ڈاکٹر منظور عالم: اعتدال اور علم و دانش کا استعارہ ۔

پروفیسر مشتاق احمد
آج جب ایک قداور اسلامک اسکالر اور اعتدال پسند دانشور ڈاکٹر منظور عالم(9اکتوبر 1945۔13جنوری 2026) کے مرحوم ہونے کی خبر ملی تو ان کی بہت سی یادیں ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگیں  ۔۔مرحوم سے انسیت کی پہلی وجہ یہ رہی  کہ وہ ہمارے ضلع مدھوبنی کے رانی پور ،بینی پٹی کے تھے اور دوسری یہ کہ ان کی تقریر و تحریر چشم کشا ہوتی تھی ۔مذہب اسلام کا گہرا مطالع اور پختہ سماجی شعور ان کی تحریروں میں جان ڈال دیتی تھی ۔غرض کہ ان کی رحلت سے علم و دانش کی دنیا آج ایک ایسے سنجیدہ، باوقار اور بصیرت افروز قلمکار و مفکر سے محروم ہو گئی ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم، اعتدال اور سماجی مکالمے کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ معروف اسلامک اسکالر اور  انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز ، دہلی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم کا انتقال محض ایک فرد کی رحلت نہیں بلکہ ایک ایسے فکری رویّے کا نقصان ہے جس کی آج کے انتشار زدہ سماج کو  شدید ضرورت ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم ان اہلِ علم میں شامل تھے جنہوں نے روایت اور جدیدیت کے درمیان کسی تصادم کے بجائے ایک بامعنی ربط قائم کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلامی فکر اگر زمانے کے سوالات سے آنکھ چرا لے تو وہ محض ماضی کا حوالہ بن کر رہ جاتی ہے، اور اگر روایت سے کٹ جائے تو اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔ اسی توازن نے ان کی فکری شخصیت کو ممتاز بنایا۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروردہ تھے ۔اس عالمی سطح کی یونیورسٹی سے انہوں نے ایکونومکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی اور برسوں سعودی عرب میں بطور مشیر اور استاد اپنے فرائض انجام دیے تھے ۔
 انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز  کا قیام دراصل ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک نظریہ تھا۔ یہ نظریہ دلیل، مکالمے اور اخلاقی استدلال پر مبنی تھا۔ ڈاکٹر منظور عالم نے اس ادارے کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ مذہب کو نعروں کے بجائے فکر کے میدان میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک علمی اختلاف دشمنی نہیں بلکہ ذہنی بالیدگی کی علامت ہے—بشرطیکہ اس میں شائستگی اور دیانت باقی رہے۔
آج جب معاشرہ فکری انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے، ڈاکٹر منظور عالم کی آواز اعتدال کی ایک مضبوط دلیل تھی۔ وہ مذہبی سخت گیری کے بھی ناقد تھے اور مذہب سے لاتعلقی کے بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دین انسان کو جوڑنے آیا ہے، توڑنے نہیں؛ اور علم کا اصل امتحان اس کی سماجی افادیت ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ بین المذاہب اور بین المسالک مکالمے کے سرگرم حامی تھے۔
ان کی گفتگو اور تحریر کا سب سے نمایاں وصف اسلوب کی شائستگی تھی۔ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے عقل کو مخاطب کرتے تھے۔ ان کی تقریر سننے والا اختلاف کے باوجود یہ محسوس کرتا تھا کہ سامنے والا خیر خواہ ہے، مخالف نہیں۔ یہی وصف انہیں خطیبانہ مقبولیت کے بجائے فکری وقار عطا کرتا تھا۔
ڈاکٹر منظور عالم نے تعلیم کو محض اسناد کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ کردار سازی کا عمل قرار دیا۔ نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام سادہ مگر گہرا تھا: سوال کرو، مگر ذمہ داری کے ساتھ؛ اختلاف کرو، مگر تہذیب کے ساتھ؛ اور عمل کرو، مگر سماج کے لیے مفید بن کر۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد اور متاثرین آج مختلف میدانوں میں تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی درجنوں تصانیف اور سینکڑوں مضامین ان کی تعمیری فکر و نظر کے غماز ہیں ۔جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی ۔
ان کی شخصیت میں علمی وقار کے ساتھ انکسار اور انسان دوستی نمایاں تھی۔ منصب اور شہرت کے باوجود وہ سادہ مزاج، نرم گفتار اور شفیق انسان تھے۔ یہی اوصاف انہیں محض ایک عالم نہیں بلکہ ایک مربی بناتے تھے۔
ڈاکٹر منظور عالم کا انتقال یقیناً ایک خلا ہے، مگر ان کی فکر، ان کے ادارے اور ان کے شاگرد اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنا فکری قرض ادا کر کے گئے ہیں۔ اصل خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کے چھوڑے ہوئے چراغ کو بجھنے نہ دیا جائے اور علم، مکالمے اور اعتدال کی اس روایت کو آگے بڑھایا جائے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتِ خاص میں جگہ دے اور اہلِ علم کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟