ملک کی تعمیر و ترقی میں صحافت کا کردار
اخبارات ،پرنٹ میڈیا لمبے عرصہ تک ترسیل ابلاغ کا واحد ذریعہ تھے ۔ ریڈیو الیکٹرانک میڈیا کی ایک شکل تھی لیکن ٹیلی ویژن نے ترسیل عامہ میں انقلاب برپا کر دیا ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پرنٹ میڈیا کے مستقبل پر سوال اٹھنے لگا ۔ مگر اخبارات نے نہ صرف ہمت کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کیا بلکہ بدلے ہوئے حالات میں اپنی اہمیت کو منوایا ۔ اب سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا کو ٹکر دے رہا ہے ۔ وہ متبادل میڈیا کے طور پر الیکٹرانک میڈیا کی جگہ لینے کو بے چین ہے ۔ شوسل میڈیا کی مقبولیت کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے ۔ مواصلات کی بدلی ہوئی تمام شکلوں نے صحافت کی معنویت میں اضافہ کیا ہے ۔ کیونکہ صحافت محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرہ کی روح کا آئینہ ہے ۔ یہ عوامی شعور کی تشکیل، حکومتی پالیسیوں کے تجزے اور سماجی و قومی ترجیحات کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ملک کی تعمیر و ترقی کا عمل صرف معاشی نمو یا انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق سیاسی بصیرت ، فکری بیداری،سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور عالمی سطح پر باوقار موجودگی سے ہوتا ہے ، اور ان تمام مراحل میں خاص طور پر جمہوری نظام میں صحافت کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے ۔
ایک باشعور قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے، اور اس شعور کی آبیاری میں صحافت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سیاسی حالات ہوں یا معاشی پالیسیاں، تعلیمی مسائل ہوں یا سماجی ناہمواریاں، صحافت عوام کو حقائق سے آگاہ کر کے انہیں سوچنے، سوال اٹھانے اور رائے قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ صحافت ہی تھی جس نے برطانوی استعمار کے دور میں اظہار رائے کا حوصلہ دیا ۔ عوام میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ، سامراجی مظالم کو بے نقاب کیا ، قومی اتحاد کو فروغ دیا اور آزادی کے نظریہ کو گھر گھر پہنچایا ۔ جس کے نتیجہ میں ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی ملی ۔ اگر اردو ، ہندی اور انگریزی کے اخبارات و رسائل نے عوامی بیداری کی یہ جنگ نہ لڑی ہوتی تو آزادی کی جدوجہد اتنی ہمہ گیر نہ بن پاتی ۔ صحافیوں نے جیلیں کاٹیں ، شہید ہوئے ، اخبارات ضبط ہوئے مگر قلم نہیں رکا ۔آزادی کی تحریک میں صحافت نے تمام صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود انقلابی کردار ادا کیا ۔
آزادی کے بعد صحافت کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ۔ جمہوری نظام میں صحافت کو ’’چوتھا ستون‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اقتدار کے مراکز پر نظر رکھتی ہے۔ حکومت کے فیصلوں، قانون سازی، انتظامیہ کے فیصلے ، عوامی فلاحی منصوبوں اور حکومتی وعدوں کا تجزیہ اور محاسبہ کرتی ہے۔ احتساب اور شفافیت کا فروغ ،کرپشن ، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال، اقربا پروری اور انسانی حقوق کی پامالی کو منظرِ عام پر لانا تحقیقاتی صحافت کا امتیاز رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صحافتی انکشافات نے نہ صرف طاقتور حلقوں کو جواب دہ بنایا بلکہ نظام میں اصلاحات کی راہیں بھی ہموار کیں۔ شفافیت کے بغیر ترقی محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔زندہ صحافت انتخابات کے دوران ووٹروں کو باخبر کرنے، سیاسی جماعتوں کے دعووں کی جانچ کرنے،عوامی مسائل کو ترجیح دینے، شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی کا کام کرتی ہے ۔ جو ملک کی داخلی تعمیر اور جمہوریت کے استحکام کے لئے ناگزیر ہے ۔ ایک آزاد اور ذمہ دار صحافت کے بغیر مضبوط جمہوریت کا تصور ممکن نہیں۔
صحافت عالمی سیاست کے بدلتے منظرنامے ،بین الاقوامی تعلقات، سفارتی سرگرمیاں، جنگ و امن کے فیصلے اور خارجہ پالیسی کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔بین الاقوامی معاہدوں، عالمی تنظیموں، پڑوسی ممالک سے تعلقات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی حکمتِ عملی پر صحافتی تجزیے عوام کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کس طرح قومی مفاد سے جڑی ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافت نہ صرف حکومت کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرتی ہے بلکہ عالمی برادری میں ملک کی شبیہ بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
معاشی میدان میں بھی صحافت کی اہمیت کم نہیں۔ صنعتی ترقی، بجٹ، مہنگائی، بے روزگاری، صنعت و تجارت اور زرعی بحران جیسے مسائل پر سنجیدہ بحث اور تجزیہ عوام اور پالیسی سازوں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ معاشی پالیسیوں کے اثرات کو عام فہم انداز میں پیش کرنا صحافت ہی کا کمال ہے، جو عوامی اعتماد اور معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے فروغ میں بھی صحافت کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ تعلیمی اداروں کی حالت، تعلیمی پالیسیوں کے اثرات، نئی سائنسی دریافتیں اور ثقافتی ورثے کا تحفظ یہ سب موضوعات صحافت کے ذریعے قومی مکالمے کا حصہ بنتے ہیں۔ زبان، ادب اور تہذیب کے فروغ میں اردو صحافت کی خدمات خاص طور پر لائقِ تحسین رہی ہیں۔ لیکن اس وقت اردو اخبارات میں زبان کی صحت کے مسئلہ نے سنگین صورتحال اختیار کی ہوئی ہے ۔ اردو والوں کے پاس ایسے سافٹ وئیر کی بھی کمی ہے جو انپیج کو یونی کوڈ اور یونی کوڈ کو آسانی سے انپیج میں تبدیل کر سکے ۔ ساتھ ہی الفاظ کے غلط ہونے کی صورت میں ان کی درست ہجے بتا سکے ۔ یونی کوڈ میں کوئی انگریزی کا لفظ ٹائپ کرنا ہوتا ہے تو متن کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ۔ اردو اخبارات مالی دشواریوں کے ساتھ تربیت یافتہ اسٹاف کی کمی کا بھی سامنا کر رہے ہیں ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور اردو اکیڈمیز کو اردو صحافیوں کی تربیت کی طرف توجہ دینا چاہئے ۔
صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہے وہ جہاں سماج اور حکومت کا احتساب کرتی ہے وہیں بین الاقوامی معاملات ، معیشت اور روزگار کا سوال بھی اٹھاتی ہے ۔ صحافت سماجی اصلاح کا بھی ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ جہیز، ذات پات، فرقہ واریت، صنفی امتیاز، بچوں سے مشقت اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھا کر صحافت معاشرے کو آئینہ دکھاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی مثبت صحافت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ذمہ دار صحافت نفرت اور تقسیم کے بجائے مکالمے اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، جو قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی ترسیل تیز ہو گئی ہے، وہیں غلط معلومات اور افواہوں کا خطرہ بھی بڑھا ہے۔ ایسے حالات میں ذمہ دار، مستند اور بااصول صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خبر اور رائے میں فرق، تصدیق شدہ معلومات اور متوازن رپورٹنگ ہی صحافت کو قوم کی رہنمائی کے قابل بناتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج صحافت ایک کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ تجارتی دباؤ، سیاسی اثر و رسوخ، کارپوریٹ مفادات اور ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ سنجیدہ صحافت کے مقابلے میں سنسنی خیزی، آدھی سچائیاں اور غیر مصدقہ اطلاعات زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے جہاں اظہار کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا جو بیانیہ تیار کرتا ہےاکثر سوشل میڈیا اسی کے زیر سایہ کام کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے ۔ ایسے میں صحافت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی ساکھ، غیر جانبداری اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صحافت ملک کی تعمیر و ترقی میں محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال شراکت دار ہے۔ یہ عوامی شعور بیدار کرتی ہے، جمہوریت کو مضبوط ، احتساب کو یقینی بناتی ہے اور سماجی و معاشی اصلاحات کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ صحافت آزاد، ذمہ دار اور عوام دوست ہو۔ ایسی ہی صحافت ایک مضبوط، انصاف پسند، خود مختار اور ترقی یافتہ ملک کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اردو صحافت نے ہر دور میں اپنا لوہا منوایا ہے ، وکشت بھارت مشن میں بھی وہ گران قدر کردار ادا کر سکتی ہے کاش کہ اسے موقع دیا جائے ۔
(یہ مضمون عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے درج بالاموضوع پر منقعدہ مذاکرہ کی مناسبت سے لکھا گیا ہے)
Comments
Post a Comment