وراثت، کاروبار اور محبت کی ایک زندہ مثال

مفتی اشفاق قاضی

یہ تحریر جو پیش کی جارہی ہے یہ کوئی کہانی نہیں،  نہ کسی کتاب کا باب، نہ کسی واعظ کی نصیحت اور نہ ہی کسی مثالی خاندان کا تراشا ہوا خاکہ، بلکہ ایک زندہ خاندان کی حقیقت ہے ، ایسی حقیقت جس میں اگر ایک لمحے کے لیے بھی نیت خراب ہوجاتی، اگر ایک لفظ لہجے سے سخت ہوجاتا، اگر ایک بھائی ’میرا‘کہہ کر ٹھہر جاتا اور ’تیرا‘ماننے سے انکار کردیتا، تو یہاں چار بھائی چار راستوں پر نہیں بلکہ چار دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے، عبدالعظیم، عبدالرحیم، عبدالخالق اور عبدالرحمن(فرضی نام) چار بھائی جنہوں نے آنکھ کھولی تو ایک ہی صحن دیکھا، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھایا، ایک ہی باپ کی شفقت میں پرورش پائی اور جوان ہوئے تو ایک ہی خواب کے ساتھ محنت کی، والد کے ساتھ اسی کے گھر میں رہتے ہوئے کاروبار شروع کیا، پسینہ بہایا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما، اور اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت عطا فرمائی کہ دکان ایک سے دو ہوئی، دو سے تین ہوئی، اور پھر وسعت آئی تو الگ الگ جائیدادیں بھی خریدی گئیں،مگر اس سب کے باوجود دل الگ نہیں ہوئے، حساب زبان پر نہیں آیا اور کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ یہ میرا ہے اور وہ تیرا،بڑے بھائی نے باپ کی موجودگی میں بھی اور اس کے بعد بھی وہی کردار ادا کیا جو خاندانوں کو جوڑے رکھتا ہے، بھائیوں کے نکاح کرائے، ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا، کیونکہ اس وقت سب کچھ اجتماعی نظام سے چل رہا تھا، نہ کسی کو اپنے حصے کی جلدی تھی، نہ کسی کو دوسرے پر سبقت لینے کی خواہش، پھر وہ دن آیا جب والد صاحب کا سایہ اٹھ گیا، اور اس وقت بڑے بھائی کی عمر محض چالیس برس سے کچھ زیادہ تھی، مگر اس عمر میں اس نے باپ کی جگہ خود کو حکم، رعب یا قانونی اختیار سے نہیں بلکہ خاموش ذمہ داری، صبر، برداشت اور قربانی سے قائم کیا، وہ باپ نہیں تھا، مگر باپ کی کمی اس نے کسی بھائی کو محسوس نہیں ہونے دی اور یہی وہ بنیاد تھی جس پر یہ خاندان کھڑا رہا، کم از کم اس لمحے تک، جب وقت نے ایک اور، کہیں زیادہ نازک امتحان سامنے رکھ دیئے، وقت گزرتا گیا، سال بدلتے گئے اور وہ بچے جو کبھی ایک دوسرے کی گود میں کھیلتے تھے، اب بڑے ہونے لگے، یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر مضبوط نظر آنے والے خاندان اندر ہی اندر دراڑیں لینے لگتے ہیں، معمولی باتیں، چھوٹے چھوٹے جملے، بچوں کے درمیان کھٹ پٹ، آہستہ آہستہ فضا کو بوجھل کرنے لگی، بھائی وہی تھے، نیتیں وہی تھیں، مگر دلوں میں سوال جنم لینے لگے،ایسے سوال جو زبان پر نہ آئیں تو بھی آنکھوں ،رویّوں اور لہجے میں نظر آنے لگتے ہیں، اسی نازک لمحے پر سب سے چھوٹے بھائی نے وہ بات کی جو اکثر لوگ دل میں دبا لیتے ہیں اور پھر برسوں پچھتاتے ہیں، اس نے لڑائی کے لیے نہیں، الزام کے لیے نہیں، بلکہ خاندان کو بچانے کے لیے کہا کہ مجھے اپنے کاروباری نظام کے حوالے سے مکمل علیحدگی اختیار کرنی ہے، میری اپنی صلاحیت ہے، میری اپنی سمت ہے، میں تصادم نہیں چاہتا، میں ترتیب چاہتا ہوں،یہ بات اگر ’انا ‘کے کانوں سے سنی جاتی تو یہیں سب کچھ ختم ہو جاتا، مگر یہاں بات دل سے سنی گئی، معاملہ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر تک پہنچا، جہاں چاروں بھائی ایک ساتھ بیٹھے، نہ چیخ تھی، نہ الزام، نہ ماضی کے زخموں کی نمائش،یہاں پہلے دل رکھے گئے، کاغذ بعد میں آیا، تفصیل سے یہ طے کیا گیا کہ والد کی وفات کے وقت کس کا کیا حق بنتا تھا، بہنوں کو کیسے دیا گیا، کون سی ملکیت اجتماعی رہی، کون سی ذاتی بنی، کس بھائی نے کہاں کتنی محنت کی، کون کس وقت کس کا سہارا بنا، گفتگو یہاں تک پہنچی کہ سب سے چھوٹے بھائی نے اپنی محنت سے جو الگ دکان کھڑی کی ہے، وہ مکمل طور پر اسی کی ملکیت ہے اور اسی لمحے بڑے بھائی نے وہ جملہ کہا جو رشتوں کو مرنے نہیں دیتا انہوں نے کہا ’یہ دکان اسی کی ہے، میرا اس پر کوئی حق نہیں‘،  مگر مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوا، کیونکہ بڑے بھائی کے پاس کاروبار چلانے کی جگہ کم پڑ رہی تھی، یہاں پھر محبت نے حساب پر سبقت لی، اور ایک ایسا معاہدہ وجود میں آیا جو عدالت کے لیے نہیں بلکہ ضمیر کے لیے تھا، چھوٹا بھائی اپنی ذاتی دکان چار سال کے لیے بلا کرایہ بڑے بھائی کو دے گا، مینٹیننس بڑے بھائی خود برداشت کریں گے، اور اس کے بدلے مشترکہ بڑی دکان میں چھوٹا بھائی پچاس فیصد حصہ استعمال کرے گا، اپنا بھی اور بڑے بھائی کا بھی، تاکہ وہ اپنے نظام کو مضبوط کرسکے اور بڑا بھائی سکون کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھ سکے، یہ چار سال کا معاہدہ تھا، اور یہ بھی طے پایا کہ اگر اس دوران قضا و قدر کا کوئی معاملہ پیش آجائے تو قانونی طور پر معاہدہ ختم ہوگا، مگر اولاد کے لیے یہ اخلاقی وصیت رہے گی کہ اسے پورا کیا جائے، کیونکہ یہ تحریر کاغذ پر نہیں، دلوں پر تحریر کی گئی تھی، اسی نیت، اسی برداشت اور اسی قربانی کا نتیجہ تھا کہ معاملہ نہ عدالت پہنچا، نہ دشمنی بنی، نہ رشتے ٹوٹے، آپسی افہام و تفہیم سے معاملہ الحمد اللہ حل ہوگیا،  آج بھی ان گھروں کے دروازے کھلے ہیں، عید پر ایک دوسرے بھائیوں کے تحفے ہاتھوں میں ہوتے ہیں، آج بھی گلے لگتے وقت کندھے بوجھل نہیں ہوتے، اور بچوں کی آنکھوں میں چچا کا رشتہ محفوظ، مانوس اور محترم ہے، یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ اختلاف کو ’انا ‘بننے سے پہلے روک لیا گیا، اور ٹوٹنے سے پہلے جوڑ لیا گیا، یہی وہ مقام ہے جہاں فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر ٹوٹے افراد کا سہارا بنتے ہیں، ان کی بے رمق زندگی میں روشنی بکھیرتا ہے، یہاں صرف وراثت کے حساب نہیں ہوتے بلکہ دلوں کے بوجھ ہلکے کیے جاتے ہیں، یہاں بھائیوں کے معاملات ہوں یا خانگی و عائلی الجھنیں، میاں بیوی کے اختلافات ہوں یا برسوں کی خاموش ناراضگیاں، سب کو حکمت، شریعت اور انسانیت کے ساتھ سلجھایا جاتا ہے، اگر آپ کے اردگرد بھی کوئی گھر خاموشی سے بکھر رہا ہو، کوئی بھائی دل میں زخم لیے پھر رہا ہو، کوئی رشتہ صرف ایک غلط موڑ کی وجہ سے رُکا ہوا ہو، تو دیر مت کیجیے، کیونکہ ہر مسئلہ بڑھنے سے پہلے سنبھالاجاسکتا ہے، اور ہر رشتہ ٹوٹنے سے پہلے بچایا جا سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ وقت پر رک کر بات کر لی جائے، اور صحیح رہنمائی حاصل کی جائے،اللہ تعالیٰ ہر گھر کو اختلاف سے پہلے عقل، اور نقصان سے پہلے محبت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

(مضمون نگار معروف اسلامی اسکالر، مشہور کالم نگار، مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟