رسوا ایک عبقری تخلیق کار: امراؤ جان ادا کے آئینے میں

ڈاکٹر شگفتہ یاسمین

کئی صاحب تصنیف ایسے ہیں جنہوں بے شمار کتابیں لکھیں تب بھی زمانے میں سند قبولیت نہ پاسکے اور کچھ ایسے ہیں جن کو ان کی ایک ہی تخلیق نے حیات جاودانی عطا کر دی۔ مرزا ہادی رسوا کو گزرے زمانہ ہوا لیکن ان کا شاہکار ناول ' امراؤ جان ادا ' آج بھی ان کی یاد دلانے کے لئے کافی ہے ۔ اس زمانے میں جب کہ اردو فکشن داستان سے ناول تک اپنے ارتقائی سفر کے مدارج طے کر رہا تھا رسوا نے ' امراؤ جان ادا' لکھ کر ناقدین ادب کے لیے تلاش و جستجو کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ۔ ان کا نام مرزا محمد ہادی تھا۔ شاعرتھے اور رسوا تخلص کرتے تھے ۔ 1858 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے آباء واجداد کا تعلق ایران سے تھاجو مغلیہ عہد میں ہندوستان آ ئے تھے اور پردادا نے اودھ میں سکونت اختیار کی تھی ۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی خصوصاً ریاضی کا سبق انہی سے لیا جب سولہ سال کے ہوئے تو والد کا انتقال ہو گیا۔ خاندانی جائیداد سے گزر بسر ہونے لگی۔ تعلیم کا شوق بھی تھا اور ذوق بھی لہذا فارسی ، عربی، انگریزی اور دیگر زبانوں اور علوم میں دسترس حاصل کی ۔
 صحافت سے وابستہ ہوئے دیگر ملازمتیں بھی اختیار کیں لیکن وہاں ان کا دل نہ لگا ۔ کیمیا گری کی طرف متوجہ ہوئے لیکن وہاں بھی بات نہ بنی اور لکھنؤ کے ایک اسکول میں مدرس ہوگئے ۔ اسی زمانے میں پرائیوئٹ طور پر کچھ امتحانات پاس کیے ۔1888 میں ریڈ کرسچن کالج میں درس و تدریس سے وابستہ ہوئے پھر 1901 میں حیدر آباد چلے گئے اور وہاں ملازمت اختیار کی لیکن خرابیٔ صحت کی بنا پر واپس لکھنو آ گئے ۔ 1919 میں حیدرآباد کے دارالترجمہ سے وابستہ ہوئے جہاں کئی کتابیں ترجمہ کیں نیز فلسفے کے تقابلی مطالعے پر ایک کتاب بھی لکھی۔ مرزا رسوا ایک نابغہ ٔروزگار شخص تھے جنہیں فلسفہ ، منطق ،ریاضی، طب ، مذہبیات ، کیمیا ، موسیقی ،اور نجوم کے علاوہ شاعری سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ نہایت قلیل عرصے میں انہوں چار ناول لکھے جن میں افشائے راز (1896) امراؤ جان ادا(1899) ذات شریف ( 1900)شریف زادہ (1900)اور اختری بیگم ( 1924) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی رسوا سے کئی کتابیں منسوب ہیں جن میں فن زود نویسی ، مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات ، قطبیہ مراسلات ، طلسم اسرار، خورشید بہو اور مرقع لیلیٰ مجنوں وغیرہ کچھ خاص تصنیفات ہیں۔ اس کے باوجود رسوا کی لازوال شہرت و مقبولیت کا سبب ان کا شاہکار ناول ' امراؤ جان ادا' ہے ۔ یہ ناول نہ صرف ان کی زندگی میں مقبول ہوا بلکہ بعد کے ادوار میں بھی اس ناول پر کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ کہنے کو تو یہ ایک طوائف کی کہانی خود اس کی زبانی ہے لیکن رسوا نے اس ناول میں ایک طوائف کو مرکز ومحور بنا کر ایک زوال آمادہ تہذیب کی عکاسی کی ہے ۔ اس میں امراؤ جان کا کردار اور لکھنوی تہذیب ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں ۔ امراؤ ایک تہذیب کا نمائندہ بن کر اپنی روداد بیان کرتی ہے اور ایک طوائف کے کردار کے پس منظر میں ایک عہد سانسیں لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ ناول پڑھتے وقت ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ اگر ایک مخصوص عہد کی سماجی، معاشی اور تہذیبی زندگی کی عکاسی ہی مقصود تھی تو اس کے لیے ایک طوائف کو مرکزی کردار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے اس سوال کا جواب ایک منطقی جواز کے ساتھ سامنے آتا چلا جاتا ہے اور اختتام پر قاری رسوا کے حسن انتخاب کی داد دیئے بغیر نہیں رہ پاتا ۔ اس زمانے میں جب نہ تعلیم کی روشنی عام تھی اور نہ آج کی طرح تفنن طبع کے ذرائع تھے اس وقت یہ بازار حسن دل لگی کے علاوہ تہذیب کا مرکز ہوا کرتے تھے جہاں طبقہ ٔ اشرافیہ آداب مجلس، نشست و برخاست اور مہذب گفتگو کے سلیقے و قرینے سکھانے کے لیے اپنے بچوں کو بھیجا کرتے تھے ۔ شعر وشاعری ، رقص و نغمہ، زبان کی نفاست اور شائستگی کی تربیت اور تہذیب کے ادارے یہی طوائفوں کے کوٹھے تھے اس کے علاوہ رسوا جس تہذیب کی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے تھے اس کی نمائندگی کرنے والے تمام کردار اسی کوٹھے کے ذریعے منظر نامے پر لائے جا سکتے تھے ۔ اشراف سے لے کر رذیل و کمینے ، غنڈے شہدے سب کی وہاں تک رسائی تھی بس قوت خرید درکار تھی۔ اس ناول میں ایک طرف خانم جان ، بوا حسینی ، مولوی صاحب ، بسم اللہ جان ، خورشید جان، امیر جان اور گوہر مرزا ہیں وہیں دوسری طرف دلاور خان ، پیر بخش، کریم، علی بخش، نواب سلطان ، نواب چھبن، فضل علی، فیض علی خان ، راجہ دھیان سنگھ اور اکبر علی خان جیسے کردار ہیں اور ہرایک کی اپنی کہانی اور اپنا کردار ہے اور یہ سب اپنے طرز عمل ، رویوں اور گفتگو سے ناول کے واقعات کا تانا بانا بنتے ہیں اور انہی کرداروں کے ذریعے رسوا نے لکھنوی تہذیب ،روایات اور ادنیٰ، متوسط اور اعلیٰ طبقے کے طرز زندگی کی منظرکشی بڑی مہارت اور فنکارانہ چابکدستی سے کی ہے ۔
 طوائف کا وجود ہر زمانے میں معتوب رہا ہے ۔ یہ وہ مخلوق ہے جس کے سائے سے بھی مہذب معاشرہ پناہ مانگتا ہے ۔ بازار حسن کا انتخاب جس کی منشا نہ تھا مگر مقدر بنا دیا جاتا ہے ۔
 امیرن سے امراؤ تک کے سفر میں بھی خود اس کی مرضی کہاں شامل تھی وہ تو بابل کے آنگن کی کچی کلی تھی جو وقت سے پہلے توڑ لی گئی اور دھول کا پھول بن کر رہ گئی ۔ جن آنکھوں نے ابھی خواب سجانے شروع کیے تھے زمانے کے جبر اور وقت کے ستم نے انہیں پلکوں سے چھین لیا ۔ والد کی شرافت اور ایمانداری کی سزا امیرن تمام عمر چکاتی ہے ۔قسمت بڑی چیز ہے ۔ امیرن کو کوٹھا ملا اور رام دئی کو نواب کی کوٹھی۔ معاملہ پلٹ بھی توسکتا تھا لیکن امراؤ کو مات ہوئی اور ایک بار نہیں دو بار ہوئی
 بعض ناقدین کا خیال ہے کہ امراؤ جان کا کردار مرزا رسوا کے ذہن کی اختراع ہے اور فی الواقع اس طرح کا کوئی کردار موجود نہیں تھا لیکن رسوا نے اپنی تمہیدی گفتگو کے اختتام میں یہ اعتراف کیا کہ ''امراؤ کی تقریر بہت شستہ تھی اور کیوں نہ ہوتی اول تو وہ خواندہ تھیں دوسرے اعلیٰ درجے کی طوائفوں میں پرورش پائی تھی۔ شہزادوں اور نوابوں کی صحبت اٹھائی ، شاہی محلات اور بیگمات تک رسائی تھی۔ ۔۔۔۔ اپنی سرگزشت وہ جس قدرکہتی جاتی تھیں میں ان سے چھپا کے لکھتا جاتا تھا۔ تمام ہونے کے بعد میں نے مسودہ دکھایا۔ اس پر امراؤ جان بہت بگڑیں مگر اب کیا ہوتا تھا ۔ آخر کچھ سمجھ بوجھ کے چپ ہو رہیں ۔ خود پڑھا اور جا بجا جو کچھ رہ گیا تھا اسے درست کر دیا ۔
 میں امراؤ کو اس زمانے سے جانتا ہوں جب ان کی نواب صاحب سے ملاقات تھی انہیں دنوں میری نشست بھی اکثر وہاں رہتی تھی ۔ اس سرگزشت میں جو کچھ بیاں ہوا ہے مجھے اس کے حرف بحرف صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں مگر یہ میری ذاتی رائے ہے ۔ ناظرین جو چاہے قیاس کرلیں۔'' معاملہ کچھ بھی ہو لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس ناول میں سماجی اور تہذیبی عکاسی اتنی مؤثر اور دلنشیں ہے کہ اس پر تخیل نہیں حقیقت کا گماں ہوتا ہے ۔ یہ ناول انیسویں صدی کے لکھنؤ کا نگار خانہ ہے جس میں لکھنؤ اور اودھ کے چند قصبوں کے لوگوں کے رہن سہن ،وضع قطع ، بول چال ، شعراء کے مل بیٹھنے کا طریقہ ، ادبی رحجانات ،مذہب مسلک اور عقائد پرہر پہلو سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ رسوا کی منظر نگاری کمال کی ہے ۔ امراؤ کے آبائی مکان اور ماحول کا نقشہ ہو یا بیگم کی عالیشان کوٹھی اور باغ کی منظر کشی ہو یا پھر عیش باغ کے میلے کے مناظر ایسا لگتا ہے کہ قاری خود وہاں پہنچ گیا ہے اور اپنی نظروں سے سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ عیش باغ کے میلے سے متعلق یہ اقتباس دیکھیے ۔ '' ساون کا مہینہ ہے ، سہ پہر کا وقت ہے ، پانی برس کے کھل گیا ہے ۔ چوک کے کوٹھوں اور بلند دیواروں پر جا بجا دھوپ ہے ، ابر کے ٹکرے آسمان پر ادھر ادھر آتے جاتے نظر آتے ہیں ۔ پچھم کی طرف رنگ رنگ کی شفق پھولی ہوئی ہے ۔ چوک میں سفید پوشوں کا مجمع زیادہ ہوتا جاتا ہے ۔آج زیادہ تر مجمع کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جمعہ کا دن ہے ، لوگ عیش باغ کے میلے کو جلد جلد قدم اٹھائے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میلے میں وہ بھیڑیں تھی کہ اگر تھالی پھینکو تو سر ہی سر جائے ، جا بجا کھلونے والوں ، مٹھائی والوں کی دکانیں ، خوانچہ والے ، میوہ فروش ، ہار والے ، تنبولی، ساقنین غرض جو کچھ ہوتا میلوں میں ہے سب کچھ تھا ،مجھے لوگوں کے چہرے دیکھنے کا ہمیشہ سے شوق تھا، خوش ناخوش ،مفلس ، تونگر ، بے وقوف ، عقلمند ، عالم ، جاہل ، شریف رذیل، سخی بخیل سب کا حال چہرے سے کھل جاتا ہے ۔'' اس ناول کا سب سے مضبوط پہلو کرداروں کی تحلیل نفسی ہے ۔
 نواب سلطان ، نواب چھبن ، بسم اللہ اور اس کے عاشق زار مولوی صاحب ، خورشید جان ، گوہر مرزا ، بوا حسینی ، خانم جان اور خود امراؤ جان کا کردار اپنی مثال آپ ہے ۔ خانم جان کا یہ جملہ '' بیسوا کس کی جورو ۔۔ پیسہ نہیں تو مت آئیے گا ۔'' ایک طوائف کی نفسیات کی عکاسی کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہے ۔ جذبات نگاری کا تو جواب نہیں خاص طور پر وہ مقام جب امراؤ فیض آباد میں اپنے محلے میں پہنچتی ہے اپنا گھر ، املی کا پیڑاور اپنی ماں کو دیکھتی ہے تو بے ساختہ اس کا دل بھر آتا ہے اور ستم یہ کہ آہ و فریاد کرسکے نہ اپنی بے گناہی اور مظلومیت بیان کرسکے ۔ ماں کا دل نہیں مانتا اور وہی ہمت کر کے امراؤ سے ملنے آتی ہے ۔ کان کے پیچھے کا نشان دیکھ کر جس طرح دھاڑیں مار کر روتی ہے وہ قاری کی پلکیں نمناک کیے بغیر نہیں رہتا ابتداء تا انتہاء ایک سوز ہے جو اس ناول میں زیریں لہر بن کر جاری و ساری نظر آتا ہے خواہ یہ مغلیہ تہذیب کے زوال و انتزاع کا المیہ ہو، ٹوٹتی بکھرتی قدروں کا ملال ہو ، تصنع و بناوٹ اور ظاہری نما ئش کا کھوکھلا پن ہو یا پھر عورت ذات کی بے امانی اور بے ردائی کا کرب ہو جو ازل سے اس کی ذات سے وابستہ رہا ہے ۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟