پروفیسر فاروق احمد صدیقی علم و ادب کا ایک روشن مینار

محمد رفیع 

روحانی و رومانی آمیزش کا خمیر، جنہوں نے اللہ، اللہ کے رسول کی اطاعت، ان کے احکامات کی پیروی اور ادبی خدمات کو نصب العین بنا لیا ہو وہ کوئی اور نہیں بی آر اے بہار یونیورسٹی، مظفر پور کے سابق صدر شعبہ اردو، ماہر تعلیم، اعلی درجے کے ناقد و محقق پروفیسر (ڈاکٹر) فاروق احمد صدیقی ہیں۔ مذکورہ بالا نعتیہ شعر آپ ہی کے نعتیہ کلام سے ماخوذ ہے، جسے میں نے آپ کی غزلوں کے مجموعہ " کرب آگہی" سے لیا ہے۔ آپ کی تخلیق بہت ہی پر تکلف ہوتی ہے۔ آپ محقق اور ناقد کے ساتھ ہی ایک بہترین مقالہ نگار ہیں۔ آپ کی ذاتی زندگی میں روحانیت پیوست ہے۔ وجہ کہ آپ عالم دین بھی ہیں۔ قوم و ملت کی آپ وراثت ہیں۔‌ بہار کے مظفر پور کی سرزمین کو بھی آپ جیسی بے مثال شخصیت پر فخر و ناز ہوگا ہی کہ آپ نے ہمیشہ اپنے اعلی خیالات کا مظاہرہ کیا ہے اور جب کبھی بھی قوم کی بات ہوئی ہے آپ نے تمام تفریق کو بالائے طاق رکھا ہے اور پوری دل جمعی کے ساتھ میدان میں کود پڑے ہیں، چاہے شاہ بانو کیس کا معاملہ ہو، این آر سی یا پھر وقف بل کا مسئلہ کبھی بھی آپ نے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ 

آپ کی اعلی ذات، آپ کی شخصیت، آپ کی قابلیت ، آپ کی تخلیقی، تحریری، تعلیمی اور دینی خدمات کے متعلق استاد پروفیسر (ڈاکٹر) نجم الہدیٰ سابق صدر شعبہ اردو بی آر اے بہار یونیورسٹی نے " مقدمہ کتاب  تفہیم و تجزیہ " میں لکھا ہے " پروفیسر فاروق احمد صدیقی اپنی تحریروں کی کثرت اور نوعیت کے آئینے میں محقق سے زیادہ بڑے ناقد نظر آتے ہیں۔ انہوں نے فاروق صاحب کے نقطۂ نظر، اخلاقیات، روحانیات و اسلوبیات پر مختصر میں بہت ہی جامع بات کہہ دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ " فاروق صاحب کا نقطۂ نظر مثبت، تعمیری اور صحت مند ہوتا ہے۔ اخلاقیات اور عقائد پر ان کے نگارشات بنیاد ہے۔ عنوانات میں تنوع ہے، اس کے باوجود فکر کی اصابت اور عقیدے کی استقامت سے سر مو انحراف کہیں نہیں پایا جاتا۔ ان کے مزاج میں جو دینداری ہے، اس کا پاس و لحاظ ہر جگہ ملتا ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ وابستگی ہر مومن دانشوروں کا حقیقی سرمایہ ہے اور فاروق صاحب بحمداللہ اس سے کہیں دست بردار نہیں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ وہ بعض مشاہیر اور بزرگان ادب سے بھی اختلاف کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے۔ اس بنا پر ہم ان میں میانہ روی، اعتدال پسندی، نرم لہجے اور اسلوب میں تواجہ و انکساری کا رجحان دیکھنے کے باوجود ان کی حق گوئی اور بے باک نگاری سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہی حال ان کا تسامحات اور اصولی لغزش کی گرفت کے باب میں ہے۔ ویسے عمومی روش کے اعتبار سے فاروق صاحب سخت گیر کی بجائے روادار نظر آتے ہیں، لیکن عقائد اور اخلاقیات کے باب میں وہ سمجھوتہ نہیں کرتے اور یہ ایمان کی پختگی کی دلیل ہے۔ فاروق صاحب صرف پروفیسر نہیں، عالم دین بھی ہیں اور وہ بھی متجر۔

ہندوستان کے نامور کالم نگار، جنونی کیفیت میں اردو زبان کی محبت میں مبتلا تجزیہ نگار، ماہر فن انوار الحسن وسطوی سے جب بھی گفتگو ہوئی انہوں نے پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی اعلی ترین شخصیت کی شان میں چند کلمات ضرور کہے۔ جناب وسطوی نے ڈاکٹر غلام جابر شمس پورنوی کی مرتب کردہ کتاب " پروفیسر فاروق احمد صدیقی شخصیت اور فن " میں ایک مضمون " تو مجھے اپنا کہے، میں کہوں اپنا تجھے " میں لکھا ہے " پروفیسر صدیقی بحیثیت معلم، ادیب، ناقد، محقق، مبصر، قلمکار، شاعر اور خطیب پورے ملک میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ " جناب وسطوی ان کی شعری محفلوں کے بارے میں ذکر کرتے ہیں کہ " جب وہ مشاعروں میں ترنم ریز ہوتے ہیں، تو محفل پر چھا جاتے ہیں۔ ان کی نثر شگفتہ، شستہ اور صحت زبان کی تمام خوبیوں سے مزین ہوتی ہے۔ عالم ہونے کے سبب عربی اور فارسی زبان پر انہیں دسترس حاصل ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی زبان نہایت شگفتہ اور معیاری ہے۔ اقبالیات کے دلدادہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی کو اللہ نے لکھنے کی بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ موصوف فطرتاً نہایت فراخ دل اور کشادہ قلب واقع ہوئے ہیں۔

پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی شخصیت کا تجربہ میں نے دو طریقے سے کیا ہے۔ ایک یہ کہ ان کی ذاتی زندگی کا جب میں مشاہدہ کرتا ہوں تو یہ پاتا ہوں کہ آپ باوقار، باکمال، بااعتماد، معتبر، محترم، منور، مجسم، مبصر، مکبر، متحرک اور سرگرم ادبی مینار ہیں۔ آپ کی زندگی اہل علم، اہل دین، اہل ادب اور اہل قلم کے لئے نمونہ ہے۔ حالانکہ آپ گوہر بھی ہیں، جلوۂ سرخاب بھی ہیں، پردہ مہراب بھی ہیں اور خوشبوئے گلاب بھی ہیں۔ لیکن میں نے اس کا انکار اس لئے کیا کہ آپ کی شخصیت، آپ کی صلاحیت، آپ کا کردار، آپ کا اخلاق اور آپ کا مزاج ان سب سے اعلی، افضل، بلند و برتر ہے۔دراصل میں نے ان چار سطور میں آپ کی ادبی اور مذہبی شناخت کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ آگے میں نے آپ کی صلاحیت، آپ کی ذات و صفات کا کچھ یوں ذکر کیا ہے۔قدرت کی وہ تمام خوبیاں جو آپ کی شکل میں رونما ہو چکی ہیں اس کے لئے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور یہ کہنے کو مجبور ہوں۔

دوسری جانب میں نے آپ کی غزلوں کا مجموعہ کرب آگہی ،  تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ  عرفان و آگہی ، تنقیدی مقالات کا مجموعہ  تفہیم و تجزیہ، علمی ادبی و مذہبی مضامین کا مجموعہ  مقالات فاروقی  اور اخبارات و رسایل میں شائع ہو رہے مضامین کا مطالعہ کیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے ڈاکٹر غلام جابر شمس پورنوی کی مرتب کردہ کتاب  پروفیسر فاروق احمد صدیقی شخصیت اور فن  کا بھی مطالعہ کیا جس میں آپ کی شخصیت، خصوصیات اور گراں قدر خدمات کے متعلق درجنوں مصنفین اور مبصرین کی حقیقت پر مبنی آرا سے واقفیت حاصل ہوئی تو اندازہ ہوا کہ آپ کی شخصیت ایک عہد ساز شخصیت ہے۔ آپ بہار ہی نہیں ہندوستان کے چند بڑے ناموں کی فہرست کی آخری کڑی معلوم ہوتے ہیں کہ باحیات ہیں، اور آپ کی سرگرمیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ تاحیات آپ لکھتے رہیں گے، محفلوں کی زینت بنتے رہیں گے۔ آپ کے اندر بے پناہ صلاحیتیں سمٹ گئی ہیں۔ آپ کی جوہر شناس و پارکھی نظر، حکیمانہ انداز بیان ہی وہ شئے جس کے ہم سبھی قائل ہیں۔ " عرفان و آگہی" کتاب کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ پانچواں تنقیدی مجموعہ ہے۔‌ اس سے قبل  افہام و تفہیم  اور  تفہیم و تجزیہ،  مقالات فاروقی ،  احساس و ادراک وغیرہ شامل ہیں۔‌ تفہیم و تجزیہ اتنا مقبول ہوا کہ اس کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر لانے کو آپ مجبور ہوئے۔  عرفان آگہی میں ہی آپ کا تاریخی مضمون شمالی بہار میں اردو تحریک ایک جائزہ  شامل ہے۔ اس میں آپ نے غلام سرور اور ان کے رفقاء کے گراں قدر خدمات کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے 3، 4  دسمبر 1960 میں ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی کے ذریعہ منعقد شاندار کل ہند کانفرنس کا بھی ذکر کیا ہے، آپ نے لکھا ہے کہ " ڈاکٹر اعجازی کے ذریعہ منعقدہ کانفرنس کی انتہائی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے غلام سرور کے اخبار  سنگم  پٹنہ نے بھی " شاباش حامیان اردو " کے زیر عنوان اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آپ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ 1973 میں جب عبدالغفور صاحب نے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا تھا، جے پی تحریک کا پھیلاؤ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ اسی سال مظفر پور میں حقوق اردو کے لئے زبردست عوامی احتجاج ہوا۔ پٹنہ سے بھی غلام سرور، پروفیسر مغنی، سید شاہ مشتاق احمد اور بیتاب صدیقی وفد کی شکل میں آئے تھے اور مظفر پور کے محبان اردو خصوصی طور پر پروفیسر قمر اعظم ہاشمی، اصغر اعجازی، عبدالقیوم لال گنجوی، نور عالم خان، احمد حسن، جمیل احمد ایڈوکیٹ وغیرہ سرگرم تھے‌۔ آپ نے پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کے حوالے سے ہی مدھوبنی کانفرنس کے سفر کا بھی ذکر کیا ہے جس دوران ان کی گاڑی راستے میں ہی حادثہ کا شکار ہو گئی تھی‌ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ شمالی بہار میں اردو تحریک ہمیشہ متحرک اور فعال رہی ہے اور اس کا مرکزی دفتر ہمیشہ مظفر پور میں ہی رہا۔ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ پروفیسر ہاشمی کے بعد تحریک سرد پڑ گئی اور ان کی جگہ لینے والا کوئی منظر عام پر نہیں آیا۔ اس سے آپ کافی مضطرب معلوم ہوتے ہیں اور بارگاہ خداوندی میں آپ نے عرضی لگاتے ہوئے کہا 

 مرد ے از غیب آید کارے کند 

آپ کی دعا اللہ نے سن لی اور سال 2025 میں پٹنہ کی سرزمین سے سالار اردو غلام سرور کے یومِ پیدائش و یومِ اردو کے موقع سے ایک تحریک " تحفظ اردو زبان و ادب" کی شروعات بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ ہوئی۔ جس کے گواہ بہار کے نامور شخصیات بنے۔ اس موقع پر  میرے مضامین کا مجموعہ کتاب "صد برگ" جسے مولانا تاج الدین قاسمی نے مرتب کیا ہے کا اجراء بھی ہوا۔ یہ تحریک ریاستی سطح پر جاری ہے جس کا مرکز مظفر پور ہی ہے جہاں کبھی مغفور احمد اعجازی و پروفیسر قمر اعظم ہاشمی نے اردو تحریک کی مشعل جلائی تھی۔ تحریک کا کارواں بڑی شان و شوکت کے ساتھ پٹنہ سے نکل کر ویشالی، سمستی پور، دربھنگہ، مدھوبنی، سیتا مڑھی، مظفر پور، شیوہر، گوپال گنج اور سیوان وغیرہ اضلاع کا دورہ سابق چیئرمین بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ جناب عبدالسلام انصاری کی رہنمائی میں کیا۔ اس تحریک کی معاونت چانسلر الکریم یونیورسٹی و سابق ایم پی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم، سابق چیئرمین بہار پبلک سروس کمیشن امتیاز احمد کریمی، چیئرمین سنی وقف بورڈ پٹنہ الحاج محمد ارشاد اللہ، مدیر اعلی روز نامہ قومی تنظیم جناب ایس ایم اشرف فرید وغیرہ کر رہے ہیں۔ جناب اشرف فرید صرف معاونت ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ قومی اساتذہ تنظیم بہار کے سرپرست ہونے کی وجہ سے وہ اس تحریک کے سرپرست بھی ہیں۔ کیونکہ تحریک تحفظ اردو زبان و ادب کا قیام قومی اساتذہ تنظیم بہار کے بینر تلے ہی ہوا ہے۔ قومی اساتذہ تنظیم بہار کا مرکز، اور اس کے اعلی عہدیداران مظفر پور سے ہی ہیں۔ اس تحریک کا بانی، قائم کرنے والا کوئی اور نہیں آپ کا عزیز راقم السطور ہے جو مظفر پور کا مقامی باشندہ ہے۔ 

 مقالات فاروقی جو علمی، ادبی و مذہبی مضامین کا مجموعہ ہے میں آپ کے وہ تمام مضامین و مقالات شامل ہیں جسے آپ نے یا تو سیمیناروں کے لئے لکھے ہیں یا مختلف مدیران رسایل کی فرمائش پر معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ اس کتاب میں زیادہ تر مضامین توحید، سیرت اور رسالت کے موضوع پر ہے۔ آپ نے پیش لفظ میں لکھا ہے " نقل نے اصل کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور باطل اپنی حقانیت کا ڈھول پیٹ رہا ہے۔ اس لئے ان تحریروں کو زیر قلم لاتے وقت اس امر کی شعوری کوشش کی گئی ہے کہ وہ عقیدہ و مسلک جو عہد صحابہ سے لے کر آج تک متوارث طور پر اور متواتر آرہا ہے اور ملت بیضا کا سواد اعظم جس پر سختی سے عمل پیرا اور کار بند ہے اور ارشاد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ما انا علیہ و اصحابی کا امین و علم بردار ہے۔ اسے بلا کم و کاست پیش کیا جائے۔ چناچہ ان تحریروں کا مطالعہ کرتے وقت آپ محسوس کریں گے کہ ان پر علمائے سلف اور اخیار ملت کے افکار و معتقدات کی مہر توثیق لگی ہوئی ہے۔" حسب معلومات آپ نے تنقیدی مقالات کا مجموعہ " تفہیم و تجزیہ" کا آغاز اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پڑھے جانے والے نعت اور اس کے آداب کی تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ نعت کو آپ نے شاعری کی سخت ترین راہ قرار دیا ہے۔ آپ نے نعت گوئی کو تمام اصناف سخن میں سب سے مشکل صنف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تیز تلوار کی دھار پر قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ 

بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات 

عبارت کیا اشارت کیا  ادا کیا 

یہ شعر آپ نے" غالب کی انا " مضمون میں لکھا ہے۔  آپ لکھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے اپنے محبوب کے جلوۂ صد رنگ سے متاثر ہو کر یہ شعر کہا ہو، لیکن واقع یہ ہے کہ شعر اپنی پوری معنویت کے ساتھ جتنا خود ان کی ذات پر منطبق ہوتا ہے کسی اور کی شخصیت پر نہیں۔ آپ غالب کی عظیم فنکارانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس امر سے کون کافر ادب انکار کر سکتا ہے کہ غالب نے اپنی غزلوں کے ذریعہ اردو شاعری کو جو وقار، رچاؤ اور اعتبار نظر بخشا وہ کیفیت اور کمیت ہر دو اعتبار سے ایک عظیم ورثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی 

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں 

شاعر مشرق سر علامہ اقبال کی کتاب " بانگ درا " سے منتخب اس شعر کے ذریعہ میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ نے بہت لمبا ادبی سفر مکمل کیا ہے لیکن ایک ذرہ برابر بھی آپ اپنے فرائض سے منحرف نہیں ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنے ایمان کی حفاظت بڑی پختگی کے ساتھ کی ہے اور رومانیت کو تصوف پر غالب نہیں ہونے دیا ہے۔ تمام مطبوعہ کتابوں کا آغاز اور اختتام آپ نے اللہ اور اللہ کے برگزیدہ رسول و پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سے کی ہے۔ 

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟