مغربی کنارے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ جارحیت
اسد مرزا
اسرائیل مغربی کنارے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کو بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ، اقوام متحدہ اور کئی عرب ریاستوں نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلیوں کو براہ راست مغربی کنارے کی زمین خریدنے کی اجازت دے کر، اور ان علاقوں پر زیادہ اسرائیلی کنٹرول بڑھاکر فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول کم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے، اسرائیلی منصوبوں کے اعلان کے بعد جو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مزید بستیوں کی تعمیر کی راہ ہموار کریں گے۔ اتوار (8 فروری) کو اعلان کردہ اقدامات میں، یہودی اسرائیلیوں کو مغربی کنارے کی زمین براہ راست خریدنے کی اجازت دینا، اور ان علاقوں پر زیادہ اسرائیلی کنٹرول کو بڑھانا شامل ہے جہاں فلسطینی اتھارٹی طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کی طرف سے منظور کیے گئے نئے قوانین کب نافذ العمل ہوں گے لیکن انہیں مزید منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔
جہاں ایک جانب علاقائی ممالک اور دیگر عالمی تنظیموں نے اس منصوبے کی مذمت کی ہے، وہیں دوسری جانب حیران کن طور پر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے پیر (9 فروری) کو کہا کہ "مستحکم مغربی کنارے اسرائیل کو محفوظ رکھتا ہے اور خطے میں امن کے حصول کے لیے اس انتظامیہ کے ہدف کے مطابق ہے۔"
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس صورتحال پر "شدید فکر مند" ہیں، انہوں نے کہا کہ یواین سکریٹری جنرل گوٹیریس نے متنبہ کیا کہ "اس فیصلے سمیت زمین پر موجودہ رفتار دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر رہی ہے۔"
500,000 سے زیادہ اسرائیلی مغربی کنارے میں بستیوں اور چوکیوں میں رہتے ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔ وہاں تقریباً تیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس - جو فلسطینی اتھارٹی (PA) کے سربراہ ہیں، جو مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر حکمرانی کرتے ہیں، نے ان اقدامات کو "خطرناک" اور "فلسطینی خودمختاری کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی یہودی بستیوں کی توسیع، زمین کی ضبطی اور فلسطینی املاک کی مسماری کو قانونی حیثیت دینے کی اسرائیل کی کھلی کوشش" قرار دیا۔ انہوں نے امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی این جی او پیس ناؤ کے مطابق کابینہ کے فیصلے سے PA کو کمزور کرنے کا خطرہ ہے اور اس میں معاہدوں کو منسوخ کرنا اور ڈی فیکٹو الحاق نافذ کرنا شامل ہے۔ اس نے اسرائیلی حکومت پر ’’مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر زمین کی چوری کے راستے میں ہر ممکنہ رکاوٹ ختم کرنے کا ‘‘الزام بھی لگایا ہے۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ اس نے اس اقدام کی "سختی سے مذمت" کی ہے اور اسرائیل سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ "فلسطین کے جغرافیائی یا آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی یکطرفہ کوشش مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہو گی۔"
مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اس اعلان کو "اس کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی نقل مکانی کی کوششوں میں تیزی" قرار دیا۔ ان کے بیان میں "مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف خبردار کیا گیا ہے، جو خطے میں تشدد اور تنازعات کو ہوا دیتے ہیں"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو مسلط کرنا، فلسطینیوں کو بے گھر کرنا اور وہاں غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے۔ علاقے کا الحاق نیتن یاہو کے اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی ایک طویل عرصے سے ترجیح رہی ہے۔
متنازعہ فیصلہ
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے اس حالیہ فیصلے سے یہودی آباد کاروں کے لیے مغربی کنارے میں زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور اسرائیلی حکام کو ان علاقوں میں کارروائی کرنے کے لیے مزید اختیارات دیں گے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر فلسطینی کنٹرول میں ہیں۔ان میں سے ایک، الٹرا نیشنلسٹ وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت "فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا جاری رکھے گی۔"
زیادہ تر ممالک نے طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے جو نسلوں پرانے تنازعے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور مغربی کنارے کو، جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، اس مستقبل کی ریاست کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور سموٹریچ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں پانچ رکنی سیکیورٹی کابینہ کے فیصلوں کی وضاحت کی گئی، جنہیں مکمل طور پر شائع نہیں کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی کابینہ نے 1967 سے پہلے اردن کے مغربی کنارے کے کنٹرول سے متعلق قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ زمین کی رجسٹریوں کو خفیہ رکھنے کی بجائے عوامی بنایا جائے، اور سول انتظامیہ کے دفتر سے اجازت نامے کی شرط کو ختم کیا جائے۔ اسرائیلی سیٹلمنٹ واچ ڈاگ گروپ پیس ناؤ سے تعلق رکھنے والے ہاگیٹ آفران نے کہا کہ اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون نے روکا ہے اور یہ مغربی کنارے کے الحاق کی طرف ایک قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یشا کونسل، جو کہ غیر قانونی بستیوں کا ایک اجتماع ہے، نے اس فیصلے کو "58 سالوں میں سب سے اہم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اب عملی طور پر اعلان کر رہی ہے کہ "اسرائیل کی سرزمین یہودیوں کی ملکیت ہے"۔
اس اقدام میں کیا شامل ہے۔
نئی ہدایات میں شاید سب سے زیادہ جارحانہ تبدیلی اسرائیلی فورسز کو ایریا ’اے‘ اور’ بی ‘زونز میں نفاذ اور مسمار کرنے کی اجازت دیناہے، جو اوسلو معاہدے کے تحت، فلسطینی شہری اور سلامتی کے کنٹرول میں ہیں۔ ایریا ’سی‘، جو کل اسرائیلی کنٹرول میں ہے، مغربی کنارے کا 60 فیصد بنتا ہے۔ 700,000 سے زیادہ غیر قانونی اسرائیلی آباد کار ایریا ’سی‘، اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں 250 سے زیادہ غیر قانونی بستیوں میں رہتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنے کے لیے، اسرائیل نے ایک نیا قانونی طریقہ کار متعارف کرایا ہے: "قدرت اور ماحولیات کا تحفظ"۔ یہ فیصلہ کلیدی فلسطینی شہروں میں "میونسپل اپرتھائیڈ" کے نظام کو بھی ادارہ بناتا ہے، انہیں PA کے دائرہ اختیار سے ہٹا کر۔
مجموعی طور پر، یہ فیصلے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر شمار کیا جاسکتا ہے جو تمام بین الاقوامی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی بھی ہے، لیکن ان کے طویل مدتی مذہبی اور سیاسی اثرات بھی ہیں۔ مثلاًای، جی ابراہیمی مسجد جو کہ ایک مسلم مقدس مقام ہے جس کا انتظام پہلے فلسطینی اوقاف کے زیر انتظام تھا، اب اسے مسلم سائٹ نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا انتظام اب کریات اربع میں یہودی مذہبی کونسل کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف طاقت کے ذریعے بلکہ قانون کے ذریعے اپنی شناخت کو مؤثر طریقے سے یہودی بنایا ہے۔" 2010 میں، اسرائیلی حکومت نے پہلے ہی ہیبرون میں واقع ابراہیمی مسجد کو "یہودی ثقافتی ورثہ" کے طور پر شما ر کیا تھا۔
اگر عالمی برادری اس معاملے پر خاموشی اختیار کرتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب اسرائیل اپنے امریکی حامیوں کے فائدے کے لیے غزہ کے ساحل کو عیش و آرام کا مرکز بناکر پورے مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی بستیوں پر بھی اپنا قبضہ جمالے۔

Comments
Post a Comment