یمن پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی
ایک وقت تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیجی خطے میں علاقائی سلامتی کے جڑواں ستون سمجھے جاتے تھے ،لیکن آج متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب دونوں یمن میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ جمعے کے روز، متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورس نے اعلان کیا کہ "جنگ" شروع ہو چکی ہے اور سعودی حمایت یافتہ زمینی افواج پر سعودی فضائیہ کے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے یمن کے جنوبی دھڑوں کو ریاض میں ہونے والے "مذاکرات" میں شرکت کے لیے بلایا ہے، جب کہ جنوب میں واقعات کے ڈرامائی موڑ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو غیر معمولی براہ راست تصادم پر لا کھڑا کیا ہے۔
دونوں خلیجی طاقتوں نے ملک کی طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے مداخلت کی ہے، لیکن اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ نے انہیں زمین پر مختلف حریف گروپوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک گروپ اب جنوبی یمن میں ایک الگ ہونے والی ریاست کی آزادی کا اعلان کرنے پر زور دے رہا ہے۔سعودی وزارت نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں "ریاض میں ایک جامع کانفرنس پر زور دیا کہ تمام جنوبی دھڑوں کو اکٹھا کیا جائے تاکہ جنوبی کاز کے منصفانہ حل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔" ریاض نے کہا کہ یمنی حکومت نے مذاکرات کی دعوت جاری کی ہے۔
یمن کی خانہ جنگی 2014 میں شروع ہوئی تھی اور اس نے پہلے سے ہی غریب ملک کو کئی سالوں کے مہلک تشدد اور دنیا کے بدترین بھوک کے بحرانوں میں ڈال دیا ہے۔جنگ کے آغاز میں، ایران کی حمایت یافتہ باغی حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے بیشتر حصے پر حکومت سے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ تنازعہ 2015 میں بڑھ گیا، جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت عرب ریاستوں کے اتحاد نے حکومت کی بحالی کے لیے فوجی مہم شروع کی۔
جنگ بندی نے حالیہ برسوں میں حوثیوں کے ساتھ تنازعہ کو کم کیا ہے اور اگلے مورچوں کو منجمد کر دیا ہےلیکن سعودی حمایت یافتہ حکمران اتحاد - صدارتی لیڈرشپ کونسل (PLC)، جو 2022 میں تشکیل دیا گیا تھا اور مختلف حوثی مخالف دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا - میدان میں اتر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جنوبی یمن کی اکثریت کو متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں، جنوبی عبوری کونسل (STC) نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جو باضابطہ طور پر اتحاد کا حصہ ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کا مرکز جنوبی عبوری کونسل (STC) ہے، جو جنوبی یمن کا سب سے طاقتور گروپ ہے اورجو یمن کی صدارتی کونسل سے بھی متصادم ہے۔یہ اپریل 2017 میں ان گروپوں کے لیے ایک عبوری تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو جنوبی یمن کو ایک آزاد ریاست کے طور پر بحال کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ یہ 1967 اور 1990 کے درمیان تھا۔ اب وہ جنوبی یمن کے تقریباً تمام سابقہ علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں، جب کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شمالی یمن میں طاقت کو کنٹرول کرتے ہیں۔
STC، جسے مبینہ طور پر UAE کی حمایت حاصل ہے، عدن سمیت جنوب میں اہم علاقے کو کنٹرول کرتا ہے، اور مسلح افواج کی کمانڈ کرتا ہے جسے جنوبی مسلح افواج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حال ہی میں، STC فورسز نے حضرموت کی طرف مارچ کیا اور حکومتی افواج اور ان کے قبائلی اتحادیوں کے ساتھ مختصر جھڑپوں کے بعد یمن کی سب سے بڑی تیل کمپنی پیٹرو مسیلا سمیت صوبے کی اہم تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یہ اس وقت ہوا جب سعودی حمایت یافتہ حضرموت قبائلی اتحاد نے نومبر کے آخر میں پیٹرو مسیلا تیل کی سہولت پر قبضہ کر لیا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ تیل کی آمدنی کے بڑے حصے اور حضرموت کے رہائشیوں کے لیے خدمات کی بہتری کے مطالبات سے اتفاق کرے۔
STC نے بظاہر اس اقدام پر حضرموت اور اس کی تیل کی تنصیبات کو اپنے کنٹرول اور یمن میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو پھیلانے کے بہانے کے طور پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد STC فورسز نے عمان کے ساتھ سرحدوں پر واقع صوبہ مہرہ کی طرف مارچ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ عدن میں، متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورس نے صدارتی محل پر بھی قبضہ کر لیا، جو حکمران صدارتی کونسل کی نشست کے طور پر کام کرتا ہے۔
سعودی عرب نے ہمیشہ یمن کو اپنے دست نگر کے طور پر دیکھا، پہلے 2015 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو شمال میں بہت زیادہ تنقیدی بمباری کی مہم کے ذریعے شکست دینے کی کوشش کی اور پھر بین الاقوامی دباؤ کے تحت حوثیوں کو عدن میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ مفاہمت کرنے کی کوشش کرنے کے لیے سفارت کاری کی طرف لوٹا۔
لیکن گزشتہ مہینے میں، متحدہ عرب امارات نے یمن میں بہت سی مفروضہ معاملات پراپنا یک طرفہ موقف اختیار کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں یمن کی بندرگاہ مکلہ پر سعودی عرب نےیو اے ای سے بھیجی جانے والی فوج ی گاڑیوں پر بمباری کی گئی۔ ریاض نے واضح طور پر کہا کہ گاڑیاں ایس ٹی سی کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں اور وہ اماراتی بندرگاہ سے آئی تھیں۔
لیکن اس پورے قضیے میں جو سب سے حیران کن بات ہوئی ہے وہ ہے تازہ ترین متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات ۔ توکیا وجہ ہے کہ دونوں ممالک، جو کہ وسیع تر مغربی ایشیا کے علاقے میں بہت سے معاملات پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں آج وہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ۔
دراصل ہر مسئلے کے پس پشت دو فریقین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجہ اقتصادی ہوری ہے ۔
تاریخی طور پر، جیسے ان دونوں ممالک کے تعلقات ان کے قائدین محمد بن زائد (MBZ) اور محمد بن سلمان (MBS) کے درمیان برادرانہ تعلقات پر مبنی تھے۔ ایم بی زیڈ جو کہ شہزادہ سلمان سے عمر میں تقریبا ۲۵ سال بڑے ہیں، انہوں نے شہزادہ سلمان کو قومی معیشت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے ذریعہ اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کےگر سکھائے۔
اگر آپ دونوں ممالک کے درمیان ایک متوازی جائزہ کریں تو یہ صاف ظاہر ہوگا کہ ۱۹۷۰ کے بعد سے ایم بی زیڈ نے جو کہ اس وقت ابوظہبی کے ولی عہد تھے انہوں نے شیخ محمد بن راشد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کو علاقائی سطح پر ایک کاروباری مرکز ، بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کا گڑھ اور جدید ٹیکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کردیا۔
اس وقت تک سعود ی عرب اپنی پرانی روش پر قائم تھا اور تیل فروخت کرنے کے علاوہ مذہبی سیاحت کے ذریعہ اپنی معیشت کو آگے بڑھا رہا تھا لیکن شہزادہ سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد اور خاص طور سے جب سے شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل ہوئے ہیں، تب سے ملک کی معیشت اور اس کے فروغ کی ذمہ داری ایم بی ایس کو پوری طرح حاصل ہوچکی ہے۔ تب سے اب تک انہوں نے کئی نئے منصوبوں کے ساتھ ملک کی معیشت کو ایک نئی راہ پر لے جانے کی شروعات کی تھی اور اس دور میں ایم بی زیڈ نے ان کی رہنمائی بطور ایک سرپرست یا بڑے بھائی کی تھی۔ لیکن سعودی حکام کا ہمیشہ سے یہ زعم رہا ہے کہ چوں کہ سعودی عرب کاحجم دیگر علاقائی ممالک سے زیادہ ہے، اس لئے علاقائی دفاعی اور عسکری مسائل پر اس کی رہنمائی برقرار رہے۔
ساتھ ہی ساتھ اس دور میں اس نے تجارتی اور معاشی سطح پر یو اے ای کی طرز پر اپنے شہروں کو فروغ دینا بھی شروع کردیا۔ دوسری جانب یو اے ای نے اس درمیان میں اپنی دفاعی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ کرکے خود کو علاقائی دفاعی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
یعنی کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے کچھ نقل بھی کیا اور ایک دوسرے کو کچھ دیا بھی لیکن فی الوقت دونوں ہی اپنے آپ کو علاقائی لیڈر کے طور پر تسلیم کرانے کی مہم میں مصروف ہیں اور جو کچھ بھی یمن میں ہورہا ہے وہ انہی خواہشات کا حصہ ہے۔
Comments
Post a Comment