ہر رنگ میں بہار کا اثبات ! طوطیٔ ہند امیر خسرو

ڈاکٹر شگفتہ یاسمین 

عشق محبت کی معراج ہے اور محبت زندگی کی اساس، محبت کے بغیر زندگی ادھوری ہے ۔ یہ محبت خدا سے ہو تو عبادت اور خدا کے بندوں سے ہو تو خدمت بن جاتی ہے ۔ محبت کو عبادت سے خدمت اور پھر عقیدت کی معراج تک پہنچانے میں بزرگان دین اور صوفیائے کرام نے اہم رول ادا کیا ہے َ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا داخلہ دوحیثیتوں سے ہوا ۔ایک فاتح حکمراں کی حیثیت سے اور دوسرا مبلغ دین کے طور پر۔ فاتح حکمراں کی حیثیت سے انہوں نے یہاں کی سرزمین کو فتح کیا لیکن مبلغین دین کے طور پرانہوں نے یہاں کے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ محلات کھنڈر ہوگئے قلعے مسمار ہوگئے لیکن آستانے آج بھی آباد ہیں اور مرجع خلائق ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ہستیوں کی ذات اور ان کی تعلیمات میں ایسا کچھ تو ضرور تھا کہ مرور ایام کے باوجود زمانہ ان کے نقوش کو مدھم نہیں کر پایا ہے ۔ ایسی ہی ایک نابغہ روزگار شخصیت امیر خسرو کی ہے َ جو ایک صوفی باکمال ، شاعر بے مثال اور جید موسیقار تھے ۔ 

 ہماری گنگا جمنی تہذیب ، ثقافت اور روایت میں موجود تنوع اور رنگا رنگی اس بات کا مظہر ہے کہ خاکِ وطن میں ایسی کچھ توبات ضرور ہے جو یہاں آنے والے ہر شخص کو اپنا بنا لیتی ہے اور پھر وہ یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ خسرو نسلاً ترک تھے لیکن ان کا دل ہندوستانی تھا۔ امیرخسرو کا اصل نام ابو الحسن یمین الدین تھا۔ وہ 1253ء میں ایٹہ ضلع کے قصبہ پٹیالی میں پیدا ہوئے ان کے والد امیر سیف الدین، تاجکستان اور ازبکستان کی سرحد پر واقع مقام کش سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور ایک ہندوستانی امیر عماد الملک کی بیٹی سے شادی کی۔ خسرو ان کی تیسری اولاد تھے انہیں نوعمری سے ہی شعر گوئی کا شوق تھا ابتداء میں ان کا تخلص 'سلطانی' تھا، بعد میں خسرو اختیار کیا۔ 

 خسرو کئی بادشاہوں اور امراء کے درباروں سے وابستہ رہے ۔ پہلے پہل وہ غیاث الدین بلبن کے بھتیجے کچلو خان عرف ملک چھجو کے درباریوں میں شامل ہوئے ۔ بلبن کا بیٹا بغرا خان جو اس وقت سمانہ کا حاکم تھا ایک دن محفل میں موجود تھا اس نے خسرو کا کلام سنا تو اتنا خوش ہوا کہ ایک کشتی بھر رقم انہیں انعام میں دے دی۔ یہ بات کچلو خان کو ناگوار گزری اوروہ خسرو سے ناراض رہنے لگے ۔آخر خسرو بغرا خان کے پاس ہی چلے گئے جس نے ان کی بہت قدرو منزلت کی۔ بعد میں جب بغرا خان کو بنگال کا حاکم بنایا گیا تو خسرو بھی اس کے ساتھ چلے گئے لیکن کچھ عرصے بعد جب ماں اور دلی کی یاد نے بے چین کیا تو وہ واپس دہلی آگئے ۔ دہلی آکر وہ بلبن کے بڑے بیٹے ملک محمد خان کے مصاحب بن گئے ۔ ملک خان ملتان کے حاکم بنے تو خسرو بھی اس کے ساتھ گئے ۔ تیمور سے لڑتے ہوئے ملک خان مارا گیا اور تاتاری خسروکو قیدی بنا کرلے گئے ۔ دو برس بعد خسروکو تاتاریوں کے چنگل سے رہائی ملی۔ قید کے دوران انہوں نے ملک خان اور جنگ میں شہید ہونے والوں کے دردناک مرثیے کہے ۔ کہتے ہیں کہ جب خسرو نے یہ مرثیے بلبن کے دربار میں پڑھے تو وہ اتنا رویا کہ اسے بخار آ گیا اور کچھ دن بعد ہی اس کی موت ہوگئی۔

 بلبن کی موت کے بعد خسرو امرائے شاہی میں سے ایک خان جہان کے دربار سے وابستہ ہو گئے ۔اور جب اسے اودھ کا حاکم بنایا گیا تو وہ اس کے ساتھ اودھ چلے گئے اور دو برس وہاں رہنے کے بعد دہلی واپس آ گئے ۔ تقدیر ہمیشہ خسرو پر مہربان رہی انہیں بے حد محبتیں اور قدردانی ملی۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہیں ہاتھی کے وزن کے برابر سکوں میں تولا گیا اوریہ رقم انہیں انعام میں دی گئی۔ خسرو نہایت پر گو شاعر تھے بیشتر تذ کرہ نویسوں کے مطابق ان کی ابیات کی تعداد تین سے چار لاکھ کے درمیان ہے ۔ بعض تذکرہ نویسوں کے خیال میں خسرو کا جتنا کلام فارسی میں ہے اتنا ہی برج بھاشا میں بھی ہے لیکن اس کی تصدیق اس لیے مشکل ہے کہ خسرو کا مدون کلام برج بھاشا میں موجود نہیں ہے ان کا ہندوی کلام بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا ہے ۔ 

خسرو کو پہلا ہندوی شاعر کہا جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے فارسی اور ہندی کے امتزاج سے جس ہندوی شاعری کی بنیاد ڈالی وہ ارتقاء کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے ریختہ ، ہندوی اور اردو کہلائی۔ دربار سے باہرعوام میں وہ اسی شاعری کے سبب محبوب تھے ۔ ہندی اور فارسی زبان سے مرصع ان کی ایک مشہور غزل کے اشعار ملاحظہ ہوں۔

 زحال مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں 

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

 شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ

 سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں 

 خسرو کو ہندوستان اور ہندوستان سے وابستہ ہر شئے سے محبت تھی اور اس کا اظہار ان کے کلام میں جابجا ملتا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کے موسموں ، فصلوں، پھل پھول ،چرند پرند، رسوم و رواج سب کو نہایت محبت کے ساتھ اپنے کلام میں پیش کیا ہے ۔ان کی مثنوی 'نہ سپہر' ان کی اسی حب الوطنی اور وطن دوستی کا ثبوت ہے ۔ زندہ دلی اور خوش مزاجی ان کی طبیعت کا خاصہ تھی۔ ان کی پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں بہت مشہور ہیں ۔آج صدیاں گزر جانے کے باوجود لوگ ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ چند مثالیں پیش ہیں

 دانائی سے دانت اس پہ لگاتا نہیں کوئی

 سب اس کو بھناتے ہیں پہ کھاتا نہیں کوئی 

 (روپیہ) 

بیسوں کا سرکاٹ لیا

 نا مارا نا خون کیا 

(ناخن) 

 کہہ مکرنیوں کا انداز بھی نرالا ہے 

 برسا برس وہ دیکھ میں آوے 

 منہ سے منہ لگا رس پیاوے 

 وا خاطر میں خرچوں دام 

اے سکھی ساجن نا سکھی آم 

شاعری کے ساتھ ساتھ خسرو ایک جید موسیقار بھی تھے ستار اور طبلہ کی ایجاد کا سہرا انہیں کے سر ہے ۔ انہوں نے ہندوستانی اور فارسی راگوں کے امتزاج سے نئے راگ ایجاد کیے ۔ ان نئے راگوں میں سازگری، باخرز، عشاق، سر پردہ، فرودست اور موافق وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ خسرو نے قوالی کو فن کا درجہ دیا۔ شبلی نعمانی کے مطابق خسرو پہلے اور آخری موسیقار ہیں جن کو' نایک' کا خطاب ملا۔ ہمارے سماجی تانے بانے کو مضبوط بنانے ، یہاں کے لوگوں کو قریب لانے اور اتفاق و اتحاد کی لڑی میں پرونے میں صوفی سنتوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ دیگر صوفیائے کرام کے ساتھ ساتھ حضرت نظام الدین کے آستانے کے دروازے بھی سبھی مذاہب کے لوگوں کے لیے کھلے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت نظام الدین اولیاء کے بھانجے کا انتقال ہوگیا جنہیں انہوں نے گود لے رکھا تھاان کے غم میں حضرت نظام الدین اولیاء نے کھانا پینا ہنسنا بولنا سب چھوڑ دیا اور اپنے حجرے میں خود کو محصور کرلیا یہ حال خسرو پر گراں گزرتا تھا لیکن اس کیفیت سے باہر نکالنے کے لیے کوئی ترکیب سمجھ نہ آتی تھی ایک دن بسنت پنچمی کے موقعے پرکچھ عورتیں پیلے کپڑوں میں ملبوس سرسوں کے پھول لیے گیت گاتی جا رہی تھیں ۔ انہیں دیکھ کر خسرو کو ایک خیال آیا انہوں نے ان کی طرح پیلے کپڑے پہنے اورسرسوں کے پھول لیے گیت گاتے حضرت ںظام الدین کے پاس پہنچے ۔یہ ہیٗت کذائی اور خسرو کو گاتے بجاتے دیکھ کر حضرت نظام الدین بے ساختہ مسکرا دیئے اور حزن و ملال کی کیفیت سے باہر نکل آئے ۔اس وقت سے آج تک ساڑھے سات سو سال بعد بھی حضرت نظام الدین کی درگاہ پر بسنت پنچمی کا تہوار تمام مذاہب کے درمیان اتفاق و اتحاد کی علامت کے طور پر بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ یہ محبت اور عقیدت یک طرفہ نہ تھی حضرت نظام الدین بھی انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ قیامت کے دن جب سوال ہوگا کہ نظام الدین کیا لائے ہو تو خسرو کو پیش کر دوں گا ۔ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر ایک قبر میں دولاشیں دفن کرنا جائز ہوتا تو اپنی قبر میں خسرو کو دفن کرتا۔ جب حضرت نظام الدین کا وصال ہوا خسرو بنگال میں تھے خبر ملتے ہی دیوانہ وار دہلی پہنچے اور

 ۔شدید صدمے کے عالم میں یہ شعر کہا 

گوری سووے سیج پرمکھ پر ڈارے کیس

 چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس 

 پیر ومرشد کے انتقال کے بعد خسرو بے حد غمزدہ رہنے لگے اور تقریباً چھ ماہ بعد ہی مالک حقیقی سے جا ملے ۔ جیتے جی مرشد سے پل بھر کی دوری گوارا نہ تھی، رحلت کے بعد مرشد کے قدموں میں ہی جگہ پائی۔ امیر خسرو ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کو قدرت نے بڑی فیاضی سے علم وفن سے نوازا تھا اور وہ شاہان وامراء کے بھی منظور نظر رہے ۔ جس قدرانہیں نوازا گیا اسی قدر فیاضی اور سخاوت سے وہ دونوں ہاتھوں سے ضرورتمندوں میں مال لٹاتے رہے ۔ ہندوستان اور ہندوستانیت سے محبت ، اپنے پیر و مرشد سے عقیدت اور عشق کا لافانی فلسفہ جو تصوف و روحانیت سے ہو تے ہوئے فنا فی اللہ تک پہنچتا ہے اس کے نقوش خسرو کے کلام میں جا بجا مل جائیں گے اور اردو شاعری ہمیشہ اس پر نازاں رہے گی۔ 

 خسرو دریا پریم کا ، الٹی وا کی دھار

 جو تیرا سو ڈوب گیا ، جو ڈوبا سو پار


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟