مفت کی ریوڑیوں پر لگام کی ضرورت!

سلطان صدیقی

ملک میں جب جب ریاستوں میں چناؤ اور بلدیاتی چنا ؤ ہوں یا پارلیمنٹ کے انتخابات ہوں ان میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کے ذریعے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے وہ اپنے اپنے حلقوں کے ووٹروں سے مفت کی ریوڑیوں جیسے وعدے کرتے ہیں ۔اور اب تو سیاسی پارٹیوں نے ایک نیا چلن اور چھیڑ دیا وہ یہ کہ نقدی رقم یا تحفہ دیں گے اگر وہ چناؤ میں جیت جاتے ہیں اور لوگ ان کے فریبی وعدوں میں پھنس کر اچھے بھلے امیدوار کا فیصلہ کے بغیر وعدہ کرنے والے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں ۔ہاں جو وعدے مفاد عامہ کے مسائل جیسے بجلی پانی کے بقایا بل معاف کرنے کے وعدوں کو اپنے اس چناوی مہم میں نہیں لاتے لیکن دہلی اسمبلی کے چناؤ میں آج سے 11 سال پہلے جب عام آدمی پارٹی کی سرکار بنی تو وزیراعلیٰ بننے کے بعد کیجریوال نے بجلی ،پانی مفت دینے کا اعلان کیا تھا ۔انہوں نے تو اپنے وعدے پر پورا عمل کر دیا لیکن نقدی کا وعدہ ایک طرح سے لوگوں سے جھوٹ بولنے کی مانند ہے ۔ابھی اس سال فروری میں دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا نے عورتوں کے کھاتوں میں 2500 روپے ڈالنے کا وعدہ کیا ۔کیجریوال نے بھی 2400 کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ تو جیت نہیں پائے لیکن دہلی کی روایت یہ ہے کہ یہاں کی جنتا دو ٹرم سے زیادہ کسی پارٹی کی سرکار کو نہیں رہنے دیتی اس لئے اس کے سامنے کانگریس یا بھاجپا کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا مگر ریکھا گپتا نے دہلی کی عورتوں کے کھاتے میں کیش رقم ڈالنے کا وعدہ کیا اور جب جیت گئی تو پوچھا گیا کہ یہ رقم کب آئے گی تو وہ صاف کہہ گئیں ۔خزانے میں پیسہ ہے ہی نہیں دوں کہاں سے ۔عورتیں یہ سن کر چپ چاپ بیٹھ گئیں ۔پتہ نہیں عوام خاص کر عورتیں سیاسی پارٹیوں کے لوک لبھاون وعدوں کے جھانسہ میں آکر ووٹ کیوں ڈال دیتی ہیں ۔

اب سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچا ہے کہ امیدواروں کے ذریعے لوک لبھاون اعلانات پر چناؤ کے دوران روک لگنی چاہیے ۔اس بارے میں عدالت میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے ۔جس پر سپریم کورٹ سماعت کو راضی ہو گئی ہے ۔اس عرضی میں مانگ کی گئی ہے کہ دیش پر بڑھتے قرضہ کو دیکھتے ہوئے معاملے کو عدالت سنجیدگی سے لے ۔حالانکہ پہلے بھی سپریم کورٹ کے سامنے ایک ایسا ہی معاملہ آچکا ہے اس نے اس پر کوئی خود فیصلہ نہ کرکے چناؤ کمیشن کو اس سلسلے میں ہدایت اور قانون بنانے کی بات کہی تھی لیکن ان ہدایات سے بات نہیں بنی ۔

چناوی ریوڑیوں کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔کیوں کہ سیاسی پارٹیاں جنتا کو راغب کرنے کیلئے عوامی بہبود کے نام پر مفت سہولیات اور رعایتوں کے جھوٹے وعدے کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔حد تو تب ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اب کھلے طور پر لوگوں کے کھاتوں میں پیسہ ڈالنے کا وعدہ کرنے لگی ہیں جو ہماری صحت مند جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے ۔اگر یہی چلتا رہا تو پھر چناؤ کا مقصد نہیں رہ جاتا ۔اس لئے اس جمہوری عمل کو داغدار نہ کریں۔کیوں کہ جمہوریت میں آئین نے عوام کو ووٹ کا حق دیا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس امیدوار کو چنے لیکن جب پیسے کا ہی لالچ ملے گا تو اس میں ووٹ کے حق کو ایک طرح سے چنوتی ہے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی اسکیموں کا جنتا سے وعدہ کیاجا نا چاہیے جو ان کی خطہ افلاس کی زندگی جی رہے غریب لوگوں کو اقتصادی فائدہ ہو لیکن اب یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایسی لوک لبھاون اسکیمیں نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ بنتی جارہی ہیں بلکہ غریب لوگوں کو سرکار پر منحصر بھی بنا رہی ہیں یہ ایک غلط روایت ہوگی ۔

بلاشبہ بھارت جیسے غریب آبادی والے ملک میں سرکاروں کو غریب و محروم لوگوں کی بھلائی کی فکر کرنی چاہیے اس کے لئے ان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے فلاحی اور بہبودی اسکیمیں لانی چاہیے ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ عوامی بہبود کے نام پر پیسے کا بندر بانٹ ہو اور جنتا تک اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچے اور آزادی کے 75 برس بعد بھی دیش کا غریب آدمی غریب ہی ہے اس لئے سیاسی پارٹیاں بہتر ہوگا کہ وہ مفت ریوڑیوں جیسے وعدوں سے بچے بلکہ سرکار سے ایسی اسکیمیں لانے کے لئے کام کرائیں جو بے روزگاری اور غربت کو دور کرنے میں مدد گار بن سکیں ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟