مسلمان :درپیش مسائل اور اصلاح معاشرہ کی ضرورت
اصلاح معاشرہ کے لیے تین باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اوروہ ہیں تعلمے ، تربت اور اخلاق۔ یہ تینوں الفاظ ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں ، کیونکہ ان میں سے کسی کی عدم موجودگی میں مکمل اور صالح معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے ۔مگر ان کا مفہوم اور دائرہ کار الگ الگ ہے ۔
پہلے بات کرتے ہیں تعلیم کی ،تعلمہ سے مراد علم کی منتقلی اور ذہنی شعور کی نشوونما ہے ۔ یہ بنالدی طور پر معلومات، حقائق، علوم، مہارتںے اور نظریات سکھانے کا عمل ہے ۔ اس کا دائرہ کار زیادہ تر دماغی اور فکری سطح پر ہوتا ہے ۔ مثال کے طورپر پڑھنا، لکھنا، ریاضی، سائنس، تاریخ، کمپو۔ٹر، انجنئررنگ وغرکہ۔ اس کامقصد انسان کو دناہوی علوم سے آراستہ کرنا، مسائل حل کرنے کی صلاحیت سازی اور معاشرے مںے کارآمد بنانا ہوتاہے ۔یعنی تعلمر وہ عمل ہے جس سے انسان کی معلومات اور فکری صلاحیت مںر اضافہ ہوتا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں تربیت کی، اس کا مطلب ہے پرورش کرنا، بڑھانا، نشوونما کوفروغ دینا ۔ یہ کردار سازی، شخصتی کی تعمر اور رویوں کی درستگی کا نام ہے ۔ اس مںھ ظاہری اور باطنی دونوں پہلو شامل ہںج: ظاہری پہلومیں آداب، لباس، ملا جول، طرز زندگی اورباطنی پہلو میں عادات، اقدار، جذبات، اوراخلاقی رجحانات شامل ہیں ۔تربتا کا مقصد انسان کی فطری صلاحتودں کو پروان چڑھانا اور غرل فطری (بری) عادات کو ختم کرنا ہوتاہے ۔مختصرا،یہ وہ عمل ہے جس سے انسان کا کردار، رویہ اور شخصتر مکمل اور متوازن طور پر پروان چڑھتی ہے ۔
تیسری چیز اخلاق ہے ،یہ سرشت، عادت، مزاج سے منسوب ہے ۔ یہ انسانی رویوں، اقدار اور کردار کا مجموعہ ہے ، جو دل مںی رچ بس جاتا ہے ۔ سچائی، امانت، عفو، صبر، ایثار، رحم، عدل، حای اور وفاداری وغر ہ اچھے اخلاق میں آتے ہیں ۔ جھوٹ، دھوکہ، حسد، غصہ، تکبر، ظلم وغریہ برے اخلاق کی مثالیں ہیں ۔یعنی اخلاق وہ اندرونی صفات اور رویے ہں، جو انسان کے اعمال اور معاملات مںر ظہورپذیر ہوتے ہںا۔
اگر صرف تعلمر ہو اور تربت نہ ہو تو انسان عالم بن سکتا ہے مگر اچھا انسان نہںف بن پاتا۔اگر تربتج ہو مگر اخلاق نہ ہوں تو شخص مہذب نظر آ سکتا ہے مگر حقیین نیے سے محروم رہتا ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے مکمل انسان وہی ہے جس مں علم (تعلمخ)، کردار سازی اور حسنِ اخلاق تینوں صفات موجود ہوں۔
ہم اکثر یہ بات سنتے اور پڑھتے ہیں کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ،تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیامسلمان اس ضابطہ حیات پر مکمل عمل کرتے ہیں؟ ۔جواب نہیں میں ہوگا۔ضابطہ حاوت وہ اصول و ضوابط ہںے جو ہمںا اپنی زندگی گزارنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہں ۔ یہ ضابطے سماجی، اخلاقی، مذہبی اور شخصی سطح پرہماری رہنمائی کرتے ہںر۔
مندرجہ بالا پہلوؤں کومدنظر رکھتے ہوئے درجہ ذیل باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت جدید ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے سماجی اصلاحات صنفی عدم مساوات، جدید تعلیم کی کمی اور توہم پرستی جیسے اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ یہ اصلاحات قومی سیکولر اقدار کے ساتھ ہم آہنگی، انتہا پسندی کے خاتمے اور سماجی شمولیت کو فروغ دیتی ہیں۔
ہمیں مسلم خواتین کے مساوی حقوق، گھریلو تشدد اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنایا جا سکے ۔
جدید تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ کو پروان چڑھانا ناگزیر ہے تاکہ نوجوانوں کو روایتی نصاب سے آگے بڑھ کر جدید چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے ۔ جہیز، مسلم معاشرے کے اندر ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور ترقی کی راہ میں حائل توہم پرستی جیسے معاملات کا مقابلہ کرنا ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے تاریخی تحریکوں نے ستی اور بچوں کی شادی جیسی رسومات کے خلاف جنگ لڑی تھی۔انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی روک تھام ترقی پسند اصلاحات اسلام کی معتدل اور کثرت پسندانہ تشریح کو فروغ دیتی ہیں، جو روحانی ترقی، عقل اور مکالمے پر زور دے کر انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرتی ہیں۔ جمہوری اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر، سماجی اصلاحات دیگر کمیونٹیز کے ساتھ روابط استوار کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ مسلمان ہندوستان کی سیکولر اور ہمہ گیر جمہوریت میں فعال کردار ادا کریں۔مختصر یہ کہ، عصری مسلم سماجی اصلاحات اندرونی مضبوطی، سماجی ہم آہنگی اور جدید ہندوستان میں مکمل شمولیت کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ اصلاحات ماضی کی تحریکوں کے ترقی پسند جذبے کی بازگشت ہیں، جو آج کے چیلنجوں کے مطابق ڈھل رہی ہیں۔
ہر مسلمان مرد وعورت کی ذمہ داری ہے کہ ایمان وعقیدہ کی درستگی کے ساتھ خود بھی نیک اعمال کا خوگر ہو، برائیوں سے پرہیز کرے اور دوسروں کو بھی صالح بنانے کی کوشش کرے ، اچھائیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو مٹانے کی فکر اور جد و جہد کرے ۔قرآن پاک میں اللہ تعالی امت کا تعارف اس طرح کراتے ہیں ''تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کو نفع رسانی کے لیے پیدا کی گئی ہے ، تم اچھائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور خود بھی ایمان والے ہو۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا :
تم میں سے جو شخص بھی کسی منکر (غلط کام) کو دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے نکیر کرے ، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے مٹائے یعنی دل میں برائی کو دیکھ کر کڑھن پیدا ہو اور اس برائی کو ختم کرنے کی فکر کرے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ ذمہ داری بلا امتیازہر امتی کی ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے ۔ حالات کا جائزہ لے ، اور اپنے ارد گرد جہاں بھی کوئی عملی، اخلاقی برائی نظرآئے اس کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرے ۔
اس وقت عام طور پر مسلم معاشرہ کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، سب سے اہم عبادت نماز سے غفلت عام ہے ، نشہ بازی، جوا ، سٹہ اور طرح طرح کی مخرب اخلاق اور تباہ کن عادتوں میں معاشرہ کا بڑا طبقہ مبتلا ہے ، شادی کے موقعہ پر فضول خرچی ، تلک، جہیز اور لا یعنی رسوم کی پابندی کی وجہ سے کتنے گھرانے تباہ ہو رہے ہیں ، ملٹی میڈیا موبائل کے غلط استعمال سے نوجوان طبقہ بے حیائی اور فحاشی کا شکار ہورہا ہے ۔گھروں میں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو رہی ہے ۔ یہ اوراس جیسی متعدد عملی اور اخلاقی خرابیوں میں معاشرہ تباہ ہورہا ہے ۔دوسری طرف ان جیسی خرابیوں کے ازالہ اور اصلاح معاشرہ کے لیے جیسی مسلسل اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے اس میں بھی عام طور پر کوتاہی ہو رہی ہے جس کے نتیجہ میں امت میں عام طور پر بے چینی، پریشانی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے ۔
ان حالات میں تمام مسلمانوں اور خاص طور پر علماء کرام ، ائمہ مساجد ، متولیان مساجد، بستی اور برادری کے ذمہ دارافراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کے لیے خود محنت کریں اور اس سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں کے ساتھ عملی اور فکری تعاون پیش کریں ۔ جو حضرات بھی اس سلسلہ میں اپنی صلاحیت ، محنت اور وقت صرف کریں یہ ان کے لیے موجب سعادت ہے ۔ خوش دلی، بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اس کام میں منہمک ہونا چاہیے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس راہ میں مخالفت اور طعن وتشنیع کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
Comments
Post a Comment