باکردار مسلمان ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری
عفیف احسن
ہندوستان کے موجودہ تناظر میں اکثر یہ غلط بیانی کی جاتی ہے کہ اسلام سے وفاداری اور وطن (ہندوستان) سے وفاداری دو متصادم جذبے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اسلامی تعلیمات اور ہندوستانی دستور دونوں ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں جہاں ایک شخص بیک وقت ایک بہترین مومن اور ایک مثالی محب وطن شہری بن کر زندگی گزار سکتا ہے۔
اسلامی روایت میں’’حب الوطن من الایمان‘‘ (وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے) ایک ایسی بنیاد ہے جو مومن کے کردار کو جلا بخشتی ہے۔ ایک ہندوستانی مسلمان کے لیے یہ ملک محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ اس کے آباؤ اجداد کی سرزمین، اس کی تاریخ کا امین اور اس کے مستقبل کا ضامن ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ جو انسانوں کا شکر گزار نہیں، وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ جس زمین کا ہم اناج کھاتے ہیں اور جہاں کی فضاؤں میں ہم سانس لیتے ہیں، اس کی ترقی کے لیے مخلص رہنا دراصل ایک دینی تقاضا ہے۔
ہندوستان صوفیاء اور اولیاء کی سرزمین ہے جنہوں نے یہاں کی کثیر الثقافتی مٹی میں انسانیت اور محبت کے بیج بوئے۔ ایک مسلمان کے لیے اپنے ملک کی مٹی سے لگاؤ اس کی روحانی شناخت کا حصہ ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو ’’عہد‘‘کی پاسداری کا سختی سے حکم دیتا ہے۔ جب ایک مسلمان ہندوستان میں رہتا ہے، تو وہ ریاست کے ساتھ ایک سماجی اور آئینی معاہدے میں بندھا ہوتا ہے۔قرآن کریم کا واشگاف اعلان ہے’’اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو‘‘ (سورۃ المائدہ: ۱)۔ ہندوستانی دستور کی وفاداری دراصل اسی قرآنی حکم کی تعمیل ہے۔
اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ مسلمان جس ملک کے شہری ہوں، وہاں کے انتظامی قوانین کی پابندی ان پر لازم ہے، بشرطیکہ وہ قوانین انہیں معصیت (گناہ) پر مجبور نہ کریں۔ چونکہ ہندوستانی آئین (آرٹیکل 25) ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے یہاں مذہب اور ملک کے قانون کے درمیان کوئی ٹکراؤ باقی نہیں رہتا۔
نبی کریمؐ نے پڑوسیوں کے حقوق پر اس قدر زور دیا ہے کہ صحابہ کرام کو گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں حصہ دار نہ بنا دیا جائے۔ ایک کثیر مذہبی ملک میں یہ تعلیمات ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ کی بنیاد بنتی ہیں۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسان (خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں) محفوظ رہیں۔
عبادت صرف نماز و روزہ تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کی مخلوق کی خدمت بھی عبادت ہے۔ ملک میں تعلیمی، معاشی اور سماجی بہتری کے لیے کام کرنا ’’خیر الناس من ینفع الناس‘‘ (بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے) کی عملی تصویر ہے۔ یہ تصور کہ اسلام اور حب الوطنی ایک دوسرے کی ضد ہیں، ایک منطقی مغالطہ ہے حالانکہ امانت داری ایک دینی فریضہ ہے جبکہ ٹیکس کی ادائیگی اور سرکاری املاک کی حفاظت ایک شہری ذمہ داری ہے جسکے نتیجہ میں مستحکم اور خوشحال معیشت کا حصول ہوتا ہے۔ اسی طرح عدل و انصاف ایک دینی فریضہ ہے جبکہ مظلوم کا ساتھ دینا اور قانون کا احترام ایک شہری ذمہ داری ہے جسکے نتیجہ میں پرامن اور منصفانہ سماج کا قیام ہوتا ہے۔ حصولِ علم ایک دینی فریضہ ہے جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور آرٹ میں مہارت ایک شہری ذمہ داری ہے جسکے نتیجہ میں ملک کی عالمی سطح پر ترقی عمل میں آتی ہے۔ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے، جہاں مذہبی شناخت قومی شناخت کو کمزور نہیں بلکہ توانا بناتی ہے۔
ایک ’’اچھا مسلمان‘‘ اپنے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ایک شخص دیانتدار، رحم دل اور قانون کا پابند ہے، تو وہ بیک وقت اپنے رب کا بھی فرمانبردار ہے اور اپنے ملک کا بھی وفادار ہوگا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود (اے ایمان والو۔ اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو)۔ (سور? المائدہ: 1)
اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ ہے۔ ایک مسلمان جہاں اپنے رب کا بندہ ہے، وہیں وہ اس معاشرے اور ملک کا ایک ذمہ دار شہری بھی ہے جہاں وہ رہتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جس مٹی نے ہمیں پناہ دی، جس کا اناج ہم کھاتے ہیں اور جہاں ہم امن و سکون سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اس زمین سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ ہمارے نبی کریمؐ جب مکہ سے ہجرت کر رہے تھے، تو آپؐ نے مکہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا تھا:’’اے مکہ۔ تو مجھے تمام شہروں سے عزیز ہے، اگر تیرے لوگ مجھے نہ نکالتے تو میں کہیں اور نہ جاتا۔‘‘ یہ ایک وطن سے محبت کا فطری اور دینی اظہار تھا۔
ہندوستان کا دستور ہمیں اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہمارا ملک کے ساتھ ایک ’’عہد‘‘ ہے کہ ہم اس کے قوانین کی پاسداری کریں گے۔ نبی کریمؐ نے مدینہ منورہ میں’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے ذریعے مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے کا جو نمونہ پیش کیا، وہ آج کے جمہوری نظام میں بقائے باہم کی سب سے بڑی مثال ہے۔
ملک کے وسائل، سڑکیں، بجلی، پانی اور سرکاری املاک یہ سب ہماری اجتماعی امانت ہیں۔ ان کو نقصان پہنچانا یا قانون کی خلاف ورزی کرنا شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان (اور انسان) محفوظ رہیں ---‘‘
ہمارا دین ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم علم حاصل کریں۔ جب ایک مسلمان نوجوان ڈاکٹر، انجینئر یا سائنسدان بن کر ملک کی خدمت کرتا ہے، تو وہ دراصل اسلام کی سربلندی کا باعث بنتا ہے۔ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، غریبوں کی مدد کرنا اور ملک میں امن و امان قائم رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دینا صدقہ جاریہ ہے۔ ہمارا اخلاق ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں کہ اگر ایک مسلمان ایسا ایماندار اور محب وطن ہے، تو اس کا دین کتنا عظیم ہوگا۔
ہمیں اس منفی پروپیگنڈے کا جواب اپنے عمل سے دینا ہے کہ ایک مسلمان اپنے ملک کا وفادار نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے، اسلام ہمیں’’خیرخواہی‘‘ سکھاتا ہے۔ آج کے دور میں ایک اچھا مسلمان اور ذمہ دار شہری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں صفِ اول میں رہیں، سوشل میڈیاپر نفرت انگیزی کے بجائے امن اور سچائی کو فروغ دیں، فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ پڑوسیوں کو اسلام کا حقیقی چہرہ نظر آئے۔

Comments
Post a Comment