دسویں اور بارہویں کے طلبہ امتحان کی تیاری کیسے کریں؟
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
آج کے دور میں ماں باپ، اساتذہ اور طلبہ امتحانات کو جس سنجیدگی سے لیتے ہیں، اس سے پہلے شاید کسی زمانے میں امتحانات کے بارے میں اتنی سنجیدگی نہیں پائی گئی۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بہتر سے بہترین نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل ہو۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کامیاب ہو اور ان کا نام روشن کرے۔ ادارے اور ٹیوشن کلاسز والے چاہتے ہیں کہ ان کے طلبہ و طالبات اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوں تاکہ ادارے کا نام روشن ہو، بڑے بڑے بینرز تیار ہوں اور شہر کے ہر گلی نکڑ پر لگائے جائیں، جس سے آئندہ برس کے داخلوں کے راستے ہموار ہوں۔ طالب علم کی بھی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہترین نمبروں کے ساتھ کامیاب ہو کر اپنا مستقبل سنوارے۔ ان تمام دباؤ کو دیکھتے ہوئے کہیں نہ کہیں ایک طالب علم ذہنی طور پر پریشان رہتا ہے۔ اس کے شب و روز اذیت اور بے چینی میں گزرتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح امتحان عافیت کے ساتھ مکمل ہو جائے اور بہترین نتائج حاصل ہوں۔طالب علم کے مستقبل کو بہتر بنانے کے چار اہم ستون ہیں۔ اگر یہ ستون مضبوط ہوں تو ان پر کھڑی عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اساتذہ، دوسرے نمبر پر والدین اور سرپرست، تیسرے نمبر پر خود طالب علم اور چوتھے نمبر پر ہمارا سماج۔ اگر ہر ایک اپنی ذمہ داری کو پہچان کر اس پر عمل کرے تو طلبہ کا مستقبل بہتر بن سکتا ہے اور ملک و قوم کے لیے بہترین نوجوان تیار ہو سکتے ہیں۔ اس فہرست میں سب سے پہلا نمبر اساتذہ کا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اساتذہ کی کیا ذمہ داریاں ہیں جن کے ذریعے بچے امتحان کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔
اساتذہ کی ذمہ داریاں:
بچوں کی امتحانی تیاری اور ان کی تربیت میں اساتذہ کا کردار نہایت اہم اور ذمہ داری والا ہوتا ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ہر آں کارے کہ بے استاد باشد
یقیں دانی کہ بے بنیاد باشد
ترجمہ: ہر وہ کام جو استاد کے بغیر ہو، یقیناً بے بنیاد ہوتا ہے۔
امتحان کی تیاری میں جس طرح کی رہنمائی ایک استاد کر سکتا ہے، شاید ہی کوئی دوسرا اس طرح کی رہبری کر سکے۔ استاد کو چاہیے کہ سب سے پہلے طلبہ کے دلوں میں امتحان کی اہمیت پیدا کرے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے دلوں سے امتحان کا خوف نکالے۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعے بچے ذہنی طور پر امتحان کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امتحان قریب آنے پر ہی اساتذہ اور طلبہ سنجیدہ ہوتے ہیں، حالانکہ اگر ابتدا ہی سے اس حوالے سے مشق کرائی جائے تو بہت سی دشواریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اساتذہ کی اولین ذمہ داری یہی ہے کہ وہ طلبہ کے دلوں سے امتحان کا ڈر اور خوف ختم کریں۔
پورے ملک کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات قریب ہیں۔ بعض ریاستوں میں امتحان کے لیے دو مہینے باقی ہیں اور کہیں ڈھائی مہینے کا وقت ہے۔ ماضی میں جو وقت ضائع ہو چکا ہے، اسے بھلا کر اگر اساتذہ اور طلبہ نئے سرے سے محنت شروع کریں تو بہترین نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔ عام طور پر دسمبر کے آخر میں یا جنوری کے آغاز تک پورا نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ بعض ریاستوں میں نویں ماہ کے امتحانات بھی جاری ہوتے ہیں، جنہیں پریپریٹری امتحان کہا جاتا ہے۔ ان امتحانات کا بنیادی مقصد طلبہ کے دل سے سالانہ امتحان کا خوف نکالنا اور انہیں تین گھنٹے کے پرچے لکھنے کی عملی مشق کرانا ہوتا ہے۔ جب نصاب مکمل ہو جائے تو ہر مضمون کے استاد کو چاہیے کہ گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچے، ماڈل سوالیہ پرچے اور بلیو پرنٹ طلبہ کے حوالے کرے تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ سوالات کس نوعیت کے آتے ہیں اور کن ابواب سے زیادہ آتے ہیں۔
مندرجہ ذیل نکات پر عمل کر کے اساتذہ طلبہ کی امتحانی تیاری بہتر بنا سکتے ہیں۔
اوّل، بچوں کا نظام الاوقات۔ اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کی نفسیات اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحان تک کے دنوں کا مکمل ٹائم ٹیبل تیار کریں۔ ہر مضمون کو مناسب وقت دیا جائے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ طلبہ اپنی پسند کے مضامین زیادہ پڑھتے ہیں اور جن مضامین کو مشکل سمجھتے ہیں، انہیں یا تو بالکل نہیں پڑھتے یا بہت کم وقت دیتے ہیں۔ ٹائم ٹیبل اس طرح بنایا جائے کہ چوبیس گھنٹوں کی تقسیم واضح ہو۔ مضامین کے نام اور ان کے اوقات درج ہوں اور نمازوں کے اوقات بھی شامل کیے جائیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم صبح چھ سے سات بجے انگریزی، سات سے آٹھ ہندی اور آٹھ سے نو سماجی سائنس پڑھتا ہے تو پڑھائی مکمل ہونے پر صحیح کا نشان اور نہ پڑھنے پر غلط کا نشان لگائے۔ رات کو سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کرے کہ دن بھر میں کون سے مضامین پڑھے اور کون سے رہ گئے۔
دوم، ماڈل سوالیہ پرچے اور بلیو پرنٹ۔ امتحان قریب ہونے پر بلیو پرنٹ کے مطابق تیاری کرنا طلبہ کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ ذہین طلبہ اس طریقے سے اعلیٰ نمبرز حاصل کر سکتے ہیں اور اوسط یا کمزور طلبہ کم از کم اچھے نمبروں سے پاس ہو سکتے ہیں۔
سوم، گروپ ڈسکشن۔ اساتذہ کو چاہیے کہ اسکول میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں طلبہ گروپ ڈسکشن کے ذریعے ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔ اس طریقے سے معلومات زیادہ دیر تک ذہن میں محفوظ رہتی ہیں۔
چہارم، ایوننگ کلاسز۔ اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کو ذہانت کی بنیاد پر تقسیم کریں اور کمزور طلبہ کے لیے ایوننگ کلاسز کا انتظام کریں تاکہ وہ کم از کم بغیر نقل کے پاس ہو سکیں۔
پنجم، مارننگ کلاسز۔ مارننگ کلاسز میں ان طلبہ کا انتخاب کیا جائے جو اعلیٰ نمبروں کے امیدوار ہوں۔ ان کلاسز میں ایسے نکات بتائے جائیں جن کی وجہ سے ایک یا دو نمبر کٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے، تاکہ طلبہ اپنی غلطیوں کو سمجھ سکیں۔
والدین کی ذمہ داری:
بچوں کے بہترین امتحانی نتائج میں والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ امتحان مکمل ہونے تک والدین خود موبائل فون اور ٹی وی کے استعمال میں کمی کریں۔ اگر والدین ایسا کریں گے تو بچوں کے لیے موبائل سے دور رہنا بھی آسان ہو جائے گا۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آئیں اور انہیں یہ بات سمجھائیں کہ کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے اور کامیابی و ناکامی اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس سوچ سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔
طلبہ کی ذمہ داری:
اساتذہ اور والدین کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، مگر اصل محنت طالب علم کو خود کرنی ہوتی ہے۔ طلبہ کے ذہن میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ امتحان کو سنجیدگی سے لینا ہے اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کی بھرپور کوشش کرنی ہے۔ انسانی ذہن سب سے بڑا محرک ہوتا ہے۔ اگر کوئی پختہ عزم کر لے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ طلبہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے ذہن کند ہو جاتا ہے اور اس کا اثر امتحان پر پڑتا ہے۔ چند دنوں کے لیے موبائل فون سے مکمل دوری اختیار کریں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔
سماج کی ذمہ داری:
طلبہ کے بہترین نتائج کے لیے سماج کا کردار بھی اہم ہے۔ اگرچہ یہ بات بڑے شہروں میں مشکل ہے، لیکن چھوٹے شہروں اور دیہات میں ممکن ہے۔ مساجد کے ذمہ داران اپنے محلوں کے طلبہ پر نظر رکھیں۔ اگر کوئی طالب علم وقت ضائع کرتا دکھائی دے تو اسے محبت سے سمجھائیں اور ضرورت پڑنے پر اس کے والدین سے رابطہ کریں۔ جن گھروں میں شور زیادہ ہوتا ہے، وہاں کے طلبہ کے لیے مساجد میں مطالعے کا پُرسکون ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ کو بھی چاہیے کہ مسجد کے احترام کا مکمل خیال رکھتے ہوئے خاموشی سے مطالعہ کریں۔
امتحان سے ایک دن قبل احتیاطیں:
امتحان سے ایک دن پہلے مقوی اور ہلکی غذا استعمال کریں، بدہضمی والی چیزوں سے پرہیز کریں، جلد سونے کی کوشش کریں، امتحان کو ذہن پر سوار نہ کریں، نیند کی گولیوں سے گریز کریں، لکھنے کا سامان، ہال ٹکٹ اور دیگر ضروری اشیاء پہلے سے تیار رکھیں، امتحانی مرکز وقت سے پہلے پہنچیں اور ہلکی خوشبو کا استعمال کریں کیونکہ اس کا خوشگوار اثر ذہن پر پڑتا ہے۔
اگر اساتذہ، والدین، طلبہ اور سماج اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ان پر عمل کریں تو یقیناً ہماری قوم و ملت کے نونہالوں کے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں اور ایک مضبوط، باصلاحیت نسل سامنے آ سکتی ہے۔
x
Comments
Post a Comment