اشیائے ضروریہ کے آسمان چھوتے دام

سلطان صدیقی

بھارت میں مہنگائی نے ایک بار پھر تیزی پکڑ لی ہے اور اشیائے ضروریہ جیسے دال ،تیل،پیاز،دودھ ،ہری سبزیوں کے دام بڑھتے لگے ہیں ۔جو ایک عام آدمی کے لئے بڑی پریشانی کا اشو بن چکا ہے اور مہنگائی 1.08فیصد ایک ماہ کے اندر بڑھ چکی ہے ۔یہ اعداد وشمار بھارت سرکار کے کنزیومر انڈیکس کے ہیں لیکن اس سے بھی اگر حقیقت جانیں تو گزشتہ کئی ماہ سے مہنگائی مجموعی طور پر 14 فیصد بڑھ چکی ہے۔ خوردنی تیل جیسے سرسوں ،ریفائنڈ کے دام ایک ماہ پہلے جو تھے اس میں اضافہ ہو کر 130 روپے 950 ایم ایل سے بڑھ کر 145 روپے ہو گیا ہے اور اب پچھلے ہفتے میں یہ دام تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو بوتل 165 روپے کی ملا کرتی تھی اب وہ 180 -185 روپے ہے ۔اب دالیں چاہے وہ کوئی بھی ہو 100 روپے سے پار ہو چکی ہیں ۔ارہر کی دال 160 روپے بک رہی ہے ۔ملکا مسور 140 روپے کلو ہے ۔اُرد اور لال مسور 100 سے 110 روپے فی کلو بک رہی ہیں ۔کھلا آٹا جو کبھی 26 یا 27 روپے تھا آج وہ 32 روپے فی کلو مل رہا ہے اور اس میں بھی اضافہ مل رہا ہے جو اچھی کوالٹی کا آٹا ہے وہ 42 روپے کلو تک ہے ۔برانڈ پیک آشیروار کنک وغیرہ کا پانچ کلو کا پیکٹ 260 سے 275 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔بیسن 130 روپے جو ملتا تھا وہ اب رمضا ن کی وجہ سے اس میں 10 سے 15 روپے تک کا اضافہ ممکن ہے ۔یہ ضروری چیزیں ہیں جن کے بغیر آدمی کے گھر کی کھانے کی تھالی مہنگی ہو رہی ہے ۔بڑھتی مہنگائی کا سیدھا اثر سب سے زیادہ درمیانہ طبقہ یا سب سے نچلے دیہاڑی والے طبقہ پر ہوتا ہے ۔آج بھی دیہاڑی مزدور کی 160 روپے اور پرائیویٹ سیکٹر میں نارمل چپراسی یا کام کاجی ورکرس کی تنخواہ 8 سے 13 ہزار کے درمیان ہے ۔جبکہ کچھ دفتروں میں ٹیکنیکل امپلائی کی تنخواہ 8 ہزار سے اوپر نہیں بڑھ پارہی ہے ۔لیکن مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اور یہ رقم 15 سے 20 دن تک چلتی ہے ۔مطلب صاف ہے’ آمدنی اٹھنی خرچہ پانچ روپیہ ‘یہاں یہ کہاوت فٹ بیٹھتی ہے ۔سرکار اپنے کم از کم مزدوری ہر تیسرے مہینے بڑھاتی ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر اس پر کبھی دھیان نہیں دیتا جو چلی آرہی ہے وہی ہے جس وجہ سے کام کاجی ورکر کو اپنا گھر چلانے کے لئے کئی کئی جگہ کام کرنا پڑتا ہے ۔

آج بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ماناجاتا ہے ۔مضبوط گھریلو کھپت ،پالیسی ساز اصلاحات اور تیزی سے بڑھتی معیشت یہ مقام حاصل ہونے کا دعویٰ کیاجاتا ہے مگر اقتصادی ترقی کے اعداد شمار کے تجزیہ میں مہنگائی کو کم کرنے یا اس میں ٹھہراؤ کا کوئی پہلو شامل نہیں کیا گیا ہے ۔یہ سوال اس لئے اہم ہے ایک طرف وکاس کی چمکتی تصویر پیش کی جارہی ہے دوسری طرف مہنگائی نےغریب آدمی کی حالت پتلی بنا دی ہے ۔جسے بھر پیٹ کھانا نہیں مل پارہا ہے ۔حکومت کی جانب سے پچھلے ہفتے جاری مہنگائی کے اعداد شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس برس کی شروعات مہنگائی میں اضافہ سے شروع ہوئی ہے اور دیش میں تھوک مہنگائی جنوری میں بڑھ کر 1.81فیصد پر جا پہنچی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کے دام میں 1 روپیہ 81 پیسے پر 100 روپے پہنچ گئی ہے ۔جبکہ یہ دسمبر 2025 میں 0.83فیصد تھی اس طرح خوردہ مہنگائی پچھلے ماہ بڑھ کر 2.75فیصد ہو گئی جس سے غذائی سامان اور ضروری چیزوں کے داموں نے ایک دم چھلانگ لگا دی ہے اور وہ آسمان چھوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔غور طلب ہے کہ مہنگائی کا اثر سب سے زیادہ غریبوں پر پڑتا ہے کیوں کہ ان کی آمدنی محدود ہوتی ہے ۔کھانا اور ایندھن اور صحت جیسی ضروری چیزوں پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے جس وجہ سے اس کا گھریلو بجٹ بگڑ جاتا ہے اس کے چلتے زندگی گزر بسر کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور خرید پاور کم ہونے لگتی ہے جس وجہ سے عام آدمی کو اپنے ضروری خرچوں کو ٹالنا پڑتا ہے اور اپنا کھانے پینے کا بجٹ پورا کرنا ہوتا ہے۔ 

موجودہ مودی سرکار میں خوردنی اشیاء کے دام ہر 15 دن میں بڑھتے آرہے ہیں لیکن عام آدمی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نظر نہیں آتا ہے اور نہ ہی مودی سرکار نے آدمدنی بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے ۔غذائی اجناس کے دام بڑھنا درمیانہ طبقہ کی آمدنی پر سیدھا اثر ڈال رہا ہے ۔اس وقت سبزیوں اور پھل اور مہنگائی سب سے زیادہ 6.78فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔اس مرتبہ رمضان کا آغاز ہونے جارہا ہے تو یہ چیزیں کم سے کم 4 سے 5 روپے مہنگی ملیں گی جس سے عام آدمی کی کھانے کی تھالی میں سبزیوں کی مقدار گھٹ جائے گی۔ مہنگائی میں اتار چڑھا بتاتا ہے ترقی میں ٹھہراؤ اور برابری توازن بنائے رکھنے کی ضرورت ہے لیکن سرکار نے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔مودی سرکار نے کچھ جی ایس ٹی کم کیا تھا جس سے امید بڑھی تھی کہ غذائی اجناس اور دودھ جیسی ضروری چیزوں کے دام گھٹ جائیں گے لیکن تھوک کاروباریوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور پرانی جی ایس ٹی پر ہی سامان بیچاجارہا ہے ۔اور دوکاندار چور دروازے سے 18 فیصد جی ایس ٹی کے تحت مہنگی ہوئی چیزوں کو بیچ رہے ہیں ۔دودھ کے دام جوں کے توں بنے ہوئے ہیں کل ملا کر مہنگائی تیزی سے بڑھی ہے اس نے غریب آدمی کے گزربسر میں دشواری کھڑی کر دی ہے سرکار کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کو کم کرنے پر دھیان دے اور تمام کاروباریوں پر لگام کسے تاکہ وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عام آدمی کو سستے دام پر چیزیں مہیا کرائے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے دیش میں جو چیز مہنگی ہو جاتی ہے وہ کم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے یہ ہے بے چارے انسان کی لاچاری ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟