ایران میں بغاوت کی چنگاری !

ایران کے رہنما ظاہر شاہ کی بادشاہت کا تختہ پلٹ کر اقتدار میں آئے روحانی پیشوا خمینی ملک میں جمہوریت اسلامی حکومت کا لوگوں کو خواب دکھا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا ۔انہوں نے اپنے مخالفین کو سزائے بھی دیں۔اور راستے میں رکاوٹ بننے والوں کو بتا دیا کہ ان کا حشر بھی انہیں جیسا ہوگا۔خمینی کے جانے کے بعد علی خامنہ ای ملک کے سپریم لیڈر ہیں اس لئے وہاں وزیراعظم اور صدر ان کے احکامات کے تعمیل کرکے ہی حکومت چلاتے ہیں ۔جب اقتدار میں تبدیلی ہوتی ہے تو عوام کی تمنا ہوتی ہے نئی حکمرانی ان کی بہبود کے لئے کام کرے گی ۔لیکن خامنہ ای کے دور عہد میں بے روزگاری اور مہنگائی آسمان چھورہی ہے ۔اس پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ۔اس لئے وہاں کے لوگ موجودہ حکمرانوں سے نالاں ہیں اور ان میں اقتدار بدلنے کی للک بڑھنے لگی ہے ۔اور اب ان میں ناراضگی کی آگ طویل عرصہ سے اندر ہی اندر جل رہی تھی اب اچانک یہ بھڑک گئی ہے ۔ملک میں انسانی حقوق ہوں یا خواتین کی آزادی کو فوجی جوتوں کے تلے روندنے والے خامنہ ای سرکار کو اکھاڑ پھیکنے کا پلان ہے۔ملک میں جس طرح مظاہرے اور آگ زنی اور تھانوں پر حملے ہورہے ہیں مظاہرین فوجی چھاونیتوں تک میں بھی گھسنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔یہ ناراضگی ظاہرکرتی ہے کہ عوام میں بغاوت کی آگ کتنی بھڑک اٹھی ہے ۔موجودہ سرکار نے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا ہے۔اور سرکارکے حکم پر پولیس مظاہرین پر دھڑللے سے گولیاں برسا رہی ہے ۔اس فائرنگ میں بہت سے مظاہرین بھی زخمی اور مارے گئے ہیں ۔

دراصل مشہد شہر سے شروع ہوئی تحریک کی آگ اب پورے ایران میں پھیل چکی ہے ۔سال 2009 میں صدارتی چناؤ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب عوام نے اقتدار اعلیٰ کوسیدھا چیلنج کر دیا ہے ۔اور احتجاجی مظاہروں کے درمیان یہ افواہیں تیزی سے گشت کرنے لگی ہیں ۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای دیش چھوڑنے کر بھاگنے کی فراق میں ہیں ۔ان کے اس پلان نے ملک میں سیاسی کرائسس گہرا کر دیا ہے ۔چونکہ سیکورٹی فورسز نے انتظامیہ کو بھی مدد دینا بند کر دی ہے ۔ایسے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس فرار ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں باقی ہے ۔اور اس فراری کا راستہ روس ماسکو تک جاتا ہے ۔

ایران میں انسانی حقوق کی عدولی کے ساتھ ملکی پراپرٹیز کو نقصان یا لوٹاجارہا ہے ۔اب ملک کی عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔اور ٹھیک ویسی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں جیسے کہ ایران کے سابق حکمراں شاہ محمد رضا پہلوی کے لڑکے شاہ رضی پہلوی نے بھی اپنا آندولن شروع کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے موجودہ اسلامی جمہوریہ ایران ڈھہہ رہا ہے ۔او ر اب اسے اپنے اصل ایران کو حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے شاہ رضا پہلوی کے عہد میں ایران نے خوب ترقی کی تھی اور ملک کو جدیدیت کی راہ پر آگے بڑھایا۔عورتوں کو ملک میں من چاہی آزادی سے گھومنے پھرنے اور ملک میں یوروپ جیسا ماحول بنا۔مگر کٹر پسند پسندوں سمیت سویت یونین جیسی طاقتوں کی گود یعنی امریکہ کی گود میں چلاجانا راس نہیں آرہا تھا ۔1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور 4 نومبر 1979 کو پہلوی گروپ نے امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کیا ۔اور سوا سال تک امریکیوں کو یہاں قید رکھا ۔یہی ایک بڑی طاقت امریکہ کی بےعزتی تھی ۔اقتدار میں آئے آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ بگل بجا دیا تھا ۔تب سے امریکہ اور ایران کے رشتوں میں گھٹاش چلی آرہی ہے اسلئے ممکن ہے ایران میں سپریم لیڈر اور ایران میں عوام کی بغاوت کے پیچھے امریکہ فیکٹر کام کررہا ہوں ۔اس میں کوئی شبہ نہیں ۔ایران میں امریکہ ،برطانیہ ،اسرائیل اور روس سمیت کئی طاقتور ملکوں کی اپنی اپنی منشا اور مفاد ہے ۔فی الحال پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ خامنہ ای فرنٹ فٹ کھیلتے ہیں یا بیک فٹ پر ۔اور سوال یہ بھی ہے کہ ان کا اسٹمپ محفوظ رہ پائے گا ؟ بہرحال ایران میں عوام حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر اتری ہوئی ہے اور حکمراں سرکار ان کو ٹارچر کررہی ہے ۔دیکھنا ہوگا خامنہ ای اپنی کرسی بچانے کے لئے اگلا قدم کیا اٹھاتے ہیں ؟ یا ملک چھوڑ کر جائیں گے ۔اس پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہیں ۔ایران کی تاریخ رہی ہے کہ وہاں کی عوام ایک حد تک ملک کے مفاد کو بالاتر رکھتے ہیں اور جو اس کے خلاف جاتا ہے اس کی کرسی پلٹ دیتے ہیں ۔اب یہی حال موجودہ خامنہ ای سرکار کے خلاف ہورہا ہے ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟