ایران اسرائیل جنگ کے دوران فرقہ واریت کابھڑکتا تنور
عبدالغفارصدیقی ایران اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کو ایک عشرہ گزرچکا ہے۔زیر نظر مضمون میں امریکہ و اسرائیل کو ہم صیہونیت کے مشترک نام سے مخاطب کریں گے۔جنگ کے بادل تو کئی سال سے منڈرارہے تھے،بلکہ یوں کہئے کہ 1979میں امام خمینی کے ذریعہ لائے گئے انقلاب کے بعد سے ہی صیہونی دنیا ایران کے خلاف ہوگئی تھی۔اس کی مخالفت کی وجہ صرف اسلام دشمنی تھی۔اسلام کے دشمن ہر اس اجتماعی جدوجہد،تحریک اور نظریہ کے خلاف ہیں جو اسلامی نظام کی بات کرتا ہے،جو انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکامات کے نفاذ کی کوشش کرتا ہے۔ان کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ کس اسلام سے نسبت رکھتے ہیں۔یعنی اسلام کے نام پر موجود فرقوں اور جماعتوں میں سے کس کے پیرو ہیں۔ان کے نزدیک اگر کوئی اجتماعی تحریک اسلامی نظام سیاست،اسلامی نظام عدالت،اسلامی نظام معیشت و معاشرت کی بات کرتی ہیں اور کوئی پرامن سماجی انقلاب لاتے ہیں تو صیہونیت کو بالخصوص اور مغربی دنیا کو بالعموم قبول نہیں ہے،ہمارے ملک میں بھی ایک گروہ اس قبیل سے تعلق رکھنے والا موجود ہے۔وہ کسی حد تک یہ تو گوارہ کرسکتے ہیں کہ مسلمان پانچ وق...