کرشی بھون قدیمی مسجد پر خطروں کے بادل

سید عین علی حق

 دارالحکومت دہلی میں ترقیاتی تعمیرات 'سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ' کے سبب کرشی بھون مسجد کے تعلق سے اب صورتحال تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 19 جنوری 2026 کو سی پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے کرشی بھون اور شاستری بھون کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر دستاویزات میں مسجد کو ہٹائے جانے والی عمارتوں کی فہرست میں واضح طور پر شامل تو نہیں کیا گیا ہے ۔ لیکن ٹینڈر کے ساتھ منسلک نقشے میں مسجد کو مجوزہ عمارت کے نئے نقشے میں اس کی اصل جگہ پر نہیں دکھایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس ٹینڈر میں بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 فروری ہے ۔ سی سی ایس 4 اور 5 منصوبوں کا تخمینہ 3,006.07 کروڑ روپے ہے اور اسے 24 ماہ میں مکمل کیا جانا ہے ۔ واضح رہے کہ کرشی بھون احاطے میں واقع قدیمی مسجد میں سرکاری ملازمین نماز ادا کرتے ہیں۔

راجدھانی دہلی میں مذہبی مقامات کو منہدم کیے جانے کا سلسلہ زوروں پر ہے ۔ متعدد مذہبی مقامات مثلاً مساجد، درگاہیں اور دیگر مذہبی عمارتیں منہدم کی جا چکی ہیں۔ اب کرشی بھون احاطے میں واقع قدیمی مسجد سرخیوں میں ہے ۔ جس پر خطروں کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسی مسجد کے حوالے سے کچھ تفصیلات یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 

کرشی بھون احاطے میں واقع قدیمی مسجد 1970 کے دہلی ایڈمنسٹریشن گزٹ میں شائع شدہ وقف املاک کی فہرست گزٹ کی تاریخ 16 اپریل 1970 درج ہے ۔ گزٹ کے صفحہ نمبر 308 پر شمارہ نمبر 20 پر 'کرشی بھون مسجد' کا تذکرہ ہے ۔ البتہ کرشی بھون مسجد آثار قدیمہ میں شامل نہیں ہے ۔

دہلی وقف بورڈ کی وکیل فرحت جہاں رحمانی ایڈوکیٹ نے یو این آئی کے نمائندے سے 'کرشی بھون مسجد' کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'مسجد کرشی بھون کے متعلق کسی بھی قسم کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے سابقہ پس منظر میں بتایا کہ میں نے 2021 میں دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ جس میں کل چھ مساجد شامل تھیں۔ جس کے بعد 22جولائی 2024 کو دہلی ہائی کورٹ نے آرڈر جاری کیا۔ جس میں دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ان مساجد کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ لاحق نہیں ہے ، جسٹس پروشندر کمار نے حکم نامے میں کہا تھا کہ اگر 'سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ' سے کوئی خطرہ محسوس ہو تو فوراً ہائی کورٹ پہنچ جائیں'۔

ایڈوکیٹ فرحت جہاں نے مزید بتایا کہ 'ان چھ مساجد میں 'مسجد ضابطہ گنج'، انڈیا گیٹ، 'جامع مسجد نیو دہلی'، نزد پارلیمنٹ ہاؤس، مسجد سنہری باغ روڈ، ادیوگ بھون، مسجد کرشی بھون احاطہ، رفیع مارگ، مسجد وائس پریسیڈنٹ ہاؤس شامل ہیں۔ جبکہ مزار سنہری باغ، موتی لال نہرو مارگ، کو 'سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ' کے تحت 2023 میں ہی منہدم کردیا گیا'۔

ایڈوکیٹ فرحت جہاں نے دہلی وقف بورڈ کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'فی الحال میرے ہاتھ بحیثیت وکیل بندھے ہوئے ہیں، کیوں کہ گزشتہ 26 اگست 2023 سے کوئی بورڈ باضابطہ کام نہیں کر رہا ہے ۔ کیوں کہ سابقہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عظیم الحق 31 دسمبر 2025 میں ریٹائر ہوگئے تھے ۔ ان کے بعد سی ای او کی تقرری نہیں کی گئی ہے ۔ اس لیے وقف بورڈ بغیر کسی سربراہ کے کام کر رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے اہم فیصلے لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے ۔ کیوں کہ آگے کی کارروائی کرنے کے لیے مجھے دہلی وقف بورڈ سے اجازت نامے کی ضرورت ہوگی۔

ایڈوکیٹ فرحت جہاں نے کرشی بھون احاطے میں واقع قدیمی مسجد کے حوالے سے بتایا کہ میں پوری تحقیق اور تیاریوں کے ساتھ عدالت جاؤں گی، کیوں کہ ہمارا موقف کافی مضبوط ہے ، کرشی بھون مسجد وہ عبادت گاہ ہے ، جسے سو برس سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ 'کرشی بھون مسجد' کرشی بھون کی سرکاری عمارت سے پہلے سے موجود ہے '۔

دہلی وقف بورڈ کے سابق چیرمین امانت اللہ خان نے یو این آئی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'جب ہم نے عرضی دائر کی تھی تو مرکزی حکومت نے عدالت میں کہا تھا کہ مسجد کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ اب آگے کی حکمت عملی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوسکتا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کی تیاری میں دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر عبد الرحمن نے بھی اہم تفصیلات بتانے میں مدد کی۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟