جے این یو طلباء احتجاج کے بجائے تعلیم سے ناطہ جوڑیں!

دیش و دہلی کی نامور یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو لیفٹ حمایتی طلباء کا گڑھ ماناجاتا ہے ۔یہاں کے ہاسٹل اور کیمپس میں مرکز کی بھاجپا سرکار کیخلاف اکثر نعرے بازی دیکھنے کو ملتی ہے ۔اس سلسلے کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یونیورسٹی میں کسی طرح کے مظاہرے اور نعرے بازی پر پابندی کے لئے پولیس کو احکامات دیے ہیں ۔اس کے باوجود کیمپس میں پھر سے متنازعہ نعرے بازی کا واقعہ سامنے آیا جس میں طلباء نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف متنازعہ نعرے لگائے یہ نعرے بازی سپریم کورٹ کے ذریعے جے این یو ریسرچ کے اسکالر شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت نہ دینے کے بعد ہوئی ہے ۔سوشل میڈیا پر 35 سکنڈ کے وائرل ویڈیو میںطالب علم وزیراعظم ،وزیر داخلہ اور اڈانی کیخلاف احتجاج میں متنازعہ نعرے لگارہے ہیں ۔جو انتہائی افسوس کی بات ہے ۔جب دنیا دیکھتی ہے کہ آئے دن یونیورسٹی میں مرکزی لیڈران کے خلاف نعرے بازی ہوتی ہے تو اس سے دماغ میں کئی سوال کھڑے ہونا فطری ہے کہ کیا جے این یو ایک ماسٹرس ڈگری پروگرام کی یونیورسٹی ہے یا لیفٹ پسند سیاست اور ملک دشمن نعروں کا گہوارہ بن گئی ہے ۔ایک سوال یہ بھی کھڑا ہوتا ہے کہ آج لیفٹ نظریات کے طلباء کا اکھاڑہ یونیورسٹی کیسے بن گئی ۔تحریک آزادی کے روح رواں اور کانگریس لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو کے نام پر قائم کی گئی تھی ۔ناکہ کسی خاص پارٹی کی آئیڈیالوجی یا پرچار کی نمائندگی کے لئے نہیں تھی یہ ایک لینگویج یونیورسٹی ہے اس میں ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ماسٹر ڈگری اور ریسرچ کی تعلیم ہوتی ہے ۔ایسے میں آج یہ تعلیمی ادارہ لیفٹ آئیڈیالوجی کا اڈہ کیسے بن رہا ہے ۔ایسے میں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ طالب علم یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں یا سر پھٹول کرنے؟ حالانکہ یہاں کانگریس اور آر ایس ایس آئیڈیالوجی کے بھی طالب علم پڑھتے ہیں لیکن زیادہ تر تعداد مارکسواد اور لینن وغیرہ نظریہ کے ہیں جس کی وجہ سے یہاں آئے دن کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا ہوتارہتا ہے ۔بہرحال کسی بھی طالم علم کا پہلا مقصد پڑھائی ہونا چاہیے اور وہ حاصل کرکے ملک وملت اور انسانیت کا پیغام پہنچائے ناکہ یونیورسٹی کے اندر غلط ماحول پیدا کرکے منفی پیغام دنیا کو جائے ۔

تازہ ویڈیو جو جے این یو میں وائرل ہوا اس میں مودی اور امت شاہ کی قبریں کھودنے کے نعرے ریکارڈ تھے جو انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ نظریہ کے عکاس ہیں ۔ان کا یہ نظریہ ہر انصاف پسند اور ملک حب الوطن شخص اس کی مذمت کرتا ہے اور کٹر پسندطلباء کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یونیورسٹی کو یہی لیڈر جو دیش کے سربراہ اعلیٰ ہیں کو گرانٹ فراہم کرتے ہیں ۔ایسے میں اگر یہی ماحول رہا تو سرکار کو یہ سندیش نہیں جانا چاہیے کہ یہاں تعلیم کے بجائے متنازعہ نعروں اور او ل فول بکنا نہیں چاہیے ۔بہرحال طلباء کے نعروں سے ان کی منفی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے اور یونیورسٹی خاص کر یہ جی سی ایسے نفرتی نعرے لگانے والے طلباء کی ریسرچ گرانڈ روکے اور ان کو یونیورسٹی سے رجسٹریشن ختم کرکے باہر کا راستہ دکھائے ۔

یونیورسٹی میں نعرے بازی اس لئے کی گئی کہ ایک دن پہلے دہلی فساد معاملے میں ملزم شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت نہیں دی گئی بلکہ شفاء الرحمان سمیت دیگر ملزمان کو عدالت نے اس لئے بری کر دیا کیوں کہ ان کے خلاف سنگین الزام نہیں تھے ۔اس لئے ان دونوں پر یہ الزام ہے ان کے مقدمہ  آگے چلے گا ۔اس میں کتنا وقت لگتا ہے یہ بعد کی بات ہے ۔بہرحال سپریم کورٹ کا بھی کہنا تھا کہ لڑکوں پر الزام دیگر سے زیادہ سنگین تھے ۔جے این یو کا مقصد تھا اعلیٰ سطح پر ریسرچ کو بڑھاوا دینا اور نوجوانو ں کی نئی نسل کو دور حاضر کے حساب سے تعلیم سے آراستہ کرنا۔ سماج کو جوڑنے کے لئے ان میں سوجھ بوجھ پیدا کرنا یہی ایک طرح کی ریسرچ ہوتی ہے وہیں شرجیل امام عمر خالد کی ضمانت کو لے کر اپوزیشن لیڈروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چونکہ یہ دونوں مسلم تھے اس لئے ان کو سپریم کورٹ نے ضمانت عرضی خارج کر دی ۔بہرحال جو لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ جن پانچ لوگوں کو عدالت سے ضمانت ملی جن میں عورت بھی شامل ہے وغیرہ بھی تو مسلم ہی ہیں ۔اس لئے نیتاؤں کو جب معاملہ عدالت میں ہو اس طرح کی بیان بازی سے بچنا چاہیے ۔بھارت کی بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی کے 78 برس بعد بھی سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہندو مسلم کے چسمہ سے معاملوں کو دیکھتے ہیں۔کئی لوگوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔عمر خالد کے والد سید قمر رسول الیاس کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عمر خالد تو دنگوں کی جگہ پر ہی نہیں تھا اس کو فضول میں لپیٹ دیا گیا ہے ۔خیر سبھی طلباء کو جاننا چاہیے کہ وہ یونیورسٹی یا مظاہروں میں ایسے متنازعہ نعروں سے بچیں یا کسی شخصیت کی ذات پر ذاتی حملہ نہ کریں ۔اس طرح کے واقع دراصل آپ خود ہی کرتے ہیں بہرحال جو آپ نے بویا ہے اسے کاٹنا ہی ہے ۔احتجاج کریں لیکن تہذیبی حدود اور قومیت کی حدیں نہ پار کریں۔تھوڑا انتظار کریں عدالت میں انصاف ضرور ملے گا اگر آپ بے قصور ہیں ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟