے طور پر دکھایا جا سکے اور لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جاسکے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں من گھڑت واقعات اور جعلی تصاویر کی تصدیق کے بغیر شیئرنگ کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔سوشل میڈیا کے الگورتھم صارفین کو وہی مواد دکھاتی ہیں جو ان کے موجودہ نظریات سے میل کھاتا ہو۔ اس سے انتہا پسندانہ سوچ مزید پختہ ہو جاتی ہے اور دوسرے کا موقف سننے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بھی افواہ پر آن لائن ہجوم کا اکٹھا ہونا اور کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا اب ایک معمول بن چکا ہے، جس کے اثرات تشدد کی صورت میں نکلتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان خطرات کا مقابلہ کریں۔
قرآن کا حکم ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو" (سورۃ الحجرات)۔ کسی بھی اشتعال انگیز پوسٹ کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی سچائی جاننا شرعی ذمہ داری ہے۔
ہمیں محض دفاعی پوزیشن لینے کے بجائے اسلام کے امن، رواداری اور انسانی حقوق کے حقیقی تصور کو جدید انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا کو "دعوتِ خیر" کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔مخالفین کے پروپیگنڈے کا جواب گالی یا بدتمیزی سے دینے کے بجائے قرآنی اصول "ادفع بالتی ہی احسن" (برائی کا جواب بہترین طریقے سے دو) کے تحت دینا چاہیے۔
سوشل میڈیا کو نفرت کے بجائے محبت پھیلانے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے اور ایسے مواد کو فروغ دیں جو مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مشترکہ انسانی اقدار کو اجاگر کرے۔ ہمیں چاہئے کہ جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی مدد کرے یا کوئی غیر مسلم مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، تو ایسی خبروں کو وائرل کریں تاکہ دشمنی کے معمول بننے کا عمل روکا جا سکے۔
معتدل مزاج علماء کو سوشل میڈیا پر متحرک اور زیادہ فعال ہونا چاہیے تاکہ وہ نوجوانوں کی فکری تربیت کر سکیں اور انہیں انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔
اسلام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ دورِ حاضر میں نفرت اور دشمنی کو معمول بنانے کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں قرآن و سنت کے ان بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو انسانیت، پڑوسیوں کے حقوق اور احترامِ آدمیت پر زور دیتے ہیں۔
قرآن کریم امن و سلامتی کو انسانی تعلقات کی اصل بنیاد قرار دیتا ہے۔ دشمنی اور فساد کو الٰہی نظم میں خلل تصور کیا گیا ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے (سورۃ المائدہ، 5:32)۔ یہ اصول مذہب کی تفریق کے بغیر ہر انسان کی جان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مختلف زبانوں اور قبیلوں کا مقصد تصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کی پہچان ہے۔ "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔" (سورۃ الحجرات، 49:13)۔
اسلام نے عدل و انصاف کا عالمگیر معیارپیش کیا ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار بنیں، خواہ اس میں ان کا اپنا نقصان ہی کیوں نہ ہو، اور کسی قوم کی دشمنی انہیں ناانصافی پر نہ ابھارے (سورۃ المائدہ، 5:8)۔
اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق اور معاشرتی اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔اسلامی اخلاقیات میں "پڑوسی" کا تصور نہایت وسیع ہے۔ علماء کے مطابق اس میں مذہب کی تفریق کے بغیر ہر طرف کے چالیس گھر شامل ہیں۔
نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ "وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی اذیت سے محفوظ نہ ہو۔" یہ حدیث ایمان کو دوسروں کے ساتھ خیر خواہی سے جوڑتی ہے۔
اسلام میں معاشرتی بہبود پر بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلامی روایات میں بھوکے پڑوسی کی خبر گیری کو لازمی قرار دیا گیا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی عقیدے سے ہو۔
رسول اللہ ؐ نے مدینہ میں ایک ایسا آئین (میثاقِ مدینہ) مرتب کیا جس نے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک سیاسی اکائی (امت) کے طور پر تسلیم کیا اور سب کے لیے مذہبی آزادی اور مشترکہ دفاع کو یقینی بنایا۔
اسلام میں عزت اور وقار کا تصور پیدائشی اور فطری ہے۔ یہ کسی خاص عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ "انسان" ہونے کی بنیاد پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ارشاد باری ہے کہ "اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی..." (سورۃ الاسراء ، 17:70)۔ یہ آیت انسانی حقوق کی بنیاد ہے۔ اگر خدا نے انسان کو محترم بنایا ہے، تو کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے ذلیل کرے یا اس پر ظلم کرے۔
قرآن کا اعلان "دین میں کوئی جبر نہیں" (سورۃ البقرۃ، 2:256) اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی دوسروں کے حقوق اور ان کی پسند کے احترام پر مبنی ہونی چاہیے۔
نفرت پھیلانے والے اکثر قرآنی آیات کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ جنگ سے متعلق آیات مخصوص تاریخی حالات کے لیے تھیں، وہ امن اور رحمت کے عالمگیر احکامات کو ختم نہیں کرتیں۔لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ نبی کریم ؐ نے ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا جنہوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی، اور آپؐ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہوئے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیکہ یہ تسلیم کرنا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنا اپنے تعصبات کے خلاف ایک مستقل "جہاد" ہے۔
سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر ہم ہوشیاری اور اسلامی اخلاقیات کے ساتھ اس کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پارہ پارہ کر سکتا ہے۔ ہمارا کام اشتعال انگیزی کا حصہ بننے کے بجائے امن کا پیغامبر بننا ہے۔

Comments
Post a Comment