جب شعور وجدان کی شکل اختیار کرجائے تو الہامی شاعری وجود میں آتی ہے۔ڈاکٹر سراج الدین ندوی
جب زبان کو لکھنا اور پڑھنا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ بولی بن جاتی ہے:معین شاداب
ادارہ ادب اسلامی ہند اترپردیش مغرب کے زیراہتمام شعری و ادبی نشست کا انعقاد
یونہی بھلائی کے حق میں بیان دیتے رہو
نمازی آئیں نہ آئیں اذان دیتے رہو
معین شاداب
ہم حسینی ہیں ملوکانہ اصولوں کے خلاف
اے یزیدی تری بیعت نہیں ہوگی ہم سے
ڈاکٹر خالد مبشر
اک تسلسل سے مرے سانسوں کا آناجانا
مجھ کو معبود کے ہونے کا پتادیتا ہے
انجم ہاپوڑی
سلیقے سے فضائوں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
ماہر سیوہاروی
اپنی بستی میں جہاںجائووہاں بولتاہے
لوگ کہتے ہیں کہ سناٹا کہاں بولتا ہے
ارشدندیم
ہر قدم ہم پہ نازل ہوئیں
عشق میں وحشتیں خود بخود
امیر نہٹوری
نر م لہجہ بھی محبت بھی رواداری بھی
کتنی بھرپور ہے ظالم کی اداکاری بھی
تشنہ نگینوی
کس قدر منظر حسین و خوب تر ہوجائے گا
آئینے کے روبرو آئینہ گر ہوجائے گا
دانش نورپوری
دشمنوں کے وار سے آساں ہے بچ جانا مگر
دوستوں کے وار سے کوئی بچاسکتا نہیں
ضمیر اعظمی
منتظر تھے قلب و جگر بھی کب سے سونے تھے دیوارودر بھی
آپ کیا میرے گھر آگئے ہیں،ہر طرف روشنی ہوگئی ہے
نوشاددھام پوری
ملک میں سیاست کا ایسا خوف طاری ہے
بولنے سے ڈرتے ہیں اب زبان والے بھی
ارشاد دھام پوری
اتری ہے سرکشی پہ ہوا جاگتے رہو
بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو
اشرف شیرکوٹی
میرے چہرے پہ دھول ہے لیکن
مجھ کو شیشے پہ دھول لگتی ہے
ویریندر بیتاب
بنا میک اپ کی ایک تصویر بھیجو
میں بچوں کو ڈرانا چاہتا ہوں
انور دھڑادھڑ
جو ہے بیکار دنیا میں بشر اچھا نہیں لگتا
نہ دے سایہ ثمرجو وہ شجر اچھا نہیں لگتا
محمد اسماعیل گوہر
دنیا ہے چار دن کی تو ہنس کر گزاردے
اے میرے ہم سفر تو ہمیشہ خوشی کی سوچ
راشد حمیدی
سب نے نوچے شاخ سے پھول
اپنے ہوں یا پرائے لوگ
کاظم سہنسپوری
مجھ کو منظور مجھ کو منظور ہے
بے گناہی کی جو بھی سزادو مجھے
شاہ نواز بجنوری
ان کے علاوہ سفیر صدیقی،قمر روانوی ،نزاکت روانوی ،دانش روانوی ،ذکی تائب ،خالد گوہر نے بھی اپنے کلا م سے نوازا۔

Comments
Post a Comment