انڈمان و نکوبار جزائر میں ترقی، حکمتِ عملی اور ماحولیات
ڈاکٹر سدھیر کمار شکلا
ہندوستان کے چند ہی خطے ایسے ہیں جہاں ترقی، قومی سلامتی اور ماحولیاتی تحفظ کے پیچیدہ باہمی تعلقات اتنی واضح نظر آتے ہیں جتنے انڈمان و نکوبار جزائر میں۔ خلیج بنگال میں 800 کلومیٹر سے زیادہ پھیلا ہوا اور انڈونیشیا سے بمشکل 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ جزیرہ نما دنیا کے کچھ مصروف ترین سمندری گزرگاہوں کے قریب واقع ہے ، جس میں آبنائے ملاکا سے جڑے راستے بھی شامل ہیں، جس کے ذریعے عالمی تجارت اور توانائی کا ایک اہم حصہ گزرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ جزائر ہندوستان کی بدلتی ہوئی انڈو پیسفک حکمتِ عملی کے مرکز میں آ گئے ہیں۔اسی کے ساتھ یہ ملک کے سب سے زیادہ ماحولیاتی طور پر نازک خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں گھنے بارانی جنگلات، مینگرووز، مرجان (کورل) کی چٹانیں اور وہ مقامی قبائل آباد ہیں جو ہزاروں برس سے نسبتاً تنہائی میں زندگی گزار رہے ہیں۔حکومت کی بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، خصوصاً گریٹ نکوبار آئی لینڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، نے اسی لیے شدید بحث کو جنم دیا ہے ۔اصل سوال یہ نہیں کہ ترقی یا سلامتی ضروری ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسٹریٹجک مقاصد کو ماحولیات اور سماجی انصاف کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اسٹریٹجک نقطئہ نظر سے ان جزائر کی اہمیت مسلم ہے ۔ انڈمان و نکوبار کمانڈ - جو ہندوستان کی واحد تینوں افواج پر مشتمل کمانڈ ہے - سمندری نگرانی، انسانی امداد، آفات سے نمٹنے اور علاقائی دفاع میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔انڈو پیسفک میں جغرافیائی مقابلہ بڑھنے کے ساتھ خصوصاً چین کی بحری سرگرمیوں میں اضافے کے پس منظر میں ان جزائر میں لاجسٹکس، رابطہ کاری اور آپریشنل تیاری کو مضبوط بنانا قومی ترجیح بن چکا ہے ۔گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹرانس شپمنٹ پورٹ، بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور نیا ٹاؤن شپ ہندوستان کی سمندری موجودگی کو بڑھائیں گے ، غیر ملکی بندرگاہوں پر انحصار کم کریں گے اور جزائر کو مرکزی دھارے کی معیشت سے جوڑیں گے ۔عالمی تناظر میں جہاں بنیادی ڈھانچہ اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے ، یہ دلائل وزن رکھتے ہیں۔ لیکن صرف اسٹریٹجک ضرورت ہی ترقی کے پیمانے یا شکل کا تعین نہیں کر سکتی، خصوصاً ایسے ماحولیاتی طور پر حساس جزائر میں۔انڈمان و نکوبار جزائر عالمی حیاتیاتی تنوع کے ہاٹ اسپاٹ کا حصہ ہیں، جہاں 1100 سے زیادہ مقامی انواع پائی جاتی ہیں۔ گریٹ نکوبار میں وسیع قدیم جنگلات، مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام موجود ہیں جو سمندری طوفانوں، لہروں اور کٹاؤ کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے لیے 130 مربع کلومیٹر سے زیادہ جنگلاتی زمین کو کاٹا جائے گا اور تقریباً دس لاکھ درخت گرائے جائیں گے ۔ایسے جنگلاتی نقصان کے دور رس اثرات ہوتے ہیں۔ استوائی جزائر کے جنگلات بڑے کاربن سنک ہوتے ہیں، اور ان کی تباہی ہندوستان کے ماحولیاتی وعدوں کو کمزور کرتی ہے اور مقامی آبادی کو شدید موسمی خطرات کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے ۔ معاوضے کے طور پر کیے جانے والے شجرکاری پروگرام صدیوں پر محیط قدرتی جنگلات کے ماحولیاتی کردار کی جگہ نہیں لے سکتے ۔بحری ماحولیاتی نظام بھی خطرے میں ہیں۔ بندرگاہ کی تعمیر، ڈریجنگ اور بحری ٹریفک میں اضافے سے مرجان، سی گراس اور نایاب دیوہیکل لیذر بیک کچھوے کی اہم افزائش گاہیں - خصوصاً گلاٹیا بے - متاثر ہوں گی۔سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ مرجان کی منتقلی یا مصنوعی ریف جیسے اقدامات بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے میں شاذونادر ہی کامیاب ہوتے ہیں۔جزائر کی ترقی کو آفات کے خطرے کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے ۔ انڈمان و نکوبار جزائر زلزلہ خیز زون V میں آتے ہیں، جو سب سے زیادہ خطرے کی درجہ بندی ہے ۔2004 کے زلزلے اور سونامی نے گریٹ نکوبار کے ساحلوں کو مستقل طور پر بدل دیا اور کچھ حصے سمندر میں ڈوب گئے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی عمل کس طرح بڑے انفراسٹرکچر کو لمحوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔مرکزی نوعیت کے بڑے شہری و صنعتی منصوبے قدرتی حفاظتی نظام - جیسے مینگرووز اور ساحلی جنگلات - کو ہٹا کر خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے جزائر کا تجربہ بتاتا ہے کہ بکھرا ہوا (decentralised) انفراسٹرکچر، ماحولیاتی بحالی اور لچکدار زمینی منصوبہ بندی طویل مدتی تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر ہیں۔یہ جزائر انتہائی کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) - جیسے شومپن اور نکوباری - کا گھر ہیں، جن کی زندگی جنگلات اور ساحلی ماحول پر منحصر ہے ۔ گریٹ نکوبار میں بڑے پیمانے پر بیرونی آبادی کی آمد سے آبادیاتی عدم توازن، ثقافتی زوال اور حاشیہ نشینی کا خطرہ ہے ۔ آئینِ ہند اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 جنگلاتی برادریوں کے حقوق اور ان کی باخبر رضامندی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان تحفظات کو کمزور کرنا نہ صرف اخلاقی و قانونی مسائل پیدا کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ، کیونکہ مقامی قبائل صدیوں سے ان ماحولیات کے محافظ رہے ہیں۔اصل پالیسی چیلنج یہ سمجھنے میں ہے کہ ماحولیاتی تباہی بذاتِ خود ایک اسٹریٹجک کمزوری ہے ۔ تباہ شدہ مرجان، کٹے ہوئے ساحل، میٹھے پانی کی قلت اور سماجی عدم استحکام وہی سلامتی کمزور کرتے ہیں جنہیں مضبوط کرنے کے لیے انفراسٹرکچر بنایا جاتا ہے ۔دنیا کے کئی اسٹریٹجک جزائر نے کم اثرات والے ترقیاتی ماڈل اپنائے ہیں، جن میں چھوٹے پیمانے کا انفراسٹرکچر، قابلِ تجدید توانائی، سخت زمینی ضابطے اور آبادی پر کنٹرول شامل ہیں۔ہندوستان کو انڈمان و نکوبار کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو مسترد نہیں بلکہ متوازن کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسٹریٹجک انفراسٹرکچر ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے ، بشرطیکہ اسے احتیاط، سائنسی حقیقت پسندی اور جمہوری شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے - جن میں شفاف ماحولیاتی جائزے ، آزاد سائنسی جانچ اور حقیقی کمیونٹی شمولیت بنیادی شرائط ہیں۔بالآخر، یہ جزائر ہندوستان کی اس صلاحیت کا امتحان ہیں کہ وہ ماحولیاتی حدود اور موسمی خطرات کے دور میں کس طرح اسٹریٹجک حکمرانی کرتا ہے - اصل انتخاب سلامتی اور پائیداری کے درمیان نہیں، بلکہ قلیل مدتی طاقت کے اظہار اور طویل مدتی قومی لچک کے درمیان ہے ۔

Comments
Post a Comment