بجٹ میں نمبر گیم کا کھیل،عام آدمی کیلئے کچھ نہیں!
سلطان صدیقی
مرکزی بجٹ کو لے کر عام آدمی کے من میں کافی امیدیں تھیں کہ سرکار اس کی بڑھتی مہنگائی سے اس کی جیب میں کچھ پیسہ ڈالے گی اور اسے اشیائے ضروریہ کے دام کم ہوں گے ۔لیکن اس میں او ون مائیکروویب اور دیگر الیکٹرانک سامان اور غیر ملکی سفر وغیرہ وغیرہ میں ٹیکس کم کیا گیا ہے ۔ساتھ ہی کینسر کے علاج میں کام آنے والی 17 دواؤں پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ غیر ملکی سفر سستا ،شراب ،لگزری گھڑیاں مہنگی ہوئیں جیسا کہ امید تھی کہ بجٹ میں کوئی بڑا اعلان یا پرسنل ٹیکس میں کوئی تبدیلی ہوگی لیکن ایسا ہوا نہیں۔مرکز ی وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے بجٹ میں فسکل کنسولیڈیشن روڈ میپ کی تعمیل کی ہے اور کراس سیکٹر اصلاحات کا اعلان کیا ہے ۔مالی سال 2026-27 کے لئے پبلک کیپٹل خرچہ کو بڑھا کر 12.2لاکھ کروڑ کرنا تھا جوپچھلے سال الاٹ کئے گئے 11.2لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے ۔مرکزی وزیر سیتارمن نے اتوار کو اپنا مسلسل نواں بجٹ لوک سبھا میں جیسے ہی پیش کیا تو بھارتیہ شیئر بازاردھڑام سے گر گئے اور شیئروں کے داموں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ۔وزیر موصوفہ وعدہ اور وکلپ شیئروں پر لین دین میں اضافہ کا اعلان کیا جس سے سبھی سیکٹروں میں بکوالی شروع ہو گئی اور دوپہر 12:34بجے تک سینسکس 1649.86 گر گیا جبکہ نفٹی 50481.90 پر گرا جس سے 2483875 تک کاروبار ہورہا تھا۔ساتھ ہی عام بجٹ میں نوجوانوں کو نوکریاں اور لوکل گروتھ کے لئے ٹوجی پر فوکس کیا گیا ۔لیکن انکم ٹیکس میں چھوٹ نہیں ملنے سے درمیانہ طبقہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔اور اب اگلے مالی سال سے نیا ٹیکس نظام یکم اپریل سے نافذ ہونے جارہا ہے وہیں بھارت میں ٹورازم سیکٹر کو خاص جگہ دی گئی ہے ۔اور اس کو مضبوط کرنے کے لئے ڈولپمنٹ ،ٹیلنٹ ڈولپمنٹ ،ڈیجیٹل ڈیکومنشن اور ایکو ٹورازم پہلوؤں پر خاص دھیان دیا گیا ہے ۔وزیر موصوفہ نے ٹیکس اصلاحات کو آسان کرنے کی بھی بات کہی ہے ۔جس سے ٹیکس چوری میں کمی آئے اور آسانی سے کاروباری یا دیگر سیکٹر کے لوگ جرمانہ سے بچنے کی بجائے ٹیکس میں چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں ۔یہ قدم مقدمہ بازی کو کم کرنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے ۔اور کاپریٹ سیکٹر کے لئے غیر اعلانیہ انکم ٹیکس ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے اور 31 جولائی تک آئی ٹی ریٹرن فائل کی جاسکتی ہے ۔بجٹ میں لکھ پتی دیدی پروگرام کی کامیابی کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔جس کے تحت سرکار عورتوں کو کریڈٹ لنک گزر بسر سے انٹرپرائزمالک بننے کی مدد کرنے میں مدد کی اسکیم رکھی گئی ہے ۔
سرکار نے پیسہ جٹانے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی غرض سے کارپوریٹ اور میونسپل بانڈ بازاروں کو بڑھاوا دینے پر بھی زور دیا ہے ۔اور یہ اس لئے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی وجہ سے بھارت کی بدلتی معاشی ترجیحات کی خاطر سرکار ایک مارکیٹ میکنگ فریم ورک پیش کرکے کارپوریٹ بانڈ بازار کو مضبوط کرنے کی اسکیم بھی رکھتی ہے ۔اس کے علاوہ عام بجٹ میں ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے سات روٹ تجویز ہیں ان میں پونے ،ممبئی ،پونے ،حیدر آباد ،بنگلور وغیرہ شامل ہیں اس سے مسافروں کو خاص کر بزنس مین کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں آسانی سے سفر کی سہولت ملے گی ۔بجٹ میں بھارت کی ترقی اسکیموں کے لئے بنیادی ڈھانچہ میں بڑی سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے ۔یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ مرکزی حکومت نے بجٹ میں اے آئی پر زیادہ توجہ دی ہے ۔امید ہے جب یہ بجٹ پوری طرح عمل میں آئے گا تو اس کا صحیح اندازہ تب پتہ چلے گا کہ عام آدمی اور غریب طبقہ کو کتنا سرکار نے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے اس بجٹ کو صرف جوڑ ،جمع کا کھیل قرار دیا ہے تو وزیراعظم اور امت شاہ نے اس بجٹ کو عام آدمی والابتایا اور قصیدہ خوانی کی ہے ۔بہرحال عام آدمی کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں ہے یہ محض نمبر گیم پر مبنی ہے ۔

.jpg)
Comments
Post a Comment