بھارت میں بڑھتے سائبر کرائم!

سلطان صدیقی

بھارت میں سائبر سیکورٹی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ سائبر کرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں ۔سال 2024 میں 22.88 لاکھ تک رہے لیکن حکومت ہند اس بارے میں لوگوں میں بیداری اور سائبر کرائم کے واقعات سے نمٹنے کے لئے قدم اٹھاتی رہتی ہے ۔لیکن اس کے باوجود یہ کرائم رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ان کرائم میں سم؍ایم ای آئی بلاک کرنا شامل ہے ۔ڈیجیٹل پیمنٹ یوپی آئی جیسی نئی تکنیکوں کے بیجا استعمال کے سبب دھوکہ دھڑی کے نئے نئے طریقہ سامنے آرہے ہیں جس سے مضبوط سیکورٹی انتظامات اور ٹیلنٹ پیشہ آوروں کی ضرورت ہے۔مختصراً بھارت ایک ورلڈ سائبر سیکورٹی سنٹر کی شکل میں ابھرا ہے لیکن ڈیجیٹل فروغ کے ساتھ سائبر خطرے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنا اور مضبوط سیکورٹی قدم اٹھانا ضروری ہیں ۔

اس بارے میں ورلڈ اکنامک اسٹیج نے داؤس میں منعقدہ سالانہ سمٹ سے پہلے جاری سالانہ 2026 گلوبل رسک رپورٹ میں سائبر عدم سیکورٹی کو بھارت میں سب سے بڑا خطرہ بتایا گیا ہے ۔فکرمندی کی بات ہے یہ رپورٹ دنیا بھر کے 1300 سے زیادہ سائبر ماہرین کے خیالات پر مبنی ہے جس میں عالمی سطح پر موجودہ قلیل المدت اور طویل المدت خطرات کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔رپورٹ بتاتی ہے کہ نئے مقابلہ جاتی دور میں جغرافیائی سیاست اور اقتصادی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اس سے جغرافیائی اقتصادی ٹکراؤ کیلئے سال 2026 کا سب سے بڑا خطرہ مانا گیا ہے یہ ٹکراؤ جس میں دیش تجارت پابندیوں جیسے اقتصادی وسائل کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ 8 نمبر اوپر چڑھ گیا ہے ۔جغرافیائی اقتصادی ٹکراؤ کے علاوہ ممالک کے درمیان مسلح ٹکراؤ ماحولیاتی گرمی ، سماجی پولورائزیشن اور غلط و گمراہ کن اطلاعات اہم عالمی خطرات میں شامل ہیں ۔سائبر ان سیکورٹی رپورٹ میں سائبر سیکورٹی کو بھارت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بتایا گیا ہے ۔یہ خطرہ آمدنی میں عدم توازن اور کم پبلک سیوائیں اور امکانی اقتصادی مندی ،سرکاری جد وجہد کی تشویش بڑھاتا ہے۔ان خطرات سے نمٹنے کے لئےمضبوط ڈیجیٹل اور مالیاتی ٹرانسفر سسٹم ڈولپ کرنا ،نابرابری کو ایک وسیع خطرے کی شکل میں دیکھنا،ہائی بریڈ تھریٹ اور غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ کرنا و آب و ہوا میں ہورہی تبدیلی بھارت کے طویل المدت اور ترقی و سیکورٹی حکمت عملی میں شامل کرنا ضروری ہے ۔عالمی سطح پر تکنیکی خطروں میں تیزی سے جعلسازی دیکھی جارہی ہے جن میں گمراہ کن خبریں دنیا بھر میں گمراہ کن پروپیگنڈہ  دنیا میں پانچویں مقام پر یہ ٹرینڈ ہے ۔جو جمہوری تقاضوں و سماجی بھروسہ پر بڑھتے خطرے کو ظاہر کرتا ہے ۔بھارت کی سلامتی کے لئے بڑے چیلنج کے طور پر یہ خطرات ابھر سکتے ہیں ۔دیش میں روز بروز بڑھتی ڈیجیٹل تکنیک جتنا عام آدمی کے لئے سہولت پیدا کررہی ہے اس سے زیادہ فراڈ کے امکانات بھی تیزی سے بڑھے ہیں ۔ہمیں آئے دن پیسے کی دھوکہ دھڑی کی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں ۔ساتھ ہی اے آئی تکنیکوں کے منفی اثرات اب ورلڈ سطح کے خطرات میں شامل ہو گئے ہیں جو روزگار میں کمی و کسی کی ایمیج کو خراب کرنے کے لئے بیجا استعمال کررہے ہیں ۔ا س طرح کے مختلف چیلنجوں سے عام آدمی کی بڑھتی تشویش فطری ہے۔عالمی سیکورٹی خطرات میں سائبر سیکورٹی کا نمبر 9ویں مقام پر آتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ معاشی نظام اور حکمرانی نظام جیسے جیسے ڈیجیٹل ہوتے جارہے ہیں ویسے ویسے ان کی ڈیجیٹل حساسیت بھی بڑھی ہے اور چیلنج بھی اس لئے وقت کی ضرورت ہے مالی لین دین کرتے وقت کوئی ایسی غلطی نہ کریں جس سے آپ ڈیجیٹل فراڈ میں نہ پھنس جائیں ۔منی ٹرانسفر کرنے کے لئے بڑی ہوشیاری سے لین دین کرنا چاہیے ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟