رمضان کا مقدس روزہ جو آپ کے خلیات کو نئی زندگی عطا کرتا ہے – ایک نوبلد انعام یافتہ راز!
ڈاکٹر شہباز حسیبی
ذرا تصور کیجیے کہ آپ جان بوجھ کر اپنے جسم کو بھوکا رکھتے ہیں… اور جسم اس کے بدلے میں آپ کا شکر گزار ہوکر خود کو صاف ستھرا کرنے والی مشین میں تبدیل ہوجاتی ہے! یہی رمضان المبارک کا کمال ہے، جب دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان سحر سے افطار تک روزہ رکھتے ہیں۔ یہ عبادت صدیوں پرانی روحانی روایت کو جدید سائنسی تحقیق سے جوڑ دیتی ہے۔جاپان کے نوبیل انعام یافتہ ماہرِ حیاتیات یوشی نوری اوسومی نے ’’آٹو فَجی‘‘ کے راز سے پردہ اٹھایا۔ ا?ٹوفجی جسم کی وہ حیرت انگیز صلاحیت ہے جس میں خلیات اپنے اندر موجود خراب اور بوسیدہ حصوں کو توڑکر دوبارہ قابلِ استعمال توانائی میں بدل دیتے ہیں۔ گویا آپ کے خلیات ماہر باورچیوں کی طرح خراب اجزا کو نکال کر باہر کردیتے ہیں اور انہیں نئی توانائی میں ڈھال دیتے ہیں۔ اوسومی کے مطابق، آٹوفجی جسم کا ایک نہایت عمدہ صفائی کا نظام ہے، جو روزے کے دوران خلیوں کو مرمت اور تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یوں رمضان اس قدرتی عمل کے لیے گویا تیس دن کا تربیتی کیمپ بن جاتا ہے۔
یہ فائدہ صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہے۔ روزے کے دوران دماغی دھند کم ہوتی ہے اور توانائی میں اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ مسلسل ہاضمے کی مشقت سے نجات ملنے کے سبب جسم بدن میں موجود چربی کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے، جس سے وزن میں کمی آ تی ہے۔ قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے اور نزلہ، زکام اور دیگر بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھتی ہے۔ ذیابیطس اور دل کے امراض جیسے مسائل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بعض تحقیقات کے مطابق خلیاتی صفائی کے باعث سرطان سے تحفظ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔گویا کہ روزہ جسم کے لیے ایک ’’ری سیٹ بٹن‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظم اور بابرکت نظام ہے جو روحانی بالیدگی کے ساتھ جسمانی تازگی بھی عطا کرتا ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ چند گھنٹے کھانے سے پرہیز انسان کو خود اپنے اندر ایک نئی طاقت کا احساس دلا سکتا ہے؟
روزہ: مذاہب کے درمیان ایک آفاقی ری سیٹ بٹن
روزہ صرف اسلام کی انفرادی عبادت نہیں بلکہ یہ تو ایک عالمی روایت ہے۔ یہودی یوم کِپور کے موقع پر توبہ و استغفار کے لیے روزہ رکھتے ہیں، عیسائی لینٹ کے دوران حضرت عیسیٰ? کی ریاضت کی یاد تازہ کرتے ہیں، ہندو ایکادشی پر طہارت و پاکیزگی کے لیے برت رکھتے ہیں اور بدھ مت کے پیروکار روحانی خلوت میں ذہنی یکسوئی کے لیے فاقہ اختیار کرتے ہیں۔ ہر مذہب کے اپنے اپنے طریقے اور ضابطے ہیں، مگر مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے نفس پر قابو پانا، روح کو پاکیزہ بنانا، مضبوط ضبطِ نفس پیدا کرنا اور خالق سے تعلق کو گہرا کرنا۔ یوں روزہ گویا انسانیت کا قدیم نسخہ ہے جو جسم اور روح دونوں کو نئی بلندی عطا کرتا ہے۔اسلام میں قرآنِ مجید نے سور? بقرہ کی آیت 183 میں صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا: ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘ یہاں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وحی اور سائنس ایک نقطے پر آ کر مل جاتی ہیں۔
ذرا تاریخ کا ورق پلٹیں۔ سن 624 عیسوی، ہجرت کا دوسرا سال۔ محمد ? اور آپ? کے صحابہ? نے رمضان کے روزوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہی عبادت آگے چل کر اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہوئی۔یعنی صوم، جو روحانی طاقت بھی دیتا ہے اور معاشرتی ہم آہنگی بھی پیدا کرتا ہے۔ہر سال قمری مہینوں کے نویں مہینے، رمضان المبارک میں، دنیا بھر کے تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان سحر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے رْک جاتے ہیں۔ یہ محض بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ خود احتسابی، روحانی نکھار اور اجتماعی ہم آہنگی کا ایک ولولہ انگیز سفر ہے۔روزہ طرزِ زندگی کی ایک مکمل اصلاح ہے۔ جھوٹ، لڑائی جھگڑے، غیبت اور منفی رویوں سے پرہیز بھی روزے کا حصہ ہے۔ جدید تحقیق بھی اس کے جسمانی فوائد جیسے میٹابولزم میں بہتری، جسمانی صفائی کے عمل میں تیزی اور ذہنی یکسوئی میں اضافہ، کی نشاندہی کرتی ہے۔سب سے بڑھ کر، روزہ انسان کے اندر ہمدردی کو جگاتا ہے۔ جب انسان خود بھوک کا احساس کرتا ہے تو دوسروں کی ضرورتوں کو بہتر سمجھتا ہے۔ یوں ایک دسترخوان پر مل بیٹھ کر افطار کرنا نہ صرف محبت بڑھاتا ہے بلکہ معاشرتی فاصلے کو بھی کم کرتا ہے۔اس کا آغاز سحری سے ہوتا ہے جسے محمد ? نے باعثِ برکت قرار دیا ہے۔ یہ محض ایک کھانا نہیں بلکہ دن بھر کے لیے توانائی کے حصول کا ایندھن ہے۔ جوں ہی فجر کی اذان ہوتی ہے، کھانے پینے سے رْک جانے کا سفر شروع ہو جاتا ہے،یعنی نہ پانی، نہ نوالہ اور نہ ہی کوئی منفی رویہ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور مغرب کا وقت آ جائے۔افطار سنت کے مطابق کھجور اور پانی سے کیا جاتا ہے، پھر دسترخوان سجتا ہے جس میں محبت، شکرگزاری اور خاندانی قربت کی خوشبو رچی ہوتی ہے۔ دعائیں مانگی جاتی ہیں، عبادت میں دل لگتا ہے اور روحانی کیفیت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
یہ کوئی اذیت نہیں، بلکہ تربیت ہے۔ روزے کے دوران جسم، بدن کی چربی کو بطور ایندھن استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اور خلیات کی صفائی کا عمل (آٹو فَجی) تیز ہو جاتا ہے، جو غیر ضروری اور خراب خلیات کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ذہنی یکسوئی بڑھتی ہے، توجہ مرکوز ہوتی ہے اور انسان خود کو ہلکا اور چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔
اگر آپ روزے کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں تو سحری اور افطار کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ گویا ا?پ اپنے خلیات کو بہترین کارکردگی کے لیے تیار کر رہے ہوں۔سحری میں ایسی غذائیں لیں جو آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرنے والی ہوں، مثلاً دلیہ، جَو کا حریرہ، ثابت اناج، گریاں اور دہی۔ یہ خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں اور دیر تک سیرابی کا احساس دیتے ہیں۔ تربوز، کھیرا یا کیلا جیسے پانی سے بھرپور پھل شامل کریں۔ دودھ یا لسی بھی مفید ہے۔ البتہ چائے، کافی اور زیادہ نمکین چیزوں سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔ حضرت محمد ? اس کے لیے کھجور کو پسند فرماتے تھے، کیونکہ اس میں قدرتی مٹھاس اور فائبر موجود ہوتا ہے جو بھوک کو قابو میں رکھتا ہے۔افطار دھیرے دھیرے کریں تاکہ معدہ اچانک بوجھ کا شکار نہ ہو۔ تین کھجوریں اور پانی یا ناریل پانی سے آغاز کریں تاکہ جسم میں نمکیات اور توانائی بحال ہو۔ اس کے بعد ہلکی غذا جیسے سوپ، سلاد، دال، گرِل کیا ہوا چکن یا مچھلی اور سبزیاں استعمال کریں۔ دال کا شوربہ یا سبزیوں والی بریانی فائبر فراہم کرتی ہے جو اپھارے سے بچاتی ہے۔ مشروبات میں تازہ جوس، بغیر چینی کی ہربل چائے یا لیموں اور پودینے والا پانی بہتر رہتا ہے۔اعتدال سب سے اہم اصول ہے، یعنی پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے رکھیں اور ایک تہائی خالی چھوڑ دیں۔ یہی طریقہ نہ صرف جسمانی توانائی کو برقرار رکھتا ہے بلکہ رمضان بھر تندرستی اور توازن بھی قائم رکھتا ہے۔جیسے ہی آسمان پر ستارے جگمگانے لگتے ہیں، عشاء کے بعد مساجد میں نمازِ تراویح کی رونقیں شروع ہو جاتی ہیں۔ دل میں یہ احساس تازہ ہو جاتا ہے کہ قرآنِ مجید بھی اسی بابرکت مہینے میں نازل ہوا تھا۔ مترنم اور پْرسوز تلاوت جب فضا میں گونجتی ہے تو قدیم آیات جدید دلوں سے ہم کلام ہو جاتی ہیں اور ایک عجیب سی روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری برادری ایک ہی چھت کے نیچے روح کی ہم آہنگی میں جْڑ گئی ہو۔اور پھر آتی ہیں آخری دس راتیں —شبِ قدر کی جستجو کی راتیں، شب قدر کی وہ بابرکت رات جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ جاگتی آنکھیں، سجدوں میں ڈھلتی پیشانیاں، مغفرت کی دعائیں اور اپنے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر کی التجائیں، یہ رمضان کا نقط? عروج ہے۔ روایت ہے کہ اس رات فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور تقدیریں لکھی جاتی ہیں۔ عبادت کا جذبہ اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے۔رمضان آتے ہی دلوں میں سخاوت کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ زکوٰ? یعنی مال کا ڈھائی فیصد حصہ جسے ضرورت مندوں تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ کوئی محروم نہ رہے۔ مگر بات صرف فرض کی ادائیگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ صدقہ و خیرات کا دریا بہنے لگتا ہے؛ اجنبیوں کو افطار کرانے، راہ چلتے ضرورت مندوں کی مدد کرنے، یتیموں اور مستحقین کی خاموشی سے کفالت کرنے کا عمل عام ہو جاتا ہے۔بازاروں اور گلیوں میں افطار کے لیے مفت دسترخوان سجتے ہیں اور بہت سے صاحبِ حیثیت افراد خاموشی کے ساتھ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس مہینے میں ہمدردی اور باہمی محبت بڑھتی ہے، دل قریب آتے ہیں اور معاشرتی فاصلے کم ہوتے ہیں۔ یوں رمضان نہ صرف روح کی تربیت کرتا ہے۔ بلکہ معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
آئیے پھر لوٹتے ہیں جاپانی نوبیل انعام یافتہ سائنس دان یوشی نوری اوسومی کی تحقیق کی طرف۔ ان کے مطابق 12 سے 16 گھنٹے کے وقفے سے ہونے والا فاقہ خلیوں میں ’’آٹو فَجی‘‘ کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔ اس دوران جسم خراب پروٹینز، کمزور مائٹوکانڈریا اور دیگر غیر ضروری اجزا کو توڑ کر صاف کرتا ہے۔ بعض ابتدائی مطالعات میں یہاں تک اشارہ ملتا ہے کہ یہ عمل غیر معمولی خلیاتی تبدیلیوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
رمضان کا روزہ دراصل اسی سائنسی اصول کی ایک منظم اور روحانی صورت ہے، جسے جدید دنیا میں ’’انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ 16:8‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی 16 گھنٹے فاقہ اور 8 گھنٹے میں غذا۔ بہت سے افراد رمضان کے دوران جلد کی تازگی، ذہنی سکون اور مضبوط قوتِ ارادی کا تجربہ بیان کرتے ہیں۔ یوں قدیم عبادت اور جدید سائنس ایک دوسرے کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کھانے سے آگے: خود احتسابی جو زندگی بدل دے
رمضان کا اصل ذائقہ صرف افطار کے دسترخوان تک محدود نہیں۔ سحری کی خاموش گھڑیاں اور افطار کی خوش گپیوں کے بیچ انسان خود سے سوال کرتا ہے۔ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں دوسروں کے لیے کیا آسانی پیدا کرسکتا ہوں؟
بھوک صبر سکھاتی ہے، پانی کا ایک گھونٹ شکرگزاری کا احساس جگاتا ہے۔ خاندان قریب آتے ہیں، بچے روایات سیکھتے ہیں اور بزرگ خود کو باعزت اور باوقار محسوس کرتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر بھی ایک نئی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ امیر و غریب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ مہینہ انسانیت کا عملی درس ہے۔
رمضان کی روشنی سال بھر کیسے قائم رکھیں؟
اصل سوال یہ ہے: یہ تبدیلی صرف تیس دن تک کیوں رہے؟
اسلام ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ رمضان کو اپنی زندگی کا مستقل مزاج بنا لیں۔ برائیوں سے روزانہ بچنا، نیکی کو معمول بنانا، سچ بولنا، ہاتھوں کو ظلم سے روکنا اور دل کو رحم کے جذبات سے بھر لینا، یہی اصل کامیابی ہے۔
اگر رمضان کے بعد بھی زبان سچی، عمل درست اور دل نرم رہے تو گویا انسان نے اس مہینے کی روح کو پا لیا۔ یہی وہ روشنی ہے جو زندگی کو سنوارتی ہے اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
*مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات مصنف کی ذاتی آرا ہیں۔

Comments
Post a Comment