ہوائی سفر پر گرتا بھروسہ!

سلطان صدیقی

طیارہ حادثہ میں پائلٹ سوراج دیپ کی موت سے ان کا پریوار ابھی تک صدمہ سے نہیں نکل سکا۔انہوں نے بیٹے کے لئے بہت سے خواب دیکھے تھے ان میں اس کی شادی بھی شامل تھی ۔لیکن تین ماہ بیٹا اور 20 ماہ پہلے ہوئی شادی کے بعد بنا چھوٹا پریوار بکھر گیا ۔حادثہ سے کچھ گھنٹے پہلے انہوں نے گھر پر فون کر رانچی سے دہلی کی اڑان کی جانکاری دی تھی کہا تھا کہ لینڈنگ کے بعد وہ دوبارہ بات کرے گا لیکن ہوائی حادثہ کی خبریں ٹی وی پر جیسے ہی چلیں اور جہاز کمپنی کی جانب سے بذریعہ ای میل طیارہ حادثہ کی موت کی تصدیق نے پورے گھر میں کہرام مچا دیا ۔اس وقت سب سے بڑا سوال ہے کہ اڑتے جہاز تابوت میں کیوں بدل رہے ہیں۔ اب جھارکھنڈ کے چترا میں ایئر ایمبولینس کریش میں 7 لوگوں کی جان چلی گئی ۔چاہے مسافر طیارہ ہو یا پرائیویٹ جیٹ ہو یا پھر ایئر ایمبولینس ہو لیکن دردناک خاتمہ ایک جیسا ہی ہے ۔جن میں یہ سوال پیدا ضرورہوتا ہے کہ کیا ہوائی سفر کی راہ بہت خطرے بھری ہے یاپھر کمپنیوں کا سیکورٹی کمی سے سمجھوتہ کرنا ایسے حادثوں کی بڑی وجہ بنتا ہے آخر اس کریش کے پیچھے چونکانے والی سچائی کیا ہے اس کا پتہ چلنا چاہیے ۔تازہ حادثہ میں ایئر ایمبولینس مریض کو علاج کے لئے لے جارہی تھی اس حادثہ میں مریض تو گیا ہی سات لوگ اور چلے گئے۔تفتیش سے پتہ چلا موسم کی خرابی کی وجہ سے ایئر ایمبولینس اپنا راستہ بدلنے کی کوشش کررہی تھی مگر تھوڑی دیر بعد یہ ایمبولینس راڈار سے غائب ہو گئی اور کچھ وقفہ کے بعد جانچ پڑتال ہوئی تو اس کا ملبہ گھنے جنگل میں ملا ۔ایسے حادثے پچھلے کئی عرصے سے سامنے آرہے ہیں ایئر ایمبولینس کا واقعہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے جس سے ہوائی سفر پوری طرح محفوظ ہونے کے نظریہ پر سوالیہ نشان لگنے لگا ہے ۔جھارکھنڈ میں ہوئے حادثے کے اگلے ہی دن بنگلور سے لیہہ جارہی پروار کو تکنیکی خرابی کے چلتے واپس اترنا پڑا اس کے علاوہ سرکاری ہیلی کاپٹر کمپنی پون ہنس کے ایک ہیلی کیپٹر کو انڈومان خطہ میں اڑان بھرنے کے دوران تکنیکی خرابی کے سبب سمندر میں ایمرجنسی حالت میں اتارنا پڑا۔خیر ہوئی کہ اس میں سوار سبھی سات لوگوں کو بچالیا گیا ۔دو دن کے وقفہ کے اندر ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں سفر کے دوران بہتر متبادل کی شکل میں ابھر رہی سروس اب خطرے بھری لگنے لگی ہے ۔

آخر کیا وجہ ہے پچھلے کچھ عرصہ سے مسلسل جہازوں کے حادثے بڑھ رہے ہیں ۔ہوائی سروسز کے معاملے میں ایک عام رائے یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً تکنیکی پہلو کی اعلیٰ سطحی جانچ ہوتی ہے اور ہر کسوٹی پر کھرا اترنے کے بعد ہی جہاز کو پرواز کے لئے ہری جھنڈی دکھائی دی جاتی ہے ۔پرواز سے پہلے طیارے کی گہری جانچ پڑتال ہوتی ہے تاکہ راستے میں کوئی دقت نہ آئے ۔مگر حالیہ وقت میں کئی طیاروں کی پرواز کے بعد راستے میں تکنیکی خرابی کا پتہ چلنے پر ان کو راستے میں ہی واپس اتار نے کا ٹرینڈ بتاتا ہے کہ یا تو تکنیکی سطح پر اس میں کوئی خرابی تھی یا سیکورٹی چیک میں کسی سطح پر کمی رہ گئی ۔اس کے چلتے سرکار نے لوک سبھا میں بتایا تھاکہ انڈین ایئر لائنس کے جن جہازوں کی تکنیکی جانچ ہوئی ہے ان میں آدھے میں خرابی پائی گئی اس سلسلے میں پچھلے برس چھ بڑی ایئر لائنس کے 754 جہازوںکا جائزہ اور اس کی تکنیکی جانچ کی گئی جن میں 377 جہازوں میں بار بار خامی آنے کی بات سامنے آئی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ان طیاروں میں جو گڑ بڑیاں پائی گئی ہیں وہ کتنی حساس او ر سنگین نوعیت کی تھیں ان سے پیدا ہونے والاخطرہ کیا تھا اگر کسی تکنیکی خامی کو نظر انداز کرکے یا اسے سیکورٹی چیک نہیں کرکے پرواز کی اجازت دے دی جاتی ہے تو پھر ایسے حادثوں کے واقعات کیوں سامنے آرہے ہیں ۔

ہمارے دیش میں عام طور پر لوگ ہوائی سفر کو محفوظ ترین مانتے ہیں اور جلد منزل تک پہنچنے کا ذریعہ بھی لیکن اب لوگوں میں اس بات کا ڈر پیدا ہونے لگا ہے کہ کہیں کہ وہ جلد منز ل تک پہنچنے کے بجائے اپنی جان کے لئے خطرے کودعوت تو نہیں دے رہے ہیں بہرحال اس میں کسی بھی سطح تک اس اشو کو نظر انداز نہیں کیاجانا چاہیے اور نہ ہی کوتاہی برتنی چاہیے ۔خرابی کے اندیشے کے باوجود عملہ پرواز کی اجازت دے دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسافروں کی جان سے کھیل رہا ہے اس لئے سرکار کو چاہیے کہ حادثوں کی پرواز کی جانچ پڑتال کے معاملے میں کوتاہی یا لاپرواہی برتنے والے ایئر لائن محکمہ سے جواب طلب کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ہوائی حادثوں سے بچا جا سکے ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟