بھارت کی خارجہ پالیسی اور مودی جی کا اسرائیل دورہ!ظالم کی حمایت کرکے ہندوستان وشوگرونہیں بن سکتا
عبدالغفارصدیقی
ہمارے وزیر اعظم کا حالیہ دورہ اسرائیل سرخیوں میں ہے۔ وہاں جا کر جس انداز میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، وہ موضوعِ گفتگو بن چکا ہے۔ اسرائیل کو‘‘فادر لینڈ’’کہنا ایک ایسا جملہ ہے جس نے بہت سے ذہنوں میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ اس تعبیر کی اصل معنویت اور اس کے پس منظر کی وضاحت یقیناً خود وزیر اعظم ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو کس نسبت اور کس رشتے سے یہ مقام دے رہے تھے۔
انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ اسی دن پیدا ہوئے تھے جس دن بھارت نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ اس تقارن کو انہوں نے ایک علامتی نسبت کے طور پر پیش کیا، حالانکہ اس دن دنیا کے مختلف حصوں میں بے شمار بچے پیدا ہوئے ہوں گے۔ اس ذاتی نسبت کو قومی تعلق سے جوڑنے کی معنویت کیا ہے، یہ بھی ایک قابلِ غور سوال ہے۔
تقریر کے دوران قدیم روابط، مذہبی حوالہ جات، حتیٰ کہ ہندو مذہبی متون میں اسرائیل کے تذکروں کا ذکر کیا گیا۔ ہنوکا اور دیوالی کا تقابل کرتے ہوئے ثقافتی یک رنگی کا تصور پیش کیا گیا اور دونوں قوموں کو تاریخی رشتوں میں بندھا ہوا دکھانے کی کوشش کی گئی۔ اسی موقع پر حماس کے حملے میں مارے گئے اسرائیلیوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا گیا اور تلمود کی اس تعلیم کا حوالہ دیا گیا کہ‘‘ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے۔’’
بطور ایک بھارتی شہری کسی کو یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ وزیر اعظم نے اسرائیل کا دورہ کیوں کیا؟۔ بھارت اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، دفاعی اور تجارتی معاہدے موجود ہیں، اور ہزاروں بھارتی وہاں کام کرتے ہیں۔ لیکن ایک بھارتی مسلمان کی حیثیت سے بعض جملوں نے دل کو ضرور زخمی کیا۔ اس لیے کہ بھارت کے مسلمان اور انصاف پسند غیر مسلم فلسطین میں جاری مظالم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
دورہ اگر سیاسی، تجارتی اور دفاعی معاملات تک محدود رہتا تو شاید یہ تکلیف پیدا نہ ہوتی۔ لیکن یک طرفہ طور پر صرف ایک فریق کے دکھ کا ذکر کرنا، اور دوسرے فریق کی طویل اذیت کو نظر انداز کر دینا — یہ طرزِ اظہار انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ محسوس نہیں ہوتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم اپنی قدیم متوازن خارجہ پالیسی سے دور تو نہیں جا رہے؟
جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے سامنے صرف سرحدوں کا سوال نہیں تھا، بلکہ اخلاقی شناخت کا سوال بھی تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے خارجہ پالیسی کی جو بنیاد رکھی، وہ محض سفارتی حکمتِ عملی نہ تھی بلکہ ایک اخلاقی اعلان تھا۔ 1947ء میں اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے خلاف ہندوستان نے ووٹ دیا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ اس وقت دنیا بڑی طاقتوں کے دباؤ میں تھی، مگر ہندوستان نے اصولی مؤقف اختیار کیا کہ کسی قوم کی سرزمین اس کی مرضی کے بغیر تقسیم نہیں کی جا سکتی۔
1950ء میں ہندوستان نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم ضرور کیا، مگر مکمل سفارتی تعلقات قائم نہ کیے۔ اس کے برعکس 1974ء میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا گیا۔ 1988ء میں جب فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان ہوا تو ہندوستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسے تسلیم کیا۔ یہ فیصلے نہرو کے بعد اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے ادوار میں بھی برقرار رہے۔ غیر وابستہ تحریک میں ہندوستان ہمیشہ فلسطینی حقِ خود ارادیت کا وکیل بنا رہا۔
یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ 1990ء کی دہائی کے بعد سب کچھ یکسر بدل گیا۔ 1992ء میں پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے، مگر فلسطین کی حمایت ترک نہیں کی۔ اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت (1998ء تا 2004ء) میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات میں وسعت آئی، 2003ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون ہندوستان آئے، مگر اسی زمانے میں یاسر عرفات کا خیر مقدم بھی ہوا اور اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے حق میں ہندوستان کی رائے برقرار رہی۔ یہ ایک توازن تھا — ایک طرف قومی مفاد، دوسری طرف اصولی روایت۔
اب سوال یہ ہے کہ نریندر مودی کے دور میں کیا بدلا؟2017ء میں نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے۔ اس سے پہلے بھارتی وزرائے اعظم اسرائیل اور فلسطین دونوں کا دورہ ایک ساتھ کیا کرتے تھے تاکہ توازن کا تاثر برقرار رہے۔ مگر مودی نے اس روایت کو توڑ دیا۔ بعد میں فلسطین کا علیحدہ دورہ ضرور ہوا، لیکن سفارتی علامتیں بڑی معنی خیز ہوتی ہیں۔ سیاست میں اشارے بھی پیغام ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی فکری بنیاد ہندو قومیت پر ہے۔ اس کا تصورِ قومیت مذہبی و تہذیبی شناخت کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ دوسری جانب صہیونی تحریک بھی ایک مذہبی و نسلی شناخت کی بنیاد پر ریاست کے قیام کا نظریہ پیش کرتی رہی ہے۔ کئی مبصرین نے اس نظریاتی مماثلت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دونوں تحریکیں اپنے اپنے اکثریتی مذہبی تشخص کو ریاستی طاقت کا محور سمجھتی ہیں۔ اگرچہ دونوں کی تاریخی اور جغرافیائی صورت حال مختلف ہے، لیکن فکری قربت کے تاثر سے انکار ممکن نہیں۔
لیکن کیا مودی حکومت اسرائیل سے تعلقات صرف نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر مضبوط کر رہی ہے؟ یا اس کے پیچھے دیگرعوامل اور وجوہات بھی کارفرما ہیں؟میں سمجھتا ہوں کہ نظریاتی اور فکری ہم آہنگی ،مسلمانوں کے تئیں صیہونیت اور فاشزم کی مشترکہ ذہنیت کے علاوہ امریکہ کی خوشنودی کا حصول ،چین اور پاکستان کے تناظر میں دفاعی معاہدے،اور اسرائیل کی جدید زراعتی ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی ان تعلقات کی معقول وجوہات ہوسکتی ہیں۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس نئی قربت کا کوئی منفی تاثر ہندوستانی مسلمانوں پر پڑ رہا ہے؟ظاہر ہے اس کا جواب ہاں میں ہے ۔اس لیے کہ ہندوستانی مسلمان فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرتے ہیں ،اسرائیلی پالیسیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ہندوستان کے بیس کروڑ سے زائد مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آئین کی تشکیل میں کردار ادا کیا، اور آج بھی ہر شعبے میں موجود ہیں۔ملک کی بدلتی خارجہ پالیسی سے مسلمانوں کا فکر مند ہونافطری ہے۔ اگر خارجہ پالیسی کا رخ اس انداز میں بدلے کہ داخلی سطح پر ایک طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، تو یہ محض سفارتی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ سماجی ہم آہنگی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
ہندوستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ہندوستانی مسلمان کیا کریں؟میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے، جذباتی ردعمل کے بجائے آئینی راستہ اختیار کریں۔ احتجاج ہو تو پرامن ہو، مطالبات ہوں تو آئینی زبان میں ہوں۔ دوسرا، سیاسی شرکت بڑھائیں۔ ووٹ کی طاقت جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ تیسرا، تعلیمی و معاشی میدان میں مضبوطی حاصل کریں تاکہ کوئی بھی بیانیہ انہیں کمزور ثابت نہ کر سکے۔ چوتھا، بین المذاہب مکالمہ بڑھائیں۔ ہندو، سکھ، عیسائی — سب اس ملک کے شہری ہیں۔ باہمی اعتماد ہی کسی بھی تقسیم کو ناکام بناتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری حکومت پر یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ خارجہ پالیسی میں قومی مفاد اہم ہے، مگر داخلی اتحاد اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تکثیریت ہے۔ اگر دنیا میں ہندوستان کو ایک عظیم جمہوریت کے طور پر پیش کرنا ہے تو اسے اپنے اندر ہر طبقے کے اعتماد کو مضبوط رکھنا ہوگا۔تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصولی مؤقف اور عملی مفاد میں توازن ممکن ہے۔ نہرو کے دور میں بھی عالمی دباؤ تھا، واجپئی کے زمانے میں بھی علاقائی چیلنج تھے، مگر فلسطین کی حمایت اور اسرائیل سے تعلقات — دونوں ساتھ چلتے رہے۔ آج بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ظالم کی حمایت کرکے ہم وشو گرو نہیں بن سکتے ۔اسرائیل کسی کا خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔دنیا میں یوں تو بہت سے خود غرض ممالک ہیں مگر اسرائیل ان میں سرفہرست ہے ۔
سوال کسی ایک دورے کا نہیں، بلکہ اس سمت کا ہے جس طرف ملک بڑھ رہا ہے۔ کیا ہم طاقت کی سیاست کو اخلاق کی سیاست پر غالب آنے دیں گے؟ یا ہم وہی ہندوستان بنے رہیں گے جو مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتا تھا، اور اپنے اندر سب کو ساتھ لے کر چلتا تھا؟فیصلہ صرف حکومت کا نہیں، عوام کا بھی ہے۔ اگر ہم آئین، جمہوریت اور باہمی احترام کو مضبوط رکھیں گے تو کوئی بھی خارجہ پالیسی داخلی تقسیم کا سبب نہیں بن سکے گی۔ہندوستان کی اصل پہچان اس کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔ اسے برقرار رکھنا ہی سب سے بڑا قومی مفاد ہے۔

Comments
Post a Comment