آٹیزم سے متاثر بچوں کے تئیں سماج اور اسکول کی سرد مہری لمحہ فکریہ
آٹیزم سے متاثر بچہ والدین کے لئے نہیں بلکہ سماج اور اسکول کے لئے بوجھ، یہ رویہ آخر کب تک؟
منصور خاں
صبح اسکول کا وقت ۔ ماں بچے کے جوتوں کے تسمے باندھ رہی ہے، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ بچہ خاموش ہے، آنکھیں زمین پر جمی ہوئی ہیں، جیسے وہ جانتا ہو کہ آج پھر ایک ایسی جگہ جانا ہے جہاں اس کی زبان نہیں سمجھی جاتی۔ ماں مسکرا کر کہتی ہے کہ سب ٹھیک ہوگا، مگر اس کی آواز میں چھپا خوف بچہ محسوس کر لیتا ہے۔ وہ شور سے ڈرتا ہے، ہجوم سے گھبرا جاتا ہے، مگر ماں پھر بھی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیتی ہے، جیسے اپنے یقین سے اس کے ڈر کو کم کرنا چاہتی ہو۔ اسکول کے دروازے پر پہنچ کر وہ لمحہ آتا ہے جہاں ماں کا دل تھم سا جاتا ہے—کیا آج اس بچے کو قبول کر لیا جائے گا، یا پھر خاموشی سے یہ کہہ دیا جائے گا کہ یہ بچہ ہمارے لیے “زیادہ مشکل” ہے؟یہ صرف ایک ماں اور ایک بچے کی کہانی نہیں، یہ ہر اُس گھر کی حقیقت ہے جہاں آٹیزم کے ساتھ جینے والا بچہ موجود ہے۔ ماں جانتی ہے کہ اس کا بچہ ضدی نہیں، بدتمیز نہیں، وہ صرف دنیا کو مختلف انداز سے محسوس کرتا ہے۔
آٹیزم نہ ہی کوئی وبا ہے، نہ چھوت کی بیماری، نہ کسی گناہ کی سزا۔ یہ ایک نیورولوجیکل کیفیت ہے، یعنی دماغ کی نشوونما کا ایک مختلف انداز۔ آٹیزم میں مبتلا بچے دنیا کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے آوازیں زیادہ تیز، روشنی زیادہ چبھنے والی اور سماجی رویّے زیادہ الجھا دینے والے ہو سکتے ہیں۔تحقیق بتاتی ہے آٹیزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل کیفیت ہے جو عموماً بچپن کے ابتدائی برسوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں سماجی رابطے، گفتگو، رویّوں اور دلچسپیوں کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں۔ “کوئی بچہ بول نہیں پاتا، کوئی بہت بولتا ہے مگر بات سمجھانا مشکل ہوتا ہے؛ کوئی شور سے گھبرا جاتا ہے، کوئی ایک ہی حرکت بار بار دہراتا ہے؛ کوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرتا، کوئی لمس سے پریشان ہو جاتا ہے۔
آٹیزم سے متاثر بچہ ایک ایسے معاشرے میں آنکھیں کھولتا ہے جو اس کے لیے نہیں بنا۔اس کے لیےکپڑوں کا لمس تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔معمولی آوازیں طوفان بن سکتی ہیں۔اسکول کا نظام اسے خوف میں مبتلا کر سکتا ہے۔وہ بچہ جو قطار میں کھڑا نہیں رہ پاتا،جو استاد کی آنکھوں میں دیکھ کر بات نہیں کرپاتا،جو کھیل کے اصول نہیں سمجھ پاتا—وہ بدتمیز یا نافرمان نہیں،وہ صرف دیگر بچوں سے مختلف ہے۔جو آوازیں آپ کے لیے معمولی ہیں چاہے وہ پنکھے کی ہو،ٹی وی کی ہو،بازار کا شور یا اسکول کی گھنٹی ہو—آٹیزم والے بچوں کے لیے یہ آوازیں درد بن جاتی ہیں۔ان کا دماغ ان آوازوں کو فلٹر نہیں کر پاتا۔ہر آواز پوری شدت سے اندر اترتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے کوئی مسلسل کانوں میں چیخ رہا ہو۔وہ کان بند کرتا ہے،چیختا ہے،روتا ہے اور دنیا اسے “بدتمیز” قرار دے کر اس کے احساسات کوکچل دیتی ہے۔
کئی بار آٹیزم والے بچوں کے لئے محبت تکلیف بن جاتی ہے۔ ماں کا گلے لگانا،آٹیزم والے بچے کے لیے یہ بھی کبھی کبھی ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کپڑے چبھتے ہیں،پسینہ جلتا ہے،لمس خوف پیدا کرتا ہے۔لوگ کہتے ہیں:“پیار سے کیوں بھاگتا ہے؟”کسی کو یہ احساس نہیں کہ وہ بھاگ نہیں رہا—وہ خود کو بچا رہا ہے۔ ایک ماں فطری طور پراپنے بچے کو گلے لگاتی ہے۔یہ اس کی محبت کی زبان ہے۔مگر آٹیزم والے بچے کے لیےکسی کا اچانک چھونا ،زور سے گلے لگانا،بار بار پیار کرنا،ایسا لگتا ہے جیسےاس کے جسم پر بوجھ رکھ دیا گیا ہو۔ آٹیزم والا بچہ: محبت کو محسوس کرتا ہے۔مگر برداشت نہیں کر پاتا۔وہ چاہتا ہے قریب آنا۔مگر اس کا جسم اجازت نہیں دیتا۔یہ ایسا ہی ہے جیسے۔آپ جلتے ہوئے ہاتھ سے کسی کو تھامنا چاہیں—دل چاہتا ہے،مگر جسم انکار کر دیتا ہے۔ وہ بچہ جانتا ہےکہ ماں پیار کر رہی ہے،مگر اس کا دماغ اس پیار کو خطرہ سمجھ لیتا ہے۔
جب کسی والدین کو پہلی بار ڈاکٹر یہ کہتا ہے کہ “آپ کے بچے میں آٹیزم کی علامات ہیں”، تو یہ جملہ کانوں سے زیادہ دل پر بجلیاں گراتا ہے۔ ماں خود کو قصوروار سمجھنے لگتی ہے اور اس کے ذہن میں بار بار یہی خیال آتا ہے کہ شاید حمل کے دوران اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہو، جبکہ باپ خاموش ہو جاتا ہے، جیسے اس کی ساری مضبوطی ایک ہی لمحے میں بکھر گئی ہو۔ یہ وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جہاں والدین کو محض طبی معلومات نہیں بلکہ گہرے جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آٹیزم سے متاثر بچے کے ساتھ زندگی گزارنے والی ماں ایک ایسی جنگ لڑتی ہے جو عام طور پر کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اکثر پوری نیند نہیں لے پاتی کیونکہ بچہ رات بھر جاگ سکتا ہے، وہ تقریبات میں شرکت سے کتراتی ہے کیونکہ لوگوں کی نظریں اور سرگوشیاں اس کا پیچھا کرتی ہیں، اور بازار میں اگر بچہ شور مچا دے تو وہ شرمندگی کے بوجھ تلے دب جاتی ہے، کیونکہ ہمارا سماج وجہ جاننے کے بجائے فوراً فیصلہ سنا دیتا ہے۔ ایک ماں کے الفاظ میں، جب میرا بچہ روتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اسے سنبھال نہیں سکتی، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ شاید وہ دنیا کے شور سے گھبرا گیا ہو۔ یہ ماں روز ٹوٹتی ہے، مگر روز اپنے بچے کی خاطر خود کو پھر سے جوڑ لیتی ہے۔آٹیزم والے بچے کی ماں ہر دن ایک نئی قربانی دیتی ہے۔ وہ صرف ماں نہیں رہتی بلکہ ڈاکٹر، تھیراپسٹ، استاد اور محافظ بن جاتی ہے۔ دن کے وقت وہ مضبوط نظر آتی ہے، لوگوں کے سوال سنتی ہے، طعنے برداشت کرتی ہے، مشوروں کی بارش سہتی ہے، مگر رات کے سناٹے میں وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ بچے کے بستر کے پاس بیٹھ کر وہ خاموشی سے روتی ہے، اپنے آنسو اس ڈر سے چھپا لیتی ہے کہ کہیں بچہ جاگ نہ جائے۔ اس کے دل میں سوالوں کا طوفان ہوتا ہے: کیا میں نے کچھ غلط کیا؟ کیا میری محبت کم پڑ گئی؟ کیا میری اولاد اس دنیا میں محفوظ رہے گی؟ وہ ماں جو کبھی بیٹی یا بیٹے کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتی تھی، آج صرف یہ دعا مانگتی ہے کہ دنیا اس کے بچے کو تکلیف نہ دے۔
دوسری طرف آٹیزم والے بچے کا باپ ایک ایسی اذیت جیتا ہے جس کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ وہ دن بھر خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، مگر اندر ہی اندر مسلسل ٹوٹتا رہتا ہے۔ علاج کا خرچ، اسکول کا انکار، سماج کے سوالات اور مستقبل کا خوف—سب کچھ وہ خاموشی سے اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھتا ہے اور اس کے دل میں ایک ہی سوال گردش کرتا رہتا ہے: میرے بعد اس بچے کو کون سمجھے گا؟ وہ آنسو بہانے کے بجائے انہیں اپنے اندر دفن کر لیتا ہے، اور یہی درد اس کی زندگی کا سب سے بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔
والدین کی یہ جدوجہد صرف بچے کی کیفیت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ سماج اسے اور گہرا کر دیتا ہے۔ اسکول اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں، رشتے دور ہوتے چلے جاتے ہیں، محفلوں میں نظریں بدل جاتی ہیں۔ ماں باپ کو بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کا بچہ “نارمل” نہیں ہے۔ وہ اپنے بچے کو بیماری سے زیادہ لوگوں کی بے حسی اور لاعلمی سے بچاتے ہیں۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں والدین صرف اپنے بچے کے لیے نہیں بلکہ اپنے وجود کے لیے بھی لڑ رہے ہوتے ہیں۔ آٹیزم والا بچہ بوجھ نہیں ہوتا، وہ صرف ایک مختلف انداز سے سوچنے اور محسوس کرنے والا ذہن رکھتا ہے۔ ہر سال ہزاروں آٹیزم والے بچے اسکول جانے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد کے لیے اسکول کا دروازہ کبھی کھلتا ہی نہیں۔ کہیں داخلے کے فارم واپس کر دیے جاتے ہیں، کہیں والدین کو خاموشی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ “کسی اور جگہ” دیکھیں، اور کہیں بچے کو چند دن رکھ کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ “سسٹم میں فٹ نہیں بیٹھتا”۔کیا حقِ تعلیم واقعی سب کے لیے ہے، یا صرف اُن بچوں کے لیے جو ہمارے بنائے ہوئے سانچوں میں فٹ آتے ہیں؟
جدید تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ اگر آٹیزم کا بروقت پتہ چل جائے تو بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ خصوصی تعلیم، اسپیچ تھیراپی اور رویّاتی تربیت کے ذریعے بچے بہتر انداز میں زندگی گزار سکتے ہیں، جبکہ والدین کی تربیت آٹیزم کے نظم و نسق میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ سب علاج نہیں بلکہ زندگی کو بہتر انداز میں جینے کا راستہ ہے۔ والدین کی تربیت آٹیزم مینجمنٹ کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ جب ماں باپ، بچے کے رویّوں کو سمجھنا سیکھ لیتے ہیں، تو چیخ و پکار، ضد اور بے چینی خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق والدین کی درست رہنمائی اکثر دوا سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے ۔ آخر میں یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ آٹیزم کا کوئی فوری یا جادوئی علاج فی الوقت دستیاب نہیں ہے۔ دَم، تعویذ -گنڈہ یا دلفریب اور حقیقت سے برعکس دعووں کا کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ آٹیزم کا اصل علاج سمجھ، صبر، تھیراپی اور قبولیت ہے ۔ آٹیزم سے متاثر بہت سے بچے وقت کے ساتھ بہتر ہوتے جاتے ہیں، خاص طور پر جب تشخیص جلد ہو، تھیراپی باقاعدگی سے ہو، والدین بچوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں اور اسکول کا بھرپورتعاون حاصل ہو۔ کئی بچے بڑے ہو کر بات چیت کرنا بھی سیکھ لیتے ہیں اور خودمختار زندگی کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین خود کو قصوروار ٹھہرانا چھوڑیں، درست معلومات حاصل کریں اور صبر کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ سماج کو بھی فیصلے صادر کرنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی، آٹیزم کو مذاق نہیں بلکہ حقیقت ماننا ہوگا اور ایسے بچوں کے لیے مناسب جگہ بنانی ہوگی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خصوصی تعلیم کو ترجیح دے، آگاہی سے متعلق مہمات چلائے اور والدین کو تنہا نہ چھوڑے۔
Comments
Post a Comment