وینزویلا حملے سے طاق پر قانون!

وینزویلا میں نکولس مادورو سرکار کا تختہ پلٹ کر امریکہ نے ان کو گرفتار کر لیا۔جس وجہ سے ملک میں سیاسی سطح پر اتھل پتھل رہی ۔موجودہ صدر نکولس مادورو کے دورہ عہد میں کرائسس گہر ا ہوگیا اور امریکہ جیسے ملکوں کی پابندیوں نے حالات کو ا ور مزید مشکل بنا دیا جس سے ملک میں وینزویلا میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اور اس کی وجہ سے تقریباً 82 فیصد ملک کے باشندے غریبی میں جی رہے ہیں ۔

جس وجہ سے ان لوگوں کو اپنی روز مرہ کی کھانے پینے تک کی چیزیں بھی میسر نہیں ہیں ۔کیوں کہ وہاں مہنگائی زیادہ ہے جس وجہ سے ملک میں فاقہ کشی بیماری اور کرائم شرح بھی بہت بڑھ گئی ہے۔زندگی کی گزر بسر کے لئے 80 لاکھ شہری وینزویلا سے ہجرت کر چکے ہیں جس وجہ سے وہاں بڑی مشکل آکھڑی ہوئی ہے ۔

امریکہ نے جس طرح سے وینزویلا میں فوجی کاروائی کرکے وہاں کے صدر کو گرفتار کیا ہے ۔اس سے وابستہ سفارتی سیاسی اور بین الاقوامی قانون سے متعلق سوالات اپنی جگہ ہی ہیں لیکن امریکہ کو مداخلت کا موقع دینے کے لئے مادورو کی پالیسیاں ہی ذمہ دار ہیں ۔دراصل وینزویلا میں جو کچھ ہوا ہے۔وہ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کچھ عرصہ سے چلے آرہے آپسی تنازعات کا نتیجہ ہے ۔جو اب خوفناک شکل میں سامنے آرہا ہے ۔

وینزویلا کی راجدھانی قراقص میں جمع کی دیر رات امریکی ہوائی جہازوں کے حملوں سے دہل اٹھی اور اس کاروائی کے بعدا مریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی کو حراست میں لے کر دیش سے باہر بھیج دیا گیا ہے ۔اس حملے کی وجہ منشیات چیزوں کی اسمگلنگ بتائی جاتی ہے ۔امریکہ کا الزام ہے ۔وینزویلا نشیلی چیزوں سے وابستہ اسمگلنگ سے دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی طاقتور دیش اس طرح کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کسی چھوٹے ملک کو اور کمزور مملکت پر حملہ کرسکتا ہے ؟ وہ بھی امریکہ جب وہاں کے صدر ٹرمپ دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگیں رکوانے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے ۔اب انہوں نے خود ہی بیک ڈور سے وینزویلا پر حملہ کر دیا۔دراصل امریکی پالیسی کسی ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتی اور وہ جب آگے بڑھتا ہے تو اس سے کمزور کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں ۔اب وینزویلا کے بعد امریکہ ایران میں راج شاہی کو ختم کرنے کے لئے وہاں کے حکومت مخالف لوگوں کو حکمراں سرکار کے خلاف شہ دے کر بھڑکا رہا ہے ۔اب جہاں تک وینزویلا سے امریکی نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کی بات ہے تو اس معاملے میں باہمی یا بین الاقوامی عدالت کی سطح پر معاملہ سلجھایا جاسکتا تھا ۔

امریکہ نے بات چیت کے بجائے وینزویلا پر حملے کو چنا اور اس کی کاروائی پر تبدیلی اقتدار کا ارادہ ظاہر کرتی ہے کیوں کہ مادورو اور ان کی بیوی کو جلا وطن کرنا اسی بات کی ایک کڑی کا حصہ ہے کہ امریکہ اپنا پٹھو وہاں بٹھائے ۔وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے بھی پچھلے دنوں ایک انٹرویو میں اس طرف اشار ہ دیا تھا کہ امریکہ ان کے دیش میں تختہ پلٹ کر وہاں کے وسیع تیل ذخیرہ تک اپنی پہنچ آسان بنانا چاہتا ہے ۔ان کی پیشگوئی ایک طرح سے صحیح ثابت ہوتی نظرآرہی ہے ۔بہرحال وینزویلا پر حملے سے وہاں کے شہریوں میں شش وپنج کی حالت بنی ہوئی ہے کہ ان کا گزر بسر کیسے چلے گا۔بہرحال وینزویلا کے حالات پر نظررہے گی کہ وہاں سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟