مستقبل پر مرکوز اے آئی امپیکٹ سمٹ!
سلطان صدیقی
دیش کی راجدھانی دہلی میں بھارت منڈپم میں پیر کی شام انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو سمٹ کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی نے کر دیا ہے اس میں نمائش بھی لگائی گئی ہے جس میں 13 ملک شامل ہیں ۔سمٹ کے آغاز سے پہلے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اے آئی سمٹ کو لے کر پوری دنیا کے لئے سندیش دیا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے AIپر غور وخوض کے لئے دنیا کو ایک ساتھ لانا ہے ۔سمٹ کی میزبانی بھارت کررہا ہے ۔دنیا بھر کے 15 ملکوں کے سربراہان مملکت اور 50 سے زیادہ ملکوں کے صنعتی و دیگر اے آئی سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل ہورہے ہیں ۔یہ سمٹ 16 فروری سے 19 فروری 2026 تک چلے گی اس کی تھیم ہے سروجن ہتائے سروجن سکھائے اور سبھی کے لئے کلیان سبھی کے لئے خوشی ۔جو ہیومن سنٹرک پروگریس کے لئے اے آئی کے استعمال کرنے کے ہمارے عہد کی یاد دلاتا ہے۔وزیراعظم نے آگے لکھا ہے اے آئی آج ہیلتھ کیئر ،ایجوکیشن ،ایگریکلچر ، گورننس انٹرپرائزز جیسے کئی سیکٹروں میں تبدیلی لارہا ہے ۔اے آئی امپیکٹ سمٹ کے الگ الگ پہلوؤں جیسے انوینشن ، تال میل ،ذمہ داری سے استعمال اور بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ پر دنیا بھر سے بات چیت کو بہتر بنائے گا ۔انہوں نے اے آئی سمٹ کے نتیجے ایک ایسے مستقبل کو بنانے میں مددگار ہوں گے ۔
بھارت کے ایک ارب چالیس کروڑ لوگوں کی وجہ سے ہمارا دیش ہندوستان اے آئی کی تبدیلی میں سب سے آگے ہے ۔ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے لے کر ایک وائر نیٹ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور جدید ریسرچ تک اے آئی میں ہمار ی ترقی امبیشن اور ذمہ داری دونوں کو دکھاتی ہے اس اے آئی سمٹ کے تئیں دلچسپی کو سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر سے دو لاکھ سے زیادہ انٹرنیٹ کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائے ہیں ۔ایک طرح سے یہ سمٹ جی -20 سمٹ سے زیادہ بااثر طریقہ پر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔کیوں کہ یہ مستقبل پر مرکوز ایک بڑی سمٹ ہے اس لئے یہ امید کی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے اے آئی کو ایک ذمہ دار ،ٹکاؤ اورملی جلی تکنیک کی شکل میں ڈولپ اور پھیلاؤ پر رضامندی بنے گی ۔ایسا ہونابھی چاہیے کیوں کہ دنیا بھر میں اے آئی کا اثر اور اس کا بازار تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔زندگی کے ہر شعبے میں اے آئی کا بڑھتا اثر دکھائی دے رہا ہے ۔یہ حقیقت میں مناسب بھی ہے ۔
بھارت منڈپم میں چار روزہ اے آئی سمٹ سے یہ تو توقع کی جاسکتی ہے کہ اے آئی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے شامل دیش آزادانہ طور پر مکینزم تیار کریں تاکہ اس سے اے آئی کا غلط استعمال روکا جاسکے کیوں کہ آج کل اے آئی کے ذریعے کسی بھی بڑی شخصیت کی ایمیج کو دھومل کیاجاسکتا ہے ۔یہ رضامندی ا سلئے بھی اہم ہے کیوں کہ فی الحال اے آئی پر اس وقت چند بڑے ممالک کی ہی بالادستی ہے ۔اگر اس تکنیک کے فروغ اور غیر ترقی یافتہ و غریب ملکوں تک نہیں ہوا تو اس سے دنیا میں امتیاز اور من مانی بڑھے گی ۔اے آئی کا استعمال مجموعی اور اخلاقی اور جمہوری طریقہ سے ہو اس کے لئے دنیا کے دیشوں کو اے آئی سمٹ کے میزبان بھارت کے ساتھ ساتھ سبھی ملکوں کو کوشش کرنی ہوگی ۔
اے آئی تکنیک کے تئیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔ہر ایک تکنیک فروغ اپنے ساتھ کچھ پیچیدگیاں اور خطرے بھی لاتی ہے ۔ایسا ہی کچھ اے آئی کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے ۔بھارت میں نیتاؤں ،بڑے بڑے سربراہوں کی ایمیج خراب کرنے میں ہمارے دیش کے نوجوان اور دیگر پارٹیاں جو اے آئی تکنیک کو اپنا رہی ہیں اس کا ان میں بھی بیجا استعمال بڑھا ہے ۔اے آئی جو چیلنج اپنے ساتھ لے کر آئی ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ روایتی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں ۔بلاشبہ یہ تکنیک جہاں نوکریوں کو بلکہ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے انڈسٹری اور پرائیویٹ سیکٹروں میں نوجوانوں کی نوکریوں پر خطرہ بھی پیدا کررہی ہیں اس لئے بھارت کی بڑی کمپنیاں اے آئی کو بھرپور اٹھانے میں لگی ہیں تاکہ ان کا کمپنی پر آنے والاخرچ کم ہو اور مین پاور بھی کم ہوصرف اے آئی کے ذریعے ہی کمپنی کا کام لیا جائے ۔بہرحال لوگوں کو اے آئی تکنیک کے استعمال کے تئیں سرگرمی دکھانی ہوگی تاکہ نوکری بچیں اور نئے مواقع نکلیں تاکہ نئی نسل کے لئے روزگار میں کوئی دقت نہ آئے ۔

Comments
Post a Comment