اندور میں آلودہ پانی سے اموات کی ٹریجڈی!

دیش کے صاف ستھرا شہر اندور کے بھاگیرتھ پور ہ علاقہ میں آلودہ پانی پینے سے پھیلا کرائسس کوئی ایک دن کی غلطی نہیں ہے بلکہ اس کے بارے میں مسلسل لاپرواہی اور خراب پڑی پانی کی لائنیں اور ان کی نگرانی میں کمی کا نتیجہ ہے ۔چھ دن میں 17 لوگوں کی موت سے شہر کے آبی نظام سپلائی کی خوفناک تصویر سامنے آئی ہے ۔دراصل رہواسی کئی ہفتوں سے گندے پانی آنے کی شکایت کررہے تھے ۔لیکن مقامی انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی ۔جس سے 29 دسمبر 2025 کو حالات اس وقت بگڑے جب 100 سے زیادہ لوگوں کو الٹی اور دست آنے لگے۔اور اگلے دن حالات اور بگڑ گئے جس کے نتیجہ میں 8 مریضوں کی ایک کے بعد ایک موت ہو تی چلی گئی ۔لیکن اب تک 17 سے زیادہ لوگوں کی موت کی بات سامنے آئی ہے ۔اب تک 1200 لوگ آلودہ پانی پینے سے بیمار ہیں ۔جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔سٹی مینونسپل کارپوریشن نے آناً فاناً میں پانی کے سیمپل جانچ کے لئے بھیجے ہیں اورانتظامی کاروائی میں دو افسران کو معطل اور ایک کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔ہورہی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ نرمدا جل لائن کے اوپر اور آس پاس ڈرینج چیمبر بنے ہوئے تھے ۔ا س سے گزررہی لائنوں میں پانی جانے کی بات سامنے آئی ہے ۔ایک پولیس چوکی کا ٹوائلٹ بھی اس پائپ لائن کے اوپر بنایاگیا ۔جس سے نکلنے والاشیوریج سیدھے ان پائپ لائنوں میں سوراخوں میں پانی جارہا تھا ۔اس ٹریجڈی سے ہائے توبہ مچی تو ریاستی حکومت نے سٹی میونسپل کمشنر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا اور ان کو وہاں سے ہٹا دیا ۔مدھیہ پردیش میں بھاجپا سرکار ہے نے واقعہ کی لیپا پوتی اور معاملہ کو دبانے کی کوشش کی ہے ۔اسی کڑی میں پانی سپلائی انچارج و ایگزیکٹو انجینئر سے ڈرینج محکمہ کی ذمہ داری واپس لے لی ہے۔کیا اتنا ہی کافی ہے ۔کسی افسر کو سزا دینے کے لئے اس طرح کی روز مرہ کی کاروائی ذمہ داروں کو سبق نہیں دیتی بلکہ متاثرین کا مذاق بناتی ہے ۔یہاں اوپر سے نیچے تک سبھی افسران اور ان کے ماتحت عملہ کی جوابدہی ہے ۔اگر مدھیہ پردیش میں کسی اپوزیشن پارٹی کی سرکار ہوتی اور مدھیہ پردیش میں موجودہ حکمراں بھاجپا سرکار معاملہ کو لے کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ۔بھاجپا کے ورکر سڑکوں پر اتر آتے لیکن مدھیہ پردیش میں گٹر ملا پانی پینے سے کثیر موتوں پر مودی سرکار خاموش کیوں ہے اس نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کو بلا کر معاملہ کی سچائی کیوں نہیں جانی اور مرے لوگوں کے ورثاء آنسو تک پونچھنے کی ضرورت تک نہیں سمجھی۔لوگوں کا الزام ہے شکایتوں کے باوجود اب تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے تب جاکر معاملہ ریاستی ہائی کورٹ میں گیا ۔اور اس کی مداخلت کے بعد ریاستی حکومت آلودہ پانی سے ہوئی امواتوں کو چھپانے کی کوشش میں لگ گئی ہے ۔یہ انتہائی شرمناک قدم ہے۔بھاگیرتھ پورہ کا واقعہ شہری سہولیات کی کمی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے آج بھی دیش میں ہر ایک لاکھ آبادی آلودہ پانی پینے سے اوسطاً 35 لوگوں کی جان جاتی ہے ۔گلوبل ایوریج کے مطابق مقابلوں میں یہ تین گنا ہے ۔بیشک سرکار نے جل جیون مشن جیسی پانی سپلائی مہم چلائی جس کی بدولت 81 فیصد علاقوں میں پانی کی ٹوٹی سے پہنچانے کا دعویٰ ابھی تک کھوکھلا ہی ثابت نظر آتا ہے ۔لیکن اس مشن کو ایمانداری سے عمل میں لانا ہے تو پانی سپلائی انسٹرکچر کو سدھارنے کی ضرور ت ہے ۔بھارت کو 2047 تک وکست دیش کی قطار میں کھڑا ہونے کا نشانہ طے کیا ہے ۔لیکن عام لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو اس مشن کو پانے کے لئے پورا کرنا ہوگا ۔اور 2050 تک بھارت ک آبادی ایک عرب 70 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے اور موجودہ پانی وسائل آج کی آبادی کی ضرورتو ں کو پورا نہیں کرپارہے ہیں اس لئے آنے والے سالوں میں پانی نیٹورک میں بہتری کی ضرورت ہے ،۔آج بھی ہمارے دیش کے دیہات میں رہنے والے لوگوں کو کچا پانی یا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کیوں کہ سرکاری مشینری ابھی تک ان دیہاتوں میں پینے کے پانی کی لائن بچھانے کے نشانہ کو پورا نہیں کر پارہی ہے ۔اس لئے مودی جی باتیں تو کرتے ہیں لیکن انہوں نے جل جیون مشن پر کتنا کام ہوا ہے اس پر کبھی دھیان دیا ہے ۔آج کے دیہات میں گرمی کے دور میں پانی کے ٹینکروں سے پانی پہنچایاجاتا ہے ۔جو پانی سپلائی ہوتا ہے وہ بڑھتی آبادی کے لئے ناکافی ہوتا ہے اسی وجہ سے جب بھی دہلی جل بورڈ کا ٹینکر جاتا ہے تو پانی کو لے کر مارا ماری ہوتی ہے ۔دہلی جل بورڈ نے اس کے مطابق سلم دیہات میں پانی کی لائنیں تو بچھا دی ہیں مگر ان میں پانی تک نہیں چھوڑا گیا ۔اس لئے دیش کو بہتر واٹر مینجمنٹ کے ساتھ سسٹم کو بھی سدھارنے کی ضرورت ہے ۔تبھی ہم پانی کی قلت کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اس لئے اندور میں پانی کی لائنیں خراب ہونے کی وجہ سے ان میں سیوریج کا پانی جانے سے پینے کا پانی گندہ ہو گیا اور اسی ک نتیجہ میں یہ امواتوں کی ٹریجڈی سامنے آئی ۔کیا ریاستی سرکار ان اموات کی ذمہ داری لے گی۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟