مائیکرو پلاسٹکس کا عالمی بحران اور جاپانی حل
ظفر اقبال
اکیسویں صدی انسانی تاریخ کا وہ دور ہے جس میں ٹیکنالوجی، صنعت اور معیشت نے غیر معمولی ترقی کی ہے ۔ مصنوعی ذہانت سے لے کر جینیاتی انجینئرنگ تک انسان نے فطرت کے کئی رازوں کو سمجھنے اور انہیں اپنی سہولت کے لیے استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ مگر اس ترقی کی ایک قیمت بھی ہے ۔ صنعتی انقلاب کے بعد سے پیدا ہونے والی بے شمار مصنوعی اشیا میں پلاسٹک سب سے زیادہ ہمہ گیر اور اثرانداز ایجاد ثابت ہوئی ہے ۔
پلاسٹک نے انسانی زندگی کو آسان بنایا، اشیاء کو محفوظ رکھا، خوراک کو دیرپا کیا، طبّی شعبے میں انقلابی سہولتیں فراہم کیں اور صنعتوں کو کم لاگت اور زیادہ پیداوار کے قابل بنایا۔ مگر آج یہی پلاسٹک ماحولیاتی بحران کی علامت بن چکا ہے ۔
پلاسٹک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی پائیداری ہے اور یہی خصوصیت اب ایک خطرناک خامی میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ روایتی پلاسٹک قدرتی طور پر گلنے سڑنے میں 20 سے 500 سال تک لے سکتا ہے ۔ اس دوران یہ ٹوٹتا، بکھرتا اور چھوٹے ذرات میں تقسیم ہوتا رہتا ہے ، جنہیں ہم مائیکرو پلاسٹکس کہتے ہیں۔
یہ مائیکرو پلاسٹکس اب ہماری خوراک، پانی، مٹی اور حتیٰ کہ فضا میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق صرف 2020 میں تقریباً 2.7 ملین ٹن مائیکرو پلاسٹکس ماحول میں شامل ہوئے اور اندازہ ہے کہ 2040 تک یہ مقدار دوگنی ہو سکتی ہے ۔اسی بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں جاپان کے سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت کی ہے ۔ RIKEN Center for Emergent Matter Science اور The University of Tokyo کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک ایسا پودوں پر مبنی پلاسٹک تیار کیا ہے جو عام استعمال میں مضبوط رہتا ہے ، مگر نمکین پانی میں چند گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر تحلیل ہو جاتا ہے ۔ یہ تحقیق ممتاز سائنسی جریدے Journal of the American Chemical Society میں شائع ہوئی۔
پلاسٹک کی صنعتی پیداوار بیسویں صدی کے وسط میں تیزی سے بڑھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ہلکا وزن، مضبوط ساخت، پانی سے مزاحمت اور کم قیمت نے اسے ہر شعبے میں مقبول بنا دیا۔
آج پلاسٹک کے بغیر زندگی کا تصور تقریباً ناممکن ہے ۔ خوراک کی پیکجنگ، بوتلیں، تھیلیاں، طبی آلات، سرنج، خون کی تھیلیاں، گاڑیوں کے پرزے ، موبائل فون، کمپیوٹر، زرعی فلم، حتیٰ کہ خلائی مشنز میں بھی پلاسٹک استعمال ہو رہا ہے ۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب پلاسٹک کی پیداوار اس رفتار سے بڑھنے لگی جس کا متوازن انتظام نہیں کیا گیا۔ ری سائیکلنگ کا نظام محدود رہا اور بڑی مقدار میں پلاسٹک کچرا زمین اور سمندروں میں جمع ہونے لگا۔
ہر سال تقریباً آٹھ ملین ٹن پلاسٹک کچرا سمندروں میں داخل ہوتا ہے ۔ دریا، بارش کا پانی اور نکاسی آب کے نظام اسے شہروں سے ساحلوں تک لے جاتے ہیں۔ وہاں سے یہ سمندری لہروں اور دھاروں کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے ۔
مائیکرو پلاسٹکس وہ پلاسٹک ذرات ہیں جن کا سائز پانچ ملی میٹر سے کم ہوتا ہے ۔ انہیں دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے :
1۔ پرائمری مائیکرو پلاسٹکس: یہ براہِ راست چھوٹے سائز میں تیار کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کاسمیٹکس میں شامل مائیکرو بیڈز، صنعتی صفائی میں استعمال ہونے والے ذرات، اور مصنوعی کپڑوں کے باریک ریشے ۔
2۔ سیکنڈری مائیکرو پلاسٹکس:یہ بڑے پلاسٹک مواد کے ٹوٹنے ، گھسنے اور سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثر سے بنتے ہیں۔
وقت کے ساتھ پلاسٹک کی اشیاء جیسے بوتلیں، تھیلیاں اور فشنگ نیٹس چھوٹے ذرات میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یہ ذرات سمندروں، دریاؤں، جھیلوں، مٹی اور حتیٰ کہ ہوا میں بھی موجود ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس قطبین کی برف، پہاڑی علاقوں اور دور دراز جزیروں تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسئلہ عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے ۔مائیکرو پلاسٹکس کا سب سے تشویشناک پہلو ان کا خوراکی زنجیر میں داخل ہونا ہے ۔
سمندری جاندار - مثلاً پلانکٹن، مچھلیاں، جھینگے اور سیپ - انہیں خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں۔ چونکہ یہ ذرات جسم میں تحلیل نہیں ہوتے ، اس لیے یہ معدے میں جمع ہو جاتے ہیں۔ان جانداروں کو بڑی مچھلیاں کھاتی ہیں اور بالآخر یہ سلسلہ انسان تک پہنچتا ہے ۔
تحقیقی مطالعات میں مائیکرو پلاسٹکس درج ذیل اشیاء میں پائے گئے ہیں: سمندری مچھلی، جھینگے ، سمندری نمک، بوتل بند پانی، نلکے کا پانی، شہد، دودھ وغیرہ۔
بعض مطالعات کے مطابق انسانی خون اور پھیپھڑوں میں بھی مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی سامنے آئی ہے ۔
گرچہ اس موضوع پر طویل مدتی تحقیق ابھی جاری ہے ، مگر ابتدائی نتائج کئی خدشات کو جنم دیتے ہیں:1۔سوزش اور مدافعتی ردعمل،غیر ملکی ذرات جسم میں داخل ہونے پر مدافعتی نظام کو متحرک کرتے ہیں، جس سے سوزش پیدا ہو سکتی ہے ۔2۔ ہارمونل نظام میں خلل:پلاسٹک میں شامل بعض کیمیائی مادے جیسے بیسفینول اے (بی پی اے ) اور فتھالیٹس اینڈوکرائن نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔3۔ خلیاتی نقصان:مائیکرو پلاسٹکس آکسیڈیٹو اسٹریس پیدا کر کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔4۔ ممکنہ سرطان کے امکانات: کچھ کیمیائی اجزاء سرطان کے خطرے سے منسلک کیے گئے ہیں، اگرچہ مزید تحقیق ضروری ہے ۔
سمندری حیات پلاسٹک آلودگی کا سب سے بڑا شکار ہے ۔ کچھی پلاسٹک بیگز کو جیلی فش سمجھ کر نگل لیتی ہیں۔ سمندری پرندے بوتلوں کے ڈھکن اور رنگین ٹکڑوں کو خوراک سمجھ لیتے ہیں۔ وہیل مچھلیوں کے معدے سے کلو گرام کے حساب سے پلاسٹک برآمد ہوا ہے ۔مائیکرو پلاسٹکس غذائی قلت، تولیدی مسائل اور شرحِ اموات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
پلاسٹک بحران کے حل کے لیے بایوڈیگریڈیبل پلاسٹک متعارف کرائے گئے ، مگر ان میں کئی مسائل ہیں: اکثر صنعتی کمپوسٹنگ کی مخصوص شرائط میں ہی تحلیل ہوتے ہیں۔ سمندری پانی میں مکمل تحلیل نہیں ہوتے ۔مہنگے اور محدود پیمانے پر دستیاب ہیں۔اسی تناظر میں جاپانی سائنس دانوں کی نئی ایجاد اہمیت رکھتی ہے ۔
جاپان میں RIKEN Center for Emergent Matter Science اور The University of Tokyo کے سائنس دانوں نے لکڑی سے حاصل کردہ سیلولوز اور نمک کے مرکبات کو ملا کر ایک نیا پلاسٹک تیار کیا۔یہ تحقیق Journal of the American Chemical Society میں شائع ہوئی۔
ٹیم کے سربراہ تاکوزو آئیدا کے مطابق یہ مواد عام استعمال میں مضبوط اور لچکدار رہتا ہے ، مگر نمکین پانی میں اس کے کیمیائی بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ چند گھنٹوں میں مکمل تحلیل ہو جاتا ہے ۔ لیبارٹری تجربات میں یہ تقریباً ایک گھنٹے میں تحلیل ہو گیا۔
یہ نیا پلاسٹک سیلولوز پر مبنی ہے ، جو قدرتی طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔ اندازاً سالانہ تقریباً 100 ارب ٹن سیلولوز پیدا ہوتا ہے ۔اس میں شامل کولین کلورائیڈ اسے مضبوطی اور لچک فراہم کرتا ہے ۔ نمکین پانی میں موجود آئنز اس کے مالیکیولی بندھنوں کو توڑ دیتے ہیں، جس سے یہ محفوظ اجزاء میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مائیکرو پلاسٹکس باقی نہیں رہتے ۔
یہ ٹیکنالوجی درج ذیل شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے : خوراک کی پیکجنگ، ماہی گیری کے جال، سنگل یوز اشیاء زرعی فلم۔اگرچہ یہ ایجاد امید افزا ہے ، مگر بڑے پیمانے پر پیداوار، لاگت، صنعتی آزمائش اور پالیسی منظوری جیسے چیلنجز باقی ہیں۔
مائیکرو پلاسٹکس کا بحران عالمی سطح پر ایک سنجیدہ حقیقت ہے ۔ جاپانی سائنس دانوں کی یہ نئی ایجاد اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ اگر اسے صنعتی سطح پر کامیابی سے نافذ کیا گیا تو یہ پلاسٹک آلودگی کے خلاف عالمی جدوجہد میں سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے ۔
پائیدار مستقبل کی جانب پیش رفت صرف سائنسی ایجادات سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، ذمہ دارانہ استعمال اور مؤثر پالیسی سازی سے ممکن ہے ۔ یہ نیا پلاسٹک امید کی ایک کرن ہے ۔مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب انسان اپنی عادات اور ترجیحات میں بھی تبدیلی لائے گا۔

Comments
Post a Comment