گریٹر نکوبار میں ترقیاتی منصوبہ: ایک جامع تجزیہ

ظفراقبال 

گریٹر نکوبار جزیرہ، جو ہندوستان کے جزائر انڈمان و نکوبار کے جنوبی ترین حصے میں واقع ہے ، جغرافیائی، ماحولیاتی اور تزویراتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ جزیرہ خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان کے سنگم کے قریب واقع ہے اور آبنائے ملاکا سے نسبتاً قریب ہونے کی وجہ سے عالمی سمندری تجارت میں ایک حساس مقام سمجھا جاتا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ہندوستانی حکومت نے گریٹر نکوبار میں ایک ہمہ جہت ترقیاتی منصوبہ تجویز کیا ہے جس کا مقصد بندرگاہی ڈھانچے ، شہری سہولیات، توانائی، سیاحت اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے ۔ تاہم یہ منصوبہ جہاں اقتصادی ترقی اور اسٹرٹیجک فوائد کا وعدہ کرتا ہے وہیں ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کے حقوق اور پائیدار ترقی سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھاتا ہے ۔ اس مضمون میں گریٹر نکوبار کے ترقیاتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیاجارہاہے ۔ 

گریٹر نکوبار رقبے کے لحاظ سے نکوبار جزائر میں سب سے بڑا جزیرہ ہے ۔ یہاں گھنے جنگلات، مینگرووز، مرجانی چٹانیں، نایاب نباتات و حیوانات اور ساحلی ماحولیاتی نظام پائے جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ جزیرہ مقامی قبائل خصوصاً شومپن (Shompen) اور نکوباری قبائل کا مسکن رہا ہے جن کی ثقافت، زبان اور طرزِ زندگی فطرت سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں بھی یہ علاقہ نسبتاً الگ تھلگ رہا اور جدید انفراسٹرکچر محدود پیمانے پر ہی قائم ہوا۔ 2004 کے سونامی نے جزیرے کے قدرتی اور انسانی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے جس کے بعد بحالی اور ترقی کے مباحث نے نئی جہت اختیار کی۔ 

گریٹر نکوبار ترقیاتی منصوبہ ایک کثیر جہتی منصوبہ ہے جس میں بین الاقوامی معیار کی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، گرین فیلڈ ایئرپورٹ، پاور پلانٹس، شہری بستی، سیاحت کے مراکز اور دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف ہندوستان کو خطے میں ایک مضبوط لاجسٹک اور میری ٹائم ہب کے طور پر ابھارنا ہے تاکہ عالمی تجارت میں حصہ بڑھے اور قومی سلامتی کو تقویت ملے ۔ حکومت کے مطابق یہ منصوبہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، علاقائی ترقی کو فروغ دے گا اور دور دراز جزائر کو قومی دھارے میں شامل کرے گا۔ 

اس منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ سے ہندوستان کو بڑی معاشی کامیابی حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ موجودہ وقت میں ہندوستان کی بڑی تعداد میں کنٹینر ٹریفک غیر ملکی بندرگاہوں پر منتقل ہوتی ہے ، جس سے لاگت بڑھتی ہے ۔ گریٹر نکوبار میں بندرگاہ قائم ہونے سے یہ انحصار کم ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ اور شہری انفراسٹرکچر سیاحت، تجارت اور خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کر سکتے ہیں۔ مقامی اور بیرونی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ، جس سے علاقائی معیشت کو تقویت ملے گی۔ 

گریٹر نکوبار کی جغرافیائی حیثیت اسے بحر ہند کے خطے میں ایک کلیدی مقام بناتی ہے ۔ آبنائے ملاکا سے نزدیک ہونے کے باعث یہاں سے عالمی بحری آمد و رفت پر نظر رکھنا ممکن ہے ۔ ترقیاتی منصوبے کے ذریعے بحری اور فضائی نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ، جو قومی سلامتی کے لیے اہم ہے ۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور بحر ہند میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں یہ منصوبہ ہندوستان کے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ 

لیکن ان ترقیاتی کاموں سے علاقے میں جس طرح کے نقصانات ہوسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ گریٹر نکوبار حیاتیاتی تنوع کا ایک قیمتی خزانہ ہے ۔ یہاں کئی نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع پائی جاتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیوں سے جنگلات کی کٹائی، ساحلی کٹاؤ، مرجانی چٹانوں کو نقصان اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خدشہ ہے ۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر منصوبے کو غیر محتاط انداز میں نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ساحلی علاقوں کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے ، اس لیے پائیدار ترقی کے اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے ۔ 

گریٹر نکوبار میں رہنے والے شومپن اور نکوباری قبائل کی تعداد کم ہے مگر ان کی ثقافتی شناخت انتہائی اہم ہے ۔ ترقیاتی منصوبے سے ان کی زمین، وسائل اور طرزِ زندگی متاثر ہو سکتا ہے ۔ بیرونی آبادی کی آمد سے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی، ثقافتی دباؤ اور صحت سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انسانی حقوق کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقامی قبائل کی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی فلاح و بہبود کو ترقیاتی عمل کا مرکزی جزو بنایا جائے ۔ 

خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے ، پائیدار ترقی کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ ضروریات کو اس طرح پورا کیا جائے کہ آئندہ نسلوں کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔ گریٹر نکوبار کے تناظر میں اس کا مطلب ماحول دوست تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، محدود شہری پھیلاؤ اور قدرتی وسائل کے محتاط استعمال سے ہے ۔ اگر منصوبے میں جدید گرین ٹیکنالوجیز، ماحولیاتی اثرات کے جامع جائزے اور مسلسل نگرانی کو شامل کیا جائے تو ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن ممکن ہے ۔ 

حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قانونی اور ماحولیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ ماحولیاتی اثرات کے جائزے ، جنگلاتی منظوریوں اور قبائلی حقوق کے قوانین کے تحت اقدامات کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ پالیسی سازوں کے مطابق یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے اور اس سے خطے کی مجموعی ترقی ممکن ہوگی۔ تاہم شفافیت، عوامی مشاورت اور آزادانہ نگرانی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ماہرینِ ماحولیات، سماجی کارکنان اور بعض سابق سرکاری افسران نے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے مطابق منصوبے کا حجم اور رفتار جزیرے کی نازک ماحولیاتی گنجائش سے مطابقت نہیں رکھتی۔ عوامی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا اقتصادی اور اسٹرٹیجک فوائد ممکنہ ماحولیاتی اور سماجی نقصانات سے زیادہ اہم ہیں یا نہیں۔ یہ مکالمہ جمہوری عمل کا حصہ ہے اور بہتر فیصلوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ 

بحر ہند کا خطہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ چین، امریکہ، جاپان اور دیگر ممالک اپنی بحری موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں گریٹر نکوبار کا ترقیاتی منصوبہ ہندوستان کی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ تاہم عالمی سطح پر بھی اب ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی ذمہ داری کو اہمیت دی جا رہی ہے ، اس لیے بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگی ضروری ہے ۔ 

اگر منصوبہ دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ نافذ کیا گیا تو گریٹر نکوبار اقتصادی ترقی اور اسٹرٹیجک استحکام کی ایک مثال بن سکتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر ماحولیاتی اور سماجی پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا تو طویل مدتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، سمندری سطح میں اضافہ اور قدرتی آفات جیسے عوامل اضافی چیلنجز پیدا کرتے ہیں جن کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے ۔ 

اس منصوبے کی کامیابی کے لیے چند بنیادی سفارشات پیش کی جا سکتی ہیں۔ پہلی، ماحولیاتی اثرات کے جائزے کو شفاف اور سائنسی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جائے ۔ دوسری، مقامی قبائل کی شمولیت اور فلاح کو یقینی بنایا جائے ۔ تیسری، تعمیرات کے پیمانے اور رفتار کو جزیرے کی ماحولیاتی گنجائش کے مطابق رکھا جائے ۔ چوتھی، قابلِ تجدید توانائی اور گرین انفراسٹرکچر کو ترجیح دی جائے ۔ پانچویں، آزادانہ نگرانی اور احتساب کے نظام قائم کیے جائیں۔ 

گریٹر نکوبار میں ترقیاتی منصوبہ ایک پیچیدہ مگر اہم اقدام ہے جو ہندوستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ منصوبہ اقتصادی ترقی، قومی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے نئے دروازے کھول سکتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور سماجی انصاف کی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ترقی اور تحفظ کے درمیان متوازن راستہ اختیار کیا جائے ۔ گریٹر نکوبار نہ صرف ایک جغرافیائی خطہ ہے بلکہ قدرتی ورثہ اور انسانی ثقافت کا امین بھی ہے ، جس کی حفاظت اور ترقی دونوں یکساں اہم ہیں۔ 

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟